|
حیاتِ ولی
عاشق رسول
حضرت صوفی بندےحسن خان دام برکاتہ
روزانہ ایسےواقعات میرےعلم میں آتےہیں جب لوگ روحانی شفا کیلئےمیرےپاس آتےہیں مجھ تک پہنچنےوالا ہر شخص کسی نہ کسی کا ستم زدہ ہوتا ہی۔ جادو ٹونےکرنےوالوں میں مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ شامل ہیں کیونکہ تو ھم پرستی مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہےوہ اپنی مرضی دوسروں پر ٹھونسنےکیلئےجادو ٹونےکا سہارا لیتی ہیں۔ زندگی میں لاکھوں افراد کو اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم اور مرشد پاک کی نگاہ سےشفایاب کر چکا ہوں۔
س: آپ ہر روز جنات‘ چڑیلوں ہوائی چیزوں سےکھیلتےہیں کبھی آپ پر یاآپ کےگھر والوں پر بھی جوابی حملہ ہوا؟
ج: حالانکہ میں نےاپنےگھر کو اللہ تعالیٰ کی کلام سےکیل کر قلعہ نما بنا رکھا ہی۔ جہاں مو کلوں اور تابعدار جنوں کا ہر وقت پہرہ رہتا ہےلیکن پھر بھی میرےبچوں پر اثرات ضرور پڑھتےہیں۔ ہوائی چیزیں کئی بار عورتوں کا روپ دھار کر میرےبیٹوں پر حملہ آور ہوتی رہی ہیں لیکن جونہی مجھےان کی یلغار کا علم ہوتا ہےمیں ان کا خاتمہ کر دیتا ہوں۔
بالخصوص میری دو بیٹیاں کسی نہ کسی طرح ہوائی چیزوں کی لپیٹ میں ہی رہتی ہیں۔ لیکن خدا کےفضل سےجب تک میں زندہ ہوں انہیں کوئی نقصان پہنچنےنہیں دوں گا میرےبعد کیا ہوتا ہےاس کا علم نہیں۔
س: زندگی میں کبھی کوئی انہونا واقعہ پیش آیا جو قارئین کیلئےدلچسپی کا باعث ہو؟
ج: یہ ان دنوں کا واقعہ ہےجب میں 18 سال کی عمر میں فوج میں ابھی بھرتی ہوا تھا اور میری پوسٹنگ بھارت کےشہر لکھنو¿ میں تھی ایک رات میں تنہا ڈیوٹی پر تھا رات کےدو بجےہوں گےسردیوں کی سرد رات میں چاند آسمان پر پوری آب و تاب سےاپنی کرنیں زمین پر بکھیر رہا تھا گردونواح میں فوجیوں کی چند بارکوں کےعلاوہ کوئی آبادی نہ تھی ہر طرف سناٹا تھا۔ میں اپنی ڈیوٹی پر مکمل چوکس تھا کہ اچانک مجھ سےکچھ دور ایک پتھرآ گرا۔ میں نےسمجھا شاید فوج کا کوئی افسر مجھےچیک کر رہا ہےکہ سو تو نہیں رہا۔ لیکن جہاں پتھر گرا اور جس طرف سےآیا تھا وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ جب اچانک میری نظر ایک درخت پر پڑی اس کی شاخیں دکھائی نہ دیں تجسس اور حیرانی کےملےجلےتاثر کےساتھ میں نےاس درخت کو اوپر تک دیکھا۔ لیکن آسمان تک اس کا آخری سرا نظر نہ آیا۔ حالانکہ یہ منظر مجھےخوفزدہ کر سکتا تھا لیکن اس درخت کےبارےمیں میرا تجسس اور بڑھ گیا۔ میں خوفزدہ ہوئےبغیر سورة اخلاص پڑھتےہوئےاس درخت کی جانب بڑھنےلگا۔ میں جوں جوں درخت کےنزدیک جارہا تھا دل واھموں اوروسوسوں کا شکار ہو رہا تھا۔ اس کےباوجود رات کےآخری پہر میں تنہا ایک انجانےسفر پر گامزن تھا جونہی اس درخت کےقریب پہنچا تو سورة اخلاص اپنےدائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر پھونک کر وہ ہاتھ میں نےدرخت کےتنےپر لگا دیا۔ جونہی میرا ہاتھ اس درخت پر لگا نہ صرف اس کی شاخیں بلکہ آسمان کی وسعتوں میں گم اس کا آخری حصہ بھی نظر آنےلگا۔ حتیٰ کہ وہ درخت اپنی اصلی شکل میں آگیا۔
س: سنا ہےکہ آپ کو فالج بھی ہوا تھا اور آپ ایک ہی رات میں ٹھیک بھی ہو گئےتھی؟
ج: یہ 1993ءکی بات ہےکہ میں اپنےگھر میں سویا ہوا تھا جب بیدار ہوا تو جسم کےبائیں حصےکو کھچائو سا محسوس ہونےلگا ہاتھ کی گرفت اور پائوں کی طاقت جاتی رہی مجھےشک گزرا کہ شاید فالج کا حملہ ہو گیا ہی۔ گھر والےمجھےچیک اپ کیلئےقریبی ڈاکٹر کےپاس لےگئی۔ اس وقت میرےجسم کےبائیں حصےنےکام کرنا بند کر دیا تھا ڈاکٹر نےچیک اپ کر کےبتایا کہ فالج کا حملہ ہو چکا ہےاور ساتھ ہی ایک لمبا چوڑا دوائیوں اور ٹیکوں کا نسخہ بھی تجویز کر دیا گھر پہنچتےہی نماز ظہر کی اذان ہوئی چونکہ زندگی بھر نماز نہیں چھوڑی تھی اس لئےنماز ظہر نہ پڑھنےکا افسوس ہوا۔ یہی ناگواری کا احساس مجھےعصر اور مغرب کی نمازوں کےوقت بھی ہوا۔ لیکن مَیں کر بھی کیا سکتا تھا فالج کےموذی مرض نےچلنےپھرنےاور نماز پڑھنےکی قوت ہی چھین لی تھی۔ جب نماز عشاءبھی نکل گئی تو بلاشبہ میری آنکھوں سےآنسو جاری ہو گئےاور دل ہی دل میں پروردگار کےحضور اپنی تندرستی کی التجا کرنےلگا۔ اسی کیفیت میں‘ مَیں سو گیا جب نماز تہجد کا وقت ہوا تو حسب معمول میری آنکھ کھل گئی۔ جبکہ گھر والےتمام سو رہےتھےجسمانی طور پر اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ نماز تہجد کیلئےاٹھنا محال تھا ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہی میرا مقدر ہےتو اچانک میرےکمرےمیں نوررسالت اکی روشنی پھیل گئی او رگھر کا ہر حصہ روشن ہو گیا۔ دوسرےہی لمحےسرور کائنات حضور ا پاس کھڑےمیرےسر پر ہاتھ پھیر رہےتھےآپ اکےہمراہ پیرومرشد حضرت سید اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف کرماں والےاور حضرت شاہ گوہر پیر بھی تھی۔
|