|
حضرت رابعہ بصری
تینوں بہنوں نےکوئی جواب نہیں دیا۔ انہیں بھوک کی عفریت سےنجات مل گئی تھی اور وہ تاجر کےدیئےہوئےسکےگننےمیں مصروف تھیں۔ پھر انہیں اپنی چھوٹی بہن کی آنکھوں میں لرزنےوالی معصوم حسرتیں اور کانپتےہوئےسوالات کس طرح نظر آتی؟ آخر لڑکی نظروں سےاوجھل ہو گئی اور ضرورت کےبےرحم ہاتھ نےخونی رشتوں کو جدا کردیا۔
نوعمر ہونےکےباوجود وہ لڑکی انتہائی مشقت اور ذمہ داری کےساتھ اپنا کام پورا کرتی اور مالک کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیتی۔ یہاں تک کہ اسی عالم میں کئی سال گزر گئی۔ اب اس لڑکی کی عمر بارہ تیرہ سال کےقریب تھی۔ جیسےجیسےعمر بڑھتی جارہی تھی‘ لڑکی کےذوق عبادت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ گھر کا کام کرنےکےبعد وہ رات رات بھر عبادت میں مصروف رہتی۔ پھر صبح ہوتےہی اپنےآقا کی خوشنودی حاصل کرنےکیلئےگھر کےکاموں میں مشغول ہو جاتی۔ آخر شدید محنت نےاس معصوم جان کوتھکا ڈالا۔
”کیا تو بیمارہی؟“ لڑکی کےچہرےپر تھکن کےآثار دیکھ کر ایک دن مالک نےپوچھا۔
لڑکی نےنفی میں آقا کی بات کا جواب دیتےہوئےکہا۔ ”کیا میں اپنےفرائض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہوں۔“
مالک نےاس کےکام کی تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھی۔
لڑکی نےآقا کا حکم سنا اور سر جھکا دیا مگر اس کےمعمولات میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ اجالےمیں دنیاوی مالک کی خدمت انجام دیتی اور اندھیرےمیںمالک حقیقی کےسامنےسجدہ ریز ہو جاتی۔
ایک دن اتفاق سےنصف شب کےقریب آقا کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنےکمرےسےنکل کر ٹہلنےلگا۔ اچانک اس کی نظر کنیز کی کوٹھڑی پرپڑی۔ وہاں چراغ جل رہا تھا۔
”یہ کنیز ابھی تک جاگ رہی ہی؟“ آقا بڑی حیرت کےساتھ کنیز کےجاگنےکا سبب جاننےکیلئےکوٹھڑی کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مالک دبےقدموں اندر داخل ہوا۔ اب اس کی آنکھوں کےسامنےایک ناقابل یقین منظر تھا۔ کنیز سجدےکی حالت میں تھی اور دبی دبی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ مالک کی حیرت میںکچھ اور اضافہ ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ آگےبڑھا۔ پھر اس نےکان لگا کر سنا۔ کنیز انتہائی رقت آمیز لہجےمیں دعامانگ رہی تھی۔
”اےاللہ! تو میری مجبوریوں سےخوب واقف ہی۔ گھر کا کام کاج مجھےتیری طرف آنےسےروکتا ہی۔ تو مجھےاپنی عبادت کیلئےپکارتا ہےمگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں‘ نمازوں کا وقت گزر جاتا ہی۔ اس لئےمیری معذرت قبول فرما لےاورمیرےگناہوں کو معاف کردی۔“
مالک نےکنیز کی گریہ و زاری سنی تو خوفِ خدا سےلرزنےلگا۔ روایت ہےکہ اس واقعےسےپہلےتاجر عتیق ایک ظالم شخص تھا۔ اپنےغلاموں اور کنیزوں سےبےپناہ مشقت لیتا تھا اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا تک نہیں دیتا تھا۔ آج رات ایک کنیز کو اس طرح سجدہ ریز دیکھا تو پتھر دل پگھل گیا اور اسےاپنےماضی پر ندامت ہونےلگی۔ الٹےقدموں واپس چلا آیا اور رات کا باقی حصہ جاگ کر گزار دیا۔ پھر صبح ہوتےہی کنیز کی کوٹھری میں پہنچا اور کہنےلگا۔
”آج سےتم آزاد ہو‘جہاں چاہو چلی جائو۔“
”مگر میں تمہاری دی ہوئی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔“ کنیز نےحیران ہو کر کہا۔
”میں تم سےکوئی قیمت نہیںمانگتا مگر ایک چیز کا سوال کرتا ہو۔“ تاجر عتیق کےلہجےسےعاجزی کا اظہار ہو رہا تھا۔ ”میری طرف سےکی جانےوالی تمام زیادتیوں کو اس ذات کےصدقےمیں معاف کر دو جس کی عبادت تم راتوں کی تنہائی میں چھپ کر کرتی ہو۔“
”میں نےتمہیں معاف کیا۔ میرا مالک تمہیں ہدایت دی“ یہ کہہ کرکنیز چلی گئی۔
یہ معصوم اور یتیم بچی اور شب بیدار کنیز مشہور عارفہ حضرت رابعہ بصری تھیں۔۔
|