|
حضرت رابعہ بصری
حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”بےشک! اس نےمنع تو نہیں فرمایا ہی۔۔۔۔ مگر مجھےاس کام کیلئےفرصت نہیں ہی۔“
لوگوں نےتعجب سےکہا۔ ”ہاں! دنیا میں وہی شخص ہنستا ہےجسےاطمینان قلب حاصل ہو اور میں ابھی اس نعمت سےمحروم ہوں۔“
حاضرین مجلس نےآپ کےاس قول مبارک کی وضاحت چاہی تو حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”میں نےمحبت کیلئےصرف ایک ہی ہستی کاانتخاب کیا ہےاور وہ اللہ کی ذات پاک۔ میں اس کےخوف سےروتی رہتی ہوں کہ کہیں میری زندگی بھر کی محنت اکارت نہ چلی جائےاور مرتےوقت مجھ سےکہا جائےکہ تو ہمارےلائق نہیں۔“
مشہور واقعہ ہےکہ ایک بار حضرت رابعہ بصری کےیہاں پانچ درویش حاضر ہوئی۔ اتفاق سےوہ کھانےکا وقت تھا۔ حضرت رابعہ بصری نےاپنی خادمہ کو الگ بلا کر پوچھا۔ ”مہمانوں کی تواضع کیلئےگھر میں کچھ کھانےکو ہی؟“
خادمہ نےبتایا کہ صرف ایک روٹی موجود ہی۔ حضرت رابعہ بصری نےفرمایا کہ ایک روٹی سےکیا ہو گا؟ مہمانوں کےحصےمیں ایک ایک ٹکڑا ہی آئےگا۔ یہ کہہ کر آپ مہمان درویشوںکےپاس تشریف لےآئیں۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک سوالی نےدر پر صدا دی۔ حضرت رابعہ بصری نےفرمایا کہ وہ روٹی اس ضرورت مند کو دےدو جو دروازےکےباہر کھڑا ہی۔ خادمہ نےآپ کےحکم کی تعمیل کی اور حضرت رابعہ بصری مہمانوں کےساتھ مصروف گفتگو ہو گئیں۔
کچھ دیر بعد خادمہ حاضر ہوئی اور اس نےعرض کیا۔ ”ایک شخص کھانا لےکرآیا ہی۔“
”کتنی روٹیاں؟“ حضرت رابعہ بصری نےخادمہ سےپوچھا۔
جب خادمہ نےبتایا کہ دو روٹیاں ہیںتو آپ نےفرمایا کہ اسےواپس کر دو۔ وہ شخص غلطی سےہمارےگھر آگیا ہےاور وہ کھانا ہمارا نہیں ہی۔“ خادمہ نےروٹیاں واپس کر دیں۔
تھوڑی دیر بعد خادمہ نےاطلاع دی کہ ایک اور شخص کھانا لےکر آیا ہی۔ حضرت رابعہ بصری نےروٹیوں کی تعداد پوچھی تو آپ کو بتایا گیا کہ پانچ روٹیاں ہیں۔ حضرت رابعہ بصری نےجواباً فرمایا۔ ”اس بار بھی کھانا لانےوالےسےغلطی ہو گئی۔ اس سےکہہ دو کہ وہ کھانا ہمارا نہیں ہی۔“
تیسری بار ایک اور شخص کھانا لےکر آیا۔ پھر جب خادمہ نےآپ کو بتایا کہ گیارہ روٹیاں ہیں تو حضرت رابعہ بصری نےمسرت کےلہجےمیں فرمایا۔ ”ہاں! یہ کھانا ہمارا ہی۔ اسےقبول کر لو۔“
خادمہ نےکھانا لا کر درویش مہمانوں کےسامنےسجا دیا۔ پھر جب درویش کھانا کھا چکےتو ایک مہمان نےعرض کیا کہ تین مختلف اشخاص کھانا لےکر آئی۔ دو افراد کو آپ نےواپس کر دیا مگر تیسرےشخص کےلائےہوئےکھانےکو قبول فرما لیا۔ آخر یہ کیاراز ہی؟
حضرت رابعہ بصری نےدرویشوں کو مخاطب کرتےہوئےفرمایا۔ ”حق تعالیٰ فرماتا ہےکہ دنیا میں ایک کےبدلےدس اور آخرت میں ستر دوں گا۔ بس اسی حساب کتاب کی بنیاد پر میں نےدو آدمیوں کو واپس لوٹا دیا اور ایک شخص کا کھانا قبول کر لیا۔ میں نےاللہ کی راہ میں سوالی کو ایک روٹی دےکر رزاق عالم سےسودا کیا تھا۔ پھر جب ایک شخص دو روٹیاں اوردوسرا پانچ روٹیاں لےکر آیا تو میںنےجان لیا کہ یہ حساب درست نہیں ہی۔ تیسرا شخص گیارہ روٹیاں لےکر آیا تو میں نےکسی تردد کےبغیر انہیں قبول کر لیا کہ یہ عین حساب کےمطابق تھیں اور دینےوالےکی شان رزاقی کو ظاہر کر رہی تھیں۔ دس روٹیاں میری ایک روٹی کےبدلےمیں تھیں اور جو روٹی میں نےسوالی کو دی تھی‘ اللہ تعالیٰ نےوہ بھی واپس کر دی تھی۔“
حضرت رابعہ بصری کی صبروقناعت اور توکل کی شان دیکھ کر تمام درویش حیرت زدہ رہ گئی۔۔
|