|
حضرت رابعہ بصری
حضرت رابعہ شاعری بھی کیا کرتی تھیں۔ آپ کا سارا کلام کیفیات عشق سےمعمور تھا۔ ایک مقام پر فرماتی ہیں۔
”اےنفس! تو اپنےاللہ سےمحبت کا دعویٰ کرتا ہےحالانکہ اس کی نافرمانی بھی کرتا ہی۔ اس سےبڑھ کربھی کوئی عجیب بات ہو سکتی ہی۔“
ایک اور مقام پر فرماتی ہیں۔ ”میں تجھ سےمحبت کرتی ہوں۔ دو طرح کی محبت۔ ایک محبت ہےآرزو اور تمنا کی۔۔۔۔ اور دوسری محبت ہےصرف تیری ذات کی۔ میری وہ محبت جو آرزو اور تمناسےلبریز ہی‘ وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔۔ مگر وہ محبت جو صرف تیری ذات سےہی‘اسی محبت کا واسطہ‘ حجاب کو دور کر دےتاکہ آنکھیں تیرا جلوہ دیکھ سکیں۔“
حضرت امام غزالی فرماتےہیں۔ ”رابعہ بصری نےاپنےاشعار میں غرض اور آرزو کی جس محبت کاذکر کیا ہی‘ اس سےمراد اللہ کا احسان اور انعام ہےجو وہ اپنےبندوں پر روا رکھتا ہی۔۔۔۔ اورجس ذات الٰہی کی بات کی ہی‘ اس سےمراد یدار خداوندی کی محبت ہےجس کانظارہ ان کےدل کی آنکھوں نےکیا اور یہی محبت سب سےبہتر اوربرتر ہی۔ جمال ربوبیت کی لذت بجائےخودسب سےبڑی چیز ہی۔ اس کےمتعلق حدیث قدسی میں وارد ہوا ہےکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ میں اپنےصالح بندوںکو وہ چیز دیتا ہوں جسےعام آنکھیں دیکھ سکتی ہیں‘ نہ عام کان سن سکتےہیں اور نہ کسی انسان کےدل میں اس کا خیال گزر سکتا ہی۔“
محبت کا یہ آبشار اٹھاسی برس تک جاری رہا۔ حضرت رابعہ بصری 185ھ میں اس طرح دنیا سےرخصت ہوئی جیسےبادنسیم کا کوئی جھونکا تیزی سےگزر جائی۔ وفات سےتھوڑی دیرقبل بصرہ کےکچھ لوگ عیادت کیلئےحاضر ہوئی۔ حضرت رابعہ نےانہیں دیکھ کرفرمایا۔
”فرشتوں کیلئےراستہ چھوڑ دو۔“
لوگ باہر چلےگئےتو آپ نےبستر سےاٹھ کر دروازہ بند کر دیا۔ کچھ دیر تک بات کرنےکی آوازیں آتی رہیں۔ پھر جب خاموشی چھا گئی تو لوگوں نےدروازہ کھولا۔ حضرت رابعہ بصری دنیا سےرخصت ہو چکی تھیں۔ لوگوںنےاشکبار آنکھوں سےدیکھا۔ محبت کانغمہ¿ سرمدی خاموش ہو چکا تھا۔
|