|
حیاتِ ولی
عاشق رسول
حضرت صوفی بندےحسن خان دام برکاتہ
حضرت براءبن عازب سےروایت ہےکہ رسول اللہ انےارشاد فرمایا کہ مومن جب اس دنیا سےرخصت ہو کر آخرت کی طرف جانےلگتا ہےتو آسمان سےخوبرو فرشتےنازل ہوتےہیں گویا ان کےچہرےسورج کی طرح روشن ہوتےہیں ان کےپاس جنت کا حنوط (خوشبو) اور کفن ہوتا ہےاور وہ فرشتےاس کےپاس تاحد نظر بیٹھ جاتےہیں پھر حضرت ملک الموت آتےہیں اور اس کےسرانےبیٹھ کر کہتےہیں۔ اےنفس مطمئنہ اپنےاللہ کی رضا کی طرف نکل جا تو روح بدن سےیوں بہہ نکلتی ہےجیسےپانی کا قطرہ مشک سےاگرچہ تمہیں بظاہر کچھ اور دکھائی دیتا ہی۔ پس فرشتےجب اس روح کو نکال لیتےہیں تو ملک الموت کےہاتھ میں آنکھ جھپکنےکی دیر بھی نہیں رہنےدیتےبلکہ اس روح کواکفان اور حنوط میں رکھ دیتےہیں تو اس سےدنیا کی سب سےزیادہ خوشبودار کستوری کی مانند مہک اٹھتی ہی‘ پھر اسےاوپر لےکر چلےجاتےہیں اور فرشتوں کےجس گروہ کےپاس سےگزرتےہیں وہ ان سےسوال کرتےہیں کہ یہ پاکیزہ روح کون ہی؟ تو وہ دنیا میں پکارےجانےوالےناموں میں سےاس کا بہترین نام لےکر کہتےہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہےیہاں تک کہ آسمانوں سےگزرتےہوئےساتویں آسمان تک پہنچا دیتےہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اس کا نام اعمال علیین میں لکھ دو اور اسےواپس دنیا میں لوٹا دو تو اس کی روح اس کےجسم میں لوٹا دی جاتی ہےپھر اس کےپاس دو فرشتےآتےہیں جو اسےبٹھا کر کہتےہیں کہ تیرا رب کون ہی؟ اور تیرا دین کون سا ہی؟ تو وہ جواب دیتا ہےکہ اللہ کریم میرا رب ہےاور اسلام میرا دین ہی۔ پھر وہ دونوں فرشتےاس سےپوچھتےہیں کہ یہ شخص کون ہےجو تمہاری طرف اور تم میں مبعوث کیا گیا ہی؟ تو وہ بندہ جواب دیتا ہےکہ یہ اللہ کےرسول اہیں۔ وہ فرشتےاس سےپھر پوچھتےہیں کہ تمہیں کیسےعلم ہو گیا؟ تو وہ بندہ جواب دیتا ہےکہ میں نےاللہ کی کتاب کو پڑھا اور اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی تو دریں اثناءآسمان سےایک منادی پکارتا ہےکہ میرےبندےنےسچ کہا۔ اس کیلئےجنت کےبچھونےلگا دو اسےجنتی لباس پہنا دو اور جنت کا دروازہ اس کیلئےکھول دو جہاں سےاس بندےکو جنت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہےبلکہ تاحد نگاہ اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہےپھر اچھےکپڑوں میںملبوس پاکیزہ خوشبو والا ایک شخص آتا ہےوہ کہتا ہےکہ تمہیں خوشخبری ہو۔ آج وہ دن ہےجس کا تمہارےساتھ وعدہ کیا گیا تھا تو وہ کہتا ہےکہ تو کون ہی؟ تم تو میرےلئےاچھی خبر لائےہو وہ جواب دیتا ہےکہ میں تیرا عمل صالح ہوں تو وہ کہتا ہےکہ اےمیرےرب قیامت قائم فرما‘ تاکہ میں اپنےاہل و عیال اور مال کی طرف لوٹ جائوں۔
اسی طرح حضرت ابوھریرہ سےروایت ہےانہوں نےفرمایا کہ مومن کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک وہ خوشخبری نہ پالےاور جب اس کی روح قبض کر لی جاتی ہےتو وہ ندا دیتا ہےتو گھر میں سوائےجن و انس تمام چھوٹےبڑےجانور اس کی آواز سنتےہیں کہ مجھےجلدی سےارحم الرحمین کےحضور لےچلو۔ پھر جب اسےچارپائی پر رکھا جاتا ہےتو وہ کہتا ہےتم کتنا آہستہ چلتےہو اور جب اسےقبر میں داخل کیا جاتا ہےتو اسےبٹھایا جاتا ہےاور اسےوہ مقام دکھایا جاتا ہےجو اللہ تعالیٰ نےاس کیلئےجنت میں تیار کیا ہوتا ہےاور اس کی قبر کو جنت کی راحت اور مشک و کستوری سےبھر دیا جاتا ہےوہ بندہ عرض کرتا ہےاےمیرےرب مجھےآگےبھیج دےتو ارشاد ہوتا ہےکہ تیرےکچھ بہن بھائی ایسےہیں جو تمہیں ابھی تک نہیں ملی۔ اور تو میٹھی نیند سو جا۔
ایک اور صحابی فرماتےہیں کہ حضور اکرم انےحضرت عائشہ سےفرمایا کہ جب مومن ملائکہ کو دیکھتا ہےتو ملائکہ اس سےکہتےہیں کہ کیا ہم تجھےواپس دنیا میں لوٹا دیں؟ تو وہ جواب دیتا ہےکہ کیا تم مجھےپھر غموں اور پریشانیوں کےگھر کی طرف لوٹاتےہو؟ تم مجھےاللہ تعالیٰ کےپاس لےچلو۔
حضرت سلمان سےروایت ہےانہوں نےکہا کہ رسول اللہ انےارشاد فرمایا کہ مومن کو قبر
میں جو پہلی خوشخبری دی جاتی ہےوہ یہ ہےکہ اسےکہا جاتا ہےکہ تو اللہ کی رضا اور جنت
پر خوش ہو جا۔ تیرا آنامبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نےانہیں بھی بخش دیا جو تجھےقبر تک
الوداع کرنےآئےاور جو تیرےجنازےمیں شریک تھےاور اللہ تعالیٰ نےاس آدمی کی دعا کو
قبول فرمایا جس نےتیرےلئےبخشش طلب کی۔
|