|
حیاتِ ولی
عاشق رسول
حضرت صوفی بندےحسن خان دام برکاتہ
س: آپ چند سال پہلےعمرےپر گئےوہاں پر سرکار مدینہ کی محفلوں میں شرکت فرمائی اور وہاں کن کن صحابہ کرام اور بزرگوں سےملاقات سےہوئی؟
ج: مسجد نبوی میں حاضری کےدوران دیکھا کہ سرور کائنات اچند صحابہ کرام کےہمراہ تشریف لارہےہیںان صحابہ کرام میں حضرت بلال حبشی بھی موجود تھی۔ میں نےآگےبڑھ کر حضور اکےقدموں کو بوسہ دیا۔ حضور انےشفقت سےمیرےسر پر ہاتھ پھیرا۔
اسی طرح مدینہ منورہ قیام کےدوران ایک مرتبہ میں مسجد نبوی کےسامنےاپنی رہائش گاہ میں دھوپ سینک رہا تھا ایک جن جو میرےپاس پہلےسےموجود تھا۔ سرکار مدینہ کو دیکھ کر بھاگ گیا۔ قدم بوسی کےبعد آنحضور اسےدست بستہ عرض کی کہ حضور ا خروج لگوانےکیلئےپیسےنہیں ہیں۔ آپ انےفرمایا کہ تمہارا کام ہو جائےگا فکر کی ضرورت نہیں دوسرےدن جب میں خروج لگوانےکیلئےگیا تو کسی نےمجھ سےخروج کےپیسےنہیں مانگی۔ حالانکہ خروج کے100 ریال لگتےہیں۔ یہ سب حضورا کی کرم فرمائی کا نتیجہ تھا۔
س: پیرومرشد کی طرف سےآپ کو خلافت عطا ہوئی یا آپ کو بیعت کرنےکی اجازت ملی؟
ج: پیرومرشد نےسوائےایک کےکسی بھی مرید کو نہ تو خلافت عطا فرمائی اور نہ ہی بیعت کرنےکی اجازت دی صرف نوری مسجد کےامام جو بنگالی تھےان کو خلافت عطا فرمائی تھی لیکن وہ بھی آپ کےمعیار پر پورےنہ اتر سکےاس لئےان سےبھی خلافت واپس لےلی گئی مجھےبھی نہ تو خلافت عطا ہوئی اور نہ ہی بیعت کرنےکی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہی وجہ ہےکہ میرا نہ تو کوئی مرید ہےاور نہ ہی خلیفہ۔ ہاں شاگرد ضرور ہیں جو میرےبتائےہوئےوظائف کو باقاعدگی سےپڑھ رہےہیں۔
س: میں نےسنا ہےکہ آپ اپنی گدی اپنےکسی بیٹےکو عطا کر رہےہیں۔
ج: بےشک وہ میرےبتائےہوئےوظائف باقاعدگی سےپڑھ رہا ہےلیکن ابھی اس میں اتنی اہلیت پیدا نہیں ہوئی کہ میں اپنی گدی اس کےسپر د کر دوں۔ دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کےحبیب انےپیرومرشد کی کرم نوازی سےجو مقام مجھےعطا فرمایا ہےاس کا بوجھ اٹھانےاور اسےبرداشت کرنا بہت مشکل ہی۔ دوسرےلفظوں میں‘ مَیں ہر لمحےخیر و شرکی جنگ میں مصروف رہتا ہوں۔
س: آپ بزرگانِ دین کےعلاوہ کسی عام شخص کی قبر میں بھی دیکھ لیتےہیں؟
ج: ہاں اللہ تعالیٰ نےمجھےیہ قوت عطا کر رکھی ہےایک مرتبہ نوشہرہ میں ایک ایسا انسان فوت ہوا جس کےبارےمیں لوگوں کو گمان تھا کہ وہ نیک ہی۔ لیکن حقیقت میں وہ بدکردار تھا۔ جب میں نےکشف قبور کا علم پڑھ کر اس کی قبر میں دیکھا تو اس کاجسدخاکی آگ سےجل رہا تھا میں پندرہ منٹ تک اسےقبر میں جلتا ہوا دیکھتا رہا۔ حتیٰ کہ اس آگ کا ایک شعلہ میری دائیں آنکھ کےذرا اوپر آلگا۔ جس سےمجھےکئی دنوں تک شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ جلن اس وقت ختم ہوتی جب میں درود پاک پڑھ کر تھوک کو انگلی سےوہاں لگاتا۔ اس کےبعد قبر میں دیکھنےکی کبھی کوشش نہیں کی صرف اولیاءکرام سےہی قبور میں ملاقات ہوتی ہےجن کی قبریں جنت کےباغوں جیسی نظر آتی ہیں۔
س: سنا ہےکہ آپ جادو ٹونہ اور چوری چکاری کرنےوالوں کےحلیےتک بتا دیتےہیں؟
ج: یہ علم مجھےمیرےموکلوں کےذریعےہوتا ہےکیونکہ جب میں کسی بھی شخص کو حاضر کرتا
ہوں تو اس پر جادو ٹونہ کرنےوالوں کےچہرےبھی میرےسامنےہوتےہیں اسی طرح چوری
کرنےوالےبھی مجھ سےچھپ نہیں سکتی۔ یہ طاقت اللہ تعالیٰ نےمجھےاپنےفضل و کرم سےنوازی
ہےجن دنوں میں فوج میں تھا ایک جوان کی گھڑی چوری ہو گئی مختلف افراد پر چوری کا
الزام لگنےلگا۔ جب یہ خبر مجھ تک پہنچی تو میں نےفوراً بتا دیا کہ گھڑی صفائی والی
عورت لےگئی ہےجب اسےمیری بات کا علم ہوا تو اس نےفوراً گھڑی وہیں رکھ دی جہاں
سےاٹھائی تھی۔
|