|
حضرت رابعہ بصری
ایک بار آپ نےساتھ دن تک صرف پانی سےروزہ کھولا۔ گھر میںکھانےکیلئےروٹی کا ایک لقمہ بھی نہیں تھا۔ افطار کا وقت قریب تھا کہ حضرت رابعہ بصری پر بھوک کا غلبہ ہوا۔ نفس نےآپ سےفریاد کی۔
”رابعہ! آخر تو کب تک مجھےبھوکا رکھےگی؟“
ابھی آپ کےدل میں یہ خیال گزرا ہی تھا کہ کسی شخص نےدروازےپر دستک دی۔ آپ باہر تشریف لائےتو ایک نیازمند کھانا لئےکھڑا تھا۔ حضرت رابعہ بصری نےکھانا قبول کر لیا اور نفس سےمخاطب کرتےہوئےفرمایا۔ ”میں نےتیری فریاد سن لی ہی۔ کوشش کروں گی کہ تجھےمزید اذیت نہ پہنچی۔“
یہ کہہ کر آپ نےکھانا فرش پر رکھ دیا اور خودچراغ جلانےاندر چلی گئیں۔ واپس آئیں تو دیکھاکہ ایک بلی نےکھانےکےبرتن الٹ دیئےتھےاور وہ زمین پر گرا ہوا کھانا کھا رہی تھی۔ حضرت رابعہ بصری بلی کو دیکھ کر مسکرائیں اور کہا ”شاید یہ تیرےہی لئےبھیجا گیا تھا۔ اطمینان سےکھا لی۔“
افطار کا وقت قریب ہو چکا تھا۔ حضرت رابعہ نےچاہا کہ پانی ہی سےافطار کر لیں۔ اتنےمیں تیز ہوا کا جھونکا چلااور چراغ بجھ گیا۔ حضرت رابعہ اندھیرےمیں آگےبڑھیں۔ اتفاق سےپانی کابرتن بھی ٹوٹ گیا اور سارا پانی زمین پر بہہ گیا۔ عجیب صورتحال تھی۔ بےاختیار آپ کی زبان مبارک سےیہ الفاظ ادا ہوئی۔
”الٰہی! یہ کیا راز ہی؟ میں گنہگار نہیں جانتی کہ تیری رضا کیا ہی؟“
جواب میں ایک صدائےغیب سنائی دی۔ ”اےمیری محبت کا دم بھرنےوالی! اگر تو چاہتی ہےکہ تیرےلئےدنیا کی نعمتیں وقف کر دوں تو پھر میں تیرےدل سےاپنا غم واپس لےلوں گا۔۔۔۔ کیونکہ میرا غم اور دنیا کی نعمتیں ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اےرابعہ! تیری بھی ایک مراد ہےاورمیری بھی ایک مرادہی۔ تو ہی بتا کہ دونوں مرادیں ایک جگہ کیسےرہ سکتی ہیں؟“
حضرت رابعہ بصری فرماتی ہیں کہ جب میں نےیہ آوازسنی تو دنیا سےہمیشہ کیلئےمنہ موڑ لیااور ساری امیدیں ترک کردیں۔ اس کےبعد میں نےہر نماز کو آخری نماز سمجھا۔
ایک بار حضرت سفیان ثوری حضرت رابعہ بصری کی مجلس میں حاضر ہوئےاور فرمانےلگی۔ ”رابعہ! آج تم مجھےوہ باتیں بتائو جو تم نےکسی کتاب یا عالم کےذریعےحاصل نہ کی ہوں بلکہ وہ براہِ راست تم تک پہنچی ہوں۔“
حضرت رابعہ بصری کچھ دیر تک غور کرتی رہیں۔ پھر آپ نےامام وقت کو مخاطب کرتےہوئےفرمایا۔ ”ایک بار میں نےاپنی ضرورت کی چیزیں خریدنےکیلئےہاتھ سےبنی ہوئی چند رسیّاں فروخت کیں۔ خریدار نےمجھےدو درہم دیئےتو میں نےایک درہم ایک ہاتھ میںلیا اور دوسرا دوسرےہاتھ میں۔ مجھےڈر تھا کہ ایک ہی ہاتھ میں دونوں درہم لینےسےکہیں میں گمراہ نہ ہو جائوں۔“ اس بات سےحضرت رابعہ بصری کااشارہ کثرت مال کی طرف تھا۔
ایک بار آپ نےکسی شخص کو چند سکےدےکر فرمایا۔ ”میرےلئےبازار سےجا کر کمبل خرید لائو۔“
اس شخص نےعرض کیا۔ ”مخدومہ! آپ کو سفید کمبل درکار ہےیا سیاہ؟“
حضرت رابعہ بصری نےناخوشگوار لہجےمیںفرمایا۔ ”پیسےواپس دےدو۔ ابھی کمبل خریدا نہیں اور سیاہ و سفید کا جھگڑا شروع ہو گیا۔”پھر اس شخص سےپیسےواپس کر لےاپنی خادمہ کو دےدیئےاور فرمایا کہ انہیںجا کر دریا میں پھینک آئو۔ ان تمام واقعات سےاندازہ ہوتا ہےکہ حضرت رابعہ بصری دنیا اور اہل دنیا سےکس قدر بےنیازانہ تعلق رکھتی تھیں۔
ایک بار کسی شخص نےبرسرمجلس آپ سےسوال کیا۔ ”آپ کہاں سےآئی ہیں؟“
حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”اس جہان سی۔“
”اور کہاںجائیں گی؟“ اسی شخص نےدوسرا سوال کیا۔۔
|