|
حضرت رابعہ بصری
اسی زمانےمیں بصرہ کےحاکم محمد بن سلیمان ہاشمی نےآپ کو شادی کا پیغام بھیجا آپ نےجواباً فرمایا تم نےلوگوں کےکہنےپر مجھےشادی کا پیغام بھیجا لہٰذا تو معافی کا حقدار ہےمگر یاد رکھ تیری موت قریب ہےاور بعداز موت تو حشرات العرض کےکھانےکا سامان ہو گا یہ جواب سن کر حاکم اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا اور باقی عمر استغفار میں گزار دی۔
آپ شادی کو عبادت میں رکاوٹ سمجھتی تھیں اور لمحہ بھر کیلئےبھی آپ کو اللہ سےدوری پسند نہ تھی۔
حضرت رابعہ بصری بڑےحکیمانہ انداز میں گفتگو فرماتی تھیں۔ یہاں تک کہ بڑےبڑےصاحبان علم آپ کےحضور میں عاجز رہ جاتےتھی۔ ایک بار کسی شخص نےآپ کی گوشہ نشینی پر اعتراض کرتےہوئےکہا۔ ”ذرا باہر نکل کر دیکھئےکہ کیسی بہار آئی ہوئی ہی۔“
حضرت رابعہ بصری نےبےساختہ فرمایا۔ ”میرا کام صانع کو دیکھنا ہی‘ اس کی صنعت کو نہیں۔“
آپ ہر روز ایک نفل ادا کرتی تھیں طویل ریاضت و عبادت کےبعد ایک مرتبہ آپ نےحج بیت اللہ کا ارادہ کیا۔ لیکن یہاں بھی آپ کی آزمائش مقصود تھی۔ آغاز سفر میں ہی ان کا گدھا مر گیا۔ قافلہ والوں نےسواری اور مدد کی پیشکش کی۔ جسےآپ نےقبول نہ کیا۔ آپ نےگریہ زاری کرتےہوئےکہا اےرب العالمین میں کمزور ہوں‘ عورت ہوں اور تیسرےدیدار کی پیاسی ہوں تو نےمیری تشنگی میں اضافہ کر دیا۔ مجھےاپنےپاس بلانےکی بجائےاس بیابان میں تنہا چھوڑ دیا۔ ابھی آپ رب کےحضور گریہ زاری میں مصروف ہی تھیں کہ مردہ گدھا زندہ ہو گیا۔ گدھےکو زندہ دیکھ کر آپ نےاللہ تعالیٰ سےمخاطب ہو کر کہا جس طرح تونےگدھا زندہ کیا ہےاسی طرح مرتےدم تک میری ایسےہی لاج رکھنا اور مجھےاپنا قرب عطا فرمانا۔ پھر گدھےپر سوار ہو کر ارض مقدس جا پہنچی جہاں اللہ تعالیٰ کےانوار اور تجیلات سےنوازی گئیں۔
اسی طرح عالم شباب میں ایک مرتبہ ایک نوجوان آپ کا پیچھا کرتا ہوا گھر تک پہنچ گیا۔ حال دل سنانےکیلئےجب گھر کا دروازہ کھولا تو آپ کو اللہ کےحضور سجدہ ریز پایا۔ خدا سےرازونیاز کرتےہوئےدیکھ کر نوجوان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ اس کی زبان گنگ ہو گئی آپ نےپلٹ کر نوجوان کو دیکھا اور آنےکی وجہ پوچھی نوجوان نےبتایا کہ اس سےبولنےکی قوت چھن گئی ہےپھر التجا بھرےلہجےمیں کہا کہ میری قوت گویائی لوٹا دی جائی۔ آپ نےفرمایا اگر تو زیادتی کی نیت سےآیا تھا تو معافی مانگ۔ نوجوان سجدےمیں گر کر توبہ استفغار کرنےلگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نےجب اس کی قوت گویائی لوٹائی تو وہ دیوانہ وار استغفار کےنعرےلگانےلگا۔ مرتےدم تک بصرہ کےدرودیوار اس دیوانےکےنعروں سےگونجنےلگی۔
ایک بار ایک شخص آپ کی مجلس میں حاضر ہوا جس کےسر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ نےسبب پوچھا تو اس نےبتایا کہ اس کےسر میں دردہی۔
حضرت رابعہ بصری نےدوبارہ پوچھا کہ اس کی عمر کیاہی؟ جواب میںاس شخص نےکہا کہ اس کی عمر تیس سال ہی۔ حضرت رابعہ بصری نےتیسرا سوال کی کہ وہ اس عرصےمیں بیمار رہا یا تندرست؟ اس شخص نےعرض کیا کہ وہ اس دوران کبھی بیمار نہیں ہوا۔
اس شخص کا جواب سن کر حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”تم تیس سال تک تندرست رہےمگر اس عرصےمیں ایک دن بھی شکریہ ادا کرنےکیلئےاپنےسر پرپٹی نہیں باندھی مگر آج ذرا سی دیر کیلئےبیمار ہوئےتو اپنےمالک کی شکایت کرنےکیلئےفوراً سر پر رومال باندھ لیا۔“ آپ کی بات سن کر وہ شخص نہایت شرمندہ ہوا۔
ایک بار کچھ اہل علم جو آپ کی شہرت و محبوبیت سےحسد رکھتےتھےمجلس میں حاضر ہوئےاور کہنےلگی۔ ”اللہ تعالیٰ نےمرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہی۔ ہمیشہ مرد ہی کو نبی یارسول اللہ بنا کر بھیجا گیا ہی۔ آج تک کسی عورت کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔“
ان لوگوں کو بات سن کر حضرت رابعہ بصری نےفرمایا۔ ”بےشک یہی اللہ کا نظام ہےمگر ایک بات غور سےسن لو کہ مردوں ہی نےخدا کادعویٰ کیا ہی۔ کسی عورت نےآج تک یہ نہیں کہا کہ میں تمہارا بڑا رب ہوں۔“ حضرت رابعہ بصری کااشارہ فرعون مصر کی طرف تھا جوخدائی کےبلند بانگ دعوےکیا کرتا تھا۔
|