kitaab ghar ka logo





 


تعارف ابن انشاؔ (پیدائش۱۹۲۷، وفات۱۹۷۸) شاعر اور مزاح نگار ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد قیصر تھا۔ وہ ۱۹۲۷ء؁ کو لدھیانہ ( بھارت) میں پیدا ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز ہوچکا تھا۔ ۱۹۴۵ء؁ میں 'انجمن ترقی پسند مصنفین ‘کے ممبر بنے ۔ قیام پاکستان سے قبل بحیثیت مترجم آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ ۱۹۴۷ء؁ میں آزادی ملنے کے بعد انہوں نے بھارت کی بجائے پاکستان کو اپنا مسکن بنایا۔ اس وقت ان کی عمر صرف بیس برس کی تھی۔ پاکستان منتقل ہو کر انہوں نے صحافت کوپیشہ بنایا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کیا اور کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ کراچی میں قیام کے دوران ابن انشاء کو مولوی عبدالحق جیسے محقق سے فیض اٹھانے کا موقع ملا۔ ابن انشا نے سرکاری ملازمت کی، کچھ عرصہ نیشنل سنٹر کے ڈائریکٹر رہے اس کے علاوہ روزنامہ 'امروز‘‘ کراچی میں 'خانہ بدوش‘‘ کے قلمی نام سے قلم کاری کی اور 'روزنامہ جنگ‘‘ کے لئے 'حرف و حکایت‘‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھے۔ سرطان جیسے موذی مرض کا شکار ہوکر بغرض علاج لندن گئے اور وہیں وفات پائی۔ ابن انشا جتنے اچھے شاعر تھے اُتنے ہی اچھے ادیب اور اس سے زیادہ اچھے اور محب وطن انسان تھے۔ان کی طنزیہ و مزاحیہ تصنیف ' اردو کی آخری کتاب‘‘ اور 'خمار گندم ‘‘ کو ظریفانہ ادب میں خصوصی مقام حاصل ہے۔ اس میں آپ نے عوامی اورقومی مسائل کومزاح کی آڑ میں بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔اگرچہ آپ کا ادبی دور ۶۰ اور ۷۰ کی دہائی کا رہا ہے لیکن پاکستان کی بدقسمتی کے اس دور کے مسائل میں سے بیشتر آج بھی جوں کے توں موجود ہیں اسلئے ابن انشا کے مضامین آج بھی ویسے ہی تازہ محسوس ہوتے ہیں جیسے اس دور میں۔ابن انشا کا سب سے پہلا سفرنامہ’ ’چلتے ہو تو چین کو چلئے‘ کے نام سے ۱۹۶۶ء؁ میںجنگ اخبار میں قسط وار چھپتا رہا اور اسقدر مقبول ہوا کہ بعد میں قارئین کے اصرار پر 'لاہور اکیڈمی‘‘ نے اسے کتابی شکل میںچھاپا۔ ان کے سفر ناموں میںنہ تو محض مصنف کے شناساووں کے ناموں اور جگہوں کی معلومات کی بھر مار ہے اور نہ ہی وہاں ملنی والی حسیناوں کے التفات کے قصے ،بلکہ ابن انشا نے خود کو کسی بھی عام آدمی کی طرح پیش کیا ہے جو وہاں کی زبان ، حالات اور محل وقوع سے نا آشنا ئی کے باعث اورپیسے بچانے اور سستے ہوٹل ڈھونڈنے کے چکر میں دوران قیام عجیب عجیب صورتحال سے دو چار ہو تا ہے۔ اس لےئے ان کے سفر ناموں کو عوامی سطح پر بہت پیرائی ملی۔



Mazameen Ibn-e-Insha is a collection of some articles, columns, travelogues (safernamay) and translation work by very famous urdu literature figure Ibn-e-Insha, who was a great person, a broadcaster, translator, colmnist, tourist and best humour writer of urdu language. All of his travelogues (safer namay) are with a common man view. People love to read his writings and safer nama. He has a very unique style of writing with the touch of humour. His book Urdu ki Akhri Kitaab and Khumar-e-Gandum are the master piece of urdu humour. Articles included in this book, are: Zara phone ker loon? Jantari naye saal ki, Aao husn-e-yaar ki batain karain, Suami ji London mein, Kele Dukele ka Khuda Hafiz, Daant ka derd, Aghaz-e-Tarikh-e-Inglistan ka, Bimar ka haal achha hay, Nazer sani ke bad, Germany, Afghanistan, Urdu ki Akhri Kitab, Dard-e-Mushtarik, Baniea ka ishq

 ان کی دیگر تصانیف میںتین عدد شعری مجموعے ، 'چاند نگر‘، 'اس بستی کے اک کوچے میں‘، 'دل وحشی‘ اور چار سفر نامے 'آوارہ گرد کی ڈائری‘' ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں‘ ، 'چلتے ہو تو چین کو چلئے‘ اور' نگری نگری پھرا مسافر‘کے علاوہ ان کے خطوط پر مشتمل ایک کتاب 'خط انشأ جی کے‘ بھی شامل ہے۔ لندن میں انکی وفات کے وقت انکا آخری سفر نامہ ابھی زیر طباعت تھا جسکا نام ان کے اپنے ہی ایک شعر '؂نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا ‘پر 'نگری نگری پھرا مسافر‘ رکھا گیا ۔ ابن انشاء نے بہت سی انگریزی کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ خاص طور پر امریکن افسانہ نگار ایڈگرایلن پو کو اردو دنیا سے متعارف کروایا۔ ابن انشاء کی تحریر کی نمایاں خصوصیات میں طنز و مزاح، پیروڈی کا انداز، وسعت معلومات، سیاسی بصیرت، غیر ملکی زبانوں سے استفادہ اور صورت واقعہ سے مزاح کشید کرنا بطور خاص قابل ذکر عناصر ہیں۔ ان کے بارے میں مشتاق احمد یوسفیؔ نے کیا خوب کہا ہے کہ ' بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے ۔ انشاجی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔‘‘ ابن انشا بہت بہادر انسان تھے ، اپنے آخری دنوں میں جب وہ لندن کے ایک ہسپتال میں اپنی بیماری سے لڑ رہے تھے تو انھوں نے ایک کالم ' بیمار کا حال اچھا ہے ‘‘ کے عنوان سے لکھا جسے پڑھ کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ شخص اپنی زندگی کے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ مضمون زیر نظر کتاب میں ادارہ نے خاص طور پر آپ کے لئے شامل کیا ہے۔

   This book is available in 2 Formats:    A-  .GIF Images   &   B-  PDF File

Click Here to Read online or Download in PDF Format for free.
You can read online either on Unicode or Image Format
while you download your copy of the book.





[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ Forum ]      [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)