|
حضرت رابعہ بصری
جب تاجر عتیق نےحضرت رابعہ کو آزاد کر دیا تو آپ علوم ظاہری حاصل کرنےکیلئےبصرہ سےکوفہ تشریف لےگئیں جو اپنےوقت میں بہت بڑا علمی مرکز تھا اور جہاں نادر روزگار علما ءہر وقت موجود رہتےتھی۔ روایت ہےکہ حضرت رابعہ بصری فطری طور پر نہایت ذہین خاتون تھیں۔ نتیجتاً آپ نےبہت کم مدت میں قرآن کریم حفظ کر لیا۔
اکثر روایات سےپتہ چلتا ہےکہ حضرت رابعہ بصری نےفقہ اور حدیث کی تعلیم بھی حاصل کی تھی اورپھر دونوں علوم میں اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ جب آپ وعظ فرماتی تھیں تو بڑےبڑےمحدث اور فقیہہ حیران رہ جاتےتھی۔ کسی معتبر تاریخ سےیہ پتہ نہیں چلتا کہ حدیث اور فقہ میں آپ کےاساتذہ کون تھی؟ پھر بھی یہ امر طےشدہ ہےکہ حضرت رابعہ بصری کی بارگاہ معرفت میں بڑےبڑےعلماءنیازمندی کےساتھ حاضر ہوا کرتےتھی۔ ان بزرگوں میں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری ہیں جو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کےہمصر تھےاور جنہیں امیرالمومنین فی الحدیث کےلقب سےبھی یاد کیا جاتا ہی۔ مشہور بزرگ حضرت مالک بن دینار کےبارےمیں بھی کہا جاتا ہےکہ وہ حضرت رابعہ بصری سےنہایت عقیدت رکھتےتھی۔
حضرت رابعہ بصری کو کثرت رنج و الم اور حزن و ملال نےدنیا اور اس کی دلفریبیوں سےبیگانہ کر دیا تھا۔ پھر اسی جذبہ بیگانگی نےبےنیازی کی شکل اختیار کر لی اور حضرت رابعہ بصری نےدنیا اوراہل دنیا کی نفی کر دی۔ دنیا کی نفی کےبعد ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہےکہ انسان اپنےآپ کو دنیا بنانےوالےکی یادوں میں گم کر دےحضرت رابعہ بصری نےبھی ایسا ہی کیا۔ جب سارےرشتےناپائیدار ثابت ہوئےتو آپ نےخالق کائنات سےرشتہ جوڑ لیا۔ یہ رشتہ تو ازل سےابد تک قائم رہتا ہی۔ ایک مفکر اپنےخالق کےوجود سےانکار کر سکتا ہےمگر اس کی بندگی کےدائرےسےخارج نہیں ہوتا۔ فرعون نےلاکھ کہا کہ تمہارا بڑا رب ہوں مگر حقیقت میں وہ رب کائنات کا ہی بندہ تھا۔ مسئلہ صرف اقرار کا ہی۔ اقرار کےبعد انسان کی بندگی مستند اور معتبر ہو جاتی ہی۔ انکار کی صورت میں بھی وہ اللہ ہی کا بندہ رہتا ہےمگر اپنی سرکشی اور بےراہ روی کےباعث”راندئہ درگاہ“ کہلاتا ہی۔ حضرت رابعہ بصری بھی روز اوّل سےاپنےخالق کی وحدانیت اور کبریائی کا اقرار کر رہی تھیں۔ ہو سکتا تھا کہ وہ شدید اور طویل آزمائشوں کےدوران اپنا راستےبھول جاتیں مگر حق تعالیٰ نےہر قدم پر ان کی رہنمائی کی۔ پھر جب وہ آفات و مصائب کےدریا کو پار کر کےساحل مراد تک آپہنچیں اور انہوں نےبےاختیار خاک پر سر رکھ کر کہا۔
”بس! تو ہی ہےاور تیرےسوا کوئی نہیں۔“
حضرت رابعہ بصری کےمسلک کی بنیاد ”عشق الٰہی“ پر ہی۔
”حضرت رابعہ بصری کی حیات مبارک میں حزن و الم کےجو گہرےنقوش پائےجاتےہیں‘ اگر انہیں غور سےدیکھا جائےتو یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ یہ تمام تر اسی محبت کا نتیجہ ہےجو حضرت رابعہ بصری کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سےتھی۔“
تصوف اسلامی کےہیکل میں جس ہستی نےسب سے”حب الٰہی“ کو ایک مستقل اور محکمہ مسلک کی صورت میں پیش کیا وہ صرف حضرت رابعہ بصری ہیں۔ انہوں نےایسےآثار و نقوش چھوڑےہیں جو حزن والم اور محبت الٰہی کی صحیح تعبیر اور تفسیر کا کام دیتےہیں۔“
یہ اسی محبت کا نتیجہ تھا کہ حضرت رابعہ بصری ہر وقت مغموم اور ملول رہا کرتی تھیں۔ شاذونادر ہی ان کی آنکھوں کو کسی نےخشک دیکھا ہو گا ورنہ کسی آبشار کی طرح بہتی ہی رہتی تھیں۔ جب مجلس میں کوئی دوزخ کر ذکر چھیڑ دیتا تو حضرت رابعہ بصری اس کی دہشت سےبےہوش ہو جاتی تھیں۔ روایت ہےکہ حضرت رابعہ بصری کی سجدہ گاہ ہمیشہ آنسوئوں سےتر رہتی تھی۔
حضرت رابعہ بصری بہت کم گفتگو کیا کرتی تھیں۔ آپ کا بیشتر وقت نماز پڑھنےمیں گزرتا تھا۔ اگر کبھی کسی سےکوئی بات کرنی ہوتی تو آیات قرآنی کا سہارا لےکر اپنا مطلب بیان کرتیں۔ لوگوں نےپوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ جواب میں حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔
”انسان جو کچھ بولتا رہتا ہی‘ فرشتےاسےلکھتےرہتےہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ قرآن کی آیتوں کےسوا کچھ نہ بولوں۔ یہ احتیاط اس لئےہےکہ کہیں میرےمنہ سےغلط بات نہ نکل جائےاور فرشتےاسےتحریر کر لیں۔“۔
|