|
حیاتِ ولی
عاشق رسول
حضرت صوفی بندےحسن خان دام برکاتہ
آپ نےعلوم ظاہری و باطنی اپنےوالد گرامی سید حسن کبیر الدین سےہی حاصل کئےاور والد گرامی کےہاتھ پر ہی بیعت کی۔ ریاضت‘ عبادت‘ ذکرو فکر اور یادِالٰہی میں بہت عرصہ مشغول رہےجب آپ ہر طرح سےکامل ہو گئےتو والد گرامی نےآپ کو خرقہ خلافت سےشاد کام کیا۔ آپ تبلیغ اسلام کیلئےجموں و کشمیر کےعلاوہ بہت سےدیگر علاقوں میں بھی گئی۔ واپسی پر اوچ شریف جانےکی بجائےآپ لاہور میں ٹھہر گئی۔ لاہور شہر کےانتہائی مشرق میں ایک غیرآباد جگہ (جسےآج کل محمود بوٹی بند کہا جاتا ہی) کو اپنا مسکن بنایا آپ کافی جلالی بزرگ تھی۔ دنیا کی نعمتوں سےبےنیاز اللہ کےعطاکردہ رزق پر اکتفا کرتےاورصابر شاکر ہو کر دین اسلام کی تبلیغ میں مشغول رہتی۔ حالانکہ آپ اپنی ولایت کو مخفی رکھنا چاہتےتھےلیکن نہ روشنی کو روکا جاسکتا ہےاور نہ ہی خوشبو پر قابو پایا جاسکتا ہےچنانچہ دور نزدیک سےلوگ آپ کی طرف کھینچےچلےآنےلگی۔ آستانےپر آنےوالوں میں غریبوں‘
بےکسوں کےعلاوہ شہر کےقابل ذکر امراءبھی شامل تھی۔ انہی آسودہ حال عقیدت مندوں نےرحلت کےبعد آپ کا شایان شان مقبرہ تعمیر کروایا۔ زندگی میں آپ شیر پر سواری کرتےاورسانپ کو چھڑی کےطور پر استعمال کرتےتھی۔ یہی وجہ ہےکہ پردہ فرمانےکےبعد شیر اور سانپ کو آپ کی قبر کےدائیں بائیں دفن کر دیا گیا۔ جن کےمدفن کےنشان آج بھی موجود ہیں۔ لوگوں نےپہلےاور رحلت کےبعد بھی آپ کو کئی مرتبہ شیر پر سواری کرتےاور سانپ کو ہاتھ میں پکڑےہوئےدیکھا۔ آپ کا وصال 21 رمضان المبارک 825ھجری کو لاہور میں ہی ہوا اور اپنےآستانےمیں ہی آپ دفن ہوئی۔
یہ مختصراً حالات زندگی ہیں ان بزرگوں کےجن کےسپرد حضرت سید اسمٰعیل شاہ بخاری نےاپنےمرید حضرت صوفی بندےحسن خان کو ازخود فرمایا تھا۔ مرشد کےحکم پر آپ نےحضرت شاہ گوہر پیر کےدربار پر ہر جمعرات کو جانا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ ان سےاتنی الفت ہو گئی کہ اگر کسی وجہ سےمزار پر نہ جانا ہوتا تو وہ خود بلا لیتی۔ آپ جب ان کےمزار شریف پر جاتےتو باقاعدہ ان سےباتیں ہوتیں۔ جلد نہ ملنےکےبارےمیں شکوےشکایتیں ہوتیں۔ ابتدا میں آپ نےچالیس جمعرات کا چلہ بھی کیا۔ جب چالیسویں مرتبہ آپ کی دربار پر حاضری متوقع تھی تو اس روز لاہور میںاس قدر زبردست طوفان بادباداں آیا کہ آپ کا دربار پر جانا تقریباً ناممکن نظر آنےلگا لیکن آپ کو اس بات کا شدت سےاحساس تھا کہ حضرت شاہ گوہر پیر ان کا امتحان لینا چاہتےہیں انہوں نےبھی ہر صورت دربار پر حاضر ہونےکی جستجو کی۔ جب آپمقررہ وقت پر دربار شریف تک جا پہنچےتو حضرت شاہ گوہر پیر اپنےدربار کی دھلیز پر کھڑےآپ کو دیکھ کر مسکرا رہےتھےاس کےساتھ ہی انہوں نےفرمایا ہم شدید طوفان کےذریعےتمہارا راستہ روک کر تمہاری آزمائش کر رہےتھی۔ تم آزمائش میں پورےاترےہمارےپاس تمہارےلئےجو کچھ ہےوہ ہم تمہیں عطا کرتےہیں۔
آپ کا فرمانا تھا کہ آپ کو کشف قبر اور دور نزدیک بیٹھےہوئےلوگوں کو دیکھنی‘ بلانےپر ملکہ بھی حاصل ہو گیا۔ سورة مزمل کےعامل کی حیثیت سےجنات۔ چڑیلوں اور بھوت پریت کو نکالنےمیں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ لوگ آپ کےآستانےپر آتےاور دنیا کےکسی بھی حصےمیں بیٹھےہوئےآسیب زدہ بیمار شخص کا علاج کرواتے جب تندرستی کی خبر آتی تو خوشی خوشی گھروں کو لوٹ جاتی۔ خلق خدا کی خدمت کیلئےآپ کےپاس بہت سےموکل بھی تھےجو آپ کا ہر حکم بجا لاتی۔
میں نےانٹرویو کےدوران جب ان سےسوال کیا کہ آپ نےفرمایا کہ آپ کئی بار حضرت شاہ گوہر پیر کےمزار پر کئےلیکن ان کی عدم موجودگی کےباعث واپس لوٹ آتی۔ کیا اللہ کےنیک بندےقبروں سےنکل جاتےہیں۔ اگر ایسا ہےتو وہ کس طرح قبر سےنکل جاتےہیں۔ جبکہ ان پر درجنوں مٹی پڑی ہوتی ہی۔
اس پر آپ نےفرمایا کہ اللہ کےنیک بندوں کیلئےقبر میں کوئی قید نہیں جب وہ قبر
میں ہوتےہیں تو قبر بےحد حساب وسیع اور جنت کا باغ بن جاتی ہی۔ یہی وجہ ہےکہ اللہ
کےنیک بندےاپنی قبر میں اسی طرح اللہ کی عبادت ریاضت کرتےہیں جس طرح وہ اپنی زندگی
میں کیا کرتےتھی۔ دنیا میں تو دنیا والوں کی حاجت روائی وقت لےلیتی ہےلیکن
مرنےکےبعد نہ صرف اللہ کےنیک بندےکو کائنات رائی کےدانےکی طرح نظر آنےلگتی ہےبلکہ
ان کا سارا وقت اللہ تعالیٰ کےذکر افکارپر ہی صرف ہوتا ہے۔
|