|
حیاتِ ولی
عاشق رسول
حضرت صوفی بندےحسن خان دام برکاتہ
گورکن ابوالنفر نیشاپوری سےروایت ہےکہ وہ بڑےمتقی اور پرہیز گار تھےانہوں نےفرمایا میں نےایک قبر کھودی تو دوسری قبر میں سوراخ ہو گیا میں نےاس میں دیکھا کہ خوش لباس‘ خوبرو اچھی خوشبو لگائےایک نوجوان چوکڑی مار کر بیٹھا ہوا ہےاور اس کی گود میں خوبصورت خط میں لکھی ہوئی ایک کتاب ہی۔ اس قسم کےلکھائی میںنےپہلےکبھی نہ دیکھی تھی وہ نوجوان قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا اس نےمجھےدیکھتےہوئےکہا کہ کیا قیامت قائم ہو گئی ہی؟ تو میں نےکہا نہیں۔ تو اس نےکہا کہ مٹی کا ڈھیلا اسی جگہ رکھ دو تو میں نےایسا ہی کیا۔
امام سھیلی نےدلائل النبوت میں ایک صحابی سےروایت نقل کی ہےمیں نےایک جگہ ایک قبر کھودی تو دوسری ساتھ والی قبر بھی کھل گئی تو میں نےدیکھا کہ ایک شخص چارپائی پر تشریف فرما ہےاور اس کےہاتھوں میں قرآن مجید ہےجس کی وہ تلاوت کر رہا ہےاور اس کےسامنےایک سبز باغ ہے(یہ واقعہ مقام احد کا ہی) تو انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ شخص شہدائےاحد میں سےتھا کیونکہ انہوں نےاس کی پیشانی پر زخم کا نشان دیکھا اور یہی روایت ابن حبان نےاپنی تفسیر میں بھی نقل کی ہی۔
امام یافعی نےروضة الریاحین میں ایک صالح شخص سےروایت کی ہےانہوں نےکہا کہ میں نےایک شخص کیلئےقبر کھودی اور لحد بنائی اسی اثناءمیں کہ مَیں قبر کوبرابر کر رہا تھا دوسری ساتھ والی قبر سےایک اینٹ گر گئی تو میں نےاس قبر میں دیکھا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص بیٹھا ہےاو رجھوم رہا ہےاور اس کی گود میں سونےکا قرآن ہےجس کی لکھائی بھی سونےکی ہےاس کی وہ تلاوت کر رہا ہےاس نےاپنا سر اٹھایا اور مجھ سےکہا کیا قیامت قائم ہو گئی ہی؟ میں نےجواب دیا نہیں اس نےمجھےکہا کہ اللہ تعالیٰ تجھےمعاف فرمائےاینٹ اسی جگہ واپس رکھ دو تو میں نےاینٹ اسی جگہ رکھ دی۔
امام یافعی نےہی فرمایا کہ ہمیں ایک معتبر گورکن کےبارےمیں بتایا گیا ہےکہ اس نےایک قبر کھودی تو اس نےدیکھا کہ ایک شخص اپنےتخت پر بیٹھا ہوا ہےاس کےہاتھ میں قرآن مجید ہےجس کی وہ تلاوت کر رہا ہےاور نیچےنہر جاری ہی۔ یہ دیکھتےہی وہ بےہوش ہو گیا تو اسےقبر سےنکالا گیا اس کا سر چکرا رہا تھا اور جو کچھ اس نےدیکھا اس کی وجہ سےوہ اپنےآپ کو سنبھال نہ پاتا تھا اسےتیسرےدن کچھ افاقہ ہوا۔
یہ تمام واقعات میںنےحضرت امام جلال الدین سیوطی کی کتاب ”موت کےبعد زندگی“ سےاخذ کئےہیں جس میں موت کےاحوال‘ قبر اور برزخی زندگی کےبارےمیں نہایت قیمتی معلومات درج کی گئی ہیں۔
ان واقعات کو پڑھ کر پتہ چلتا ہےکہ اللہ کےنیک اور برگزیدہ بندےقبروں میں زندہ ہوتےہیں ان کی قبریں بےحد حساب وسیع ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اتنا مقام عطا فرما دیتا ہےکہ فاصلےاور دوریاں ان کیلئےزیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔
بہرکیف مجھےیہ کہتےہوئےذرا بھی عار محسوس نہیں ہوتی کہ حضرت صوفی بندےحسن خان‘ اللہ کےنیک بندےا ور ولی کامل ہیں ان کو یہ مقام کثرت سےدرود پاک پڑھنےپیرومرشد حضرت سید اسمٰعیل شاہ بخاری۔ حضرت گوہر پیر اور سرکار مدینہ ا سےبےپناہ محبت کی بدولت عطا ہوا۔ جن سےسرکارمدینہ ا خوش ہو گئی۔ ان جیسا دنیا میں کوئی نہیں ہےبےشک قیامت تک دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ اللہ کےبرگزیدہ بندےہی عطا فرماتےرہیں گی۔
|