|
حضرت رابعہ بصری
حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”اسی جہان میں۔“
پھر جب آپ سےپوچھا گیاکہ اس جہان میں کیا کرتی ہیں تو فرمانےلگیں۔ ”میں افسوس کےسوا کچھ نہیں کرتی۔“
پوچھنےوالےنےپوچھا آپ کس بات پر افسوس کرتی ہیں تو حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”اس جہان کی روٹی کھا کراس جہان کاکام کرتی ہوں۔“
پھر حاضرین مجلس میں سےایک شخص نےکہا۔ ”میں یہی کام تو کر رہی ہوں جو کچھ میرےاندر ہےاسےباہر کرتی ہوں اور جو باہر ہےاسےاندر آنےنہیں دیتی۔ کون آتا ہےاور کون جاتا ہی‘مجھےاس سےکوئی غرض نہیں۔ میں دل کو محفوظ رکھتی ہوں نہ کہ مٹی (جسم) کو۔“
حضرت رابعہ بصری عشق الٰہی میں اس قدر غرق رہتی تھیں کہ خوشی اور غم اپنی حیثیت کھو بیٹھےتھی۔ عبادت کےبارےمیں آپ کا طرزفکر بڑا عجیب تھا۔ آپ خوف اور طمع سےبےنیاز ہو کر اپنےخالق کو پکارتی تھیں۔ ایک بار آپ پر جذب کی کیفیت طاری تھی۔ اہل بصرہ نےدیکھا کہ آپ ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرےہاتھ میںپانی لئےہوئےبھاگی چلی جارہی ہیںلوگوں نےحضرت رابعہ بصری کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا۔
”یہ کیا ہی؟ آپ کہاں جارہی ہیں؟“
حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”میں اس پانی سےدوزخ کی آگ کو بجھانےچلی ہوں کہ لوگ اسی کےخوف سےاللہ کی عبادت کرتےہیں۔“
”اور یہ آگ کس لئےہی؟“ لوگوںنےپوچھا۔
”میںاس آگ سےجنت کو پھونک ڈالنا چاہتی ہوںتاکہ جو لوگ جنت کےلالچ میں اللہ کی عبادت کرتےہیں‘ انہیں جنت نہ مل سکی۔“
یہ حضرت رابعہ بصری کااپنا اندازفکر تھا جسےجذب و مستی کی کیفیت سےتعبیر کیا جاتا ہےورنہ خوف و طمع دونوں حالتوں میںاللہ کی عبادت جائز ہی۔ قرآن حکیم میں اسی کا حکم دیا گیا ہی۔
ایک بار حضرت رابعہ بصری ان الفاظ کےساتھ دعا مانگ رہی تھیں۔ ”اےمیرےمعبود! اگر میں تیری عبادت دوزخ کےخوف سےکرتی ہوں تو مجھےدوزخ ہی میں ڈال دینا۔۔۔۔ اور اگر میری ریاضت حصولِ جنت کیلئےہےتو اسےمجھ پر حرام کر دینا۔۔۔۔ اور اگر میں صرف تیرےہی لئےتیری پرستش کرتی ہوں تو تو مجھےاپنےدیدار سےہرگز محروم نہ رکھنا۔“یہی وہ عشق ہےجس نےحضرت رابعہ بصری کو ولایت کےمنصب تک پہنچایا اور پھر آپ کا نام قیامت تک کیلئےمحبت کی علامت بن کر رہ گیا۔
حضرت رابعہ بصری نےساری زندگی تجرد کےعالم میں گزاری اس زمانےکےکچھ لوگوں نےآپ کی اس روش پر اعتراض کرتےہوئےکہا۔ ”آپ خود کو عارفہ کہتی ہیں مگر پیغمبراسلام ا کی اس معروف سنت پر عمل نہیں کرتیں۔“
جواب میں حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”مجھےتین باتوںکا اندیشہ ہی۔ اگر تم مجھےان اندیشوں سےنجات دلا دو تو میں آج ہی نکاح کرلوں گی۔ میرا پہلا اندیشہ یہ ہےکہ مرتےوقت ایمان سلامت لےجائوں گی یا نہیں؟ دوسرا یہ کہ میرا نامہ¿ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائےگا یا بائیں ہاتھ میں؟ تیسرا یہ کہ قیادت کےدن ایک گروہ کو دائیں طرف سےبہشت میں داخل کیا جائےگا اوردوسرےگرو کو بائیں طرف سےدوزخ میں۔ تم لوگ بتائو کہ میں کس طرف ہوں گی؟“
حضرت رابعہ بصری کےتینوں سوالوںکےجواب میں لوگوں نےکہا۔ ”ہمیں کچھ نہیںمعلوم۔ بس اللہ ہی بہتر جانتا ہےکہ کس کاکیاحشر ہو گا؟“
لوگوںکا جواب سن کر حضرت رابعہ بصری نےانتہائی پرسوز لہجےمیں فرمایا۔ ”تم خودہی بتائو کہ جس عورت کو اس قدر غم ہوں وہ حشر کی خواہش کس طرح کر سکتی ہی۔“
|