|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
فرزند! زندگی کےسفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سےگزرنا پڑتا ہےاگر تم ابھی سےاپنی تکلیفوں کا ماتم کرنےبیٹھ گئےتو زندگی کےدشوار گزار راستےکیسےطےکرو گی۔
اٹھو اور پوری توانائی سےاپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہےیہ والد سےمحبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتےرہو۔ اولاد کی والدین کیلئےحقیقی محبت یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنےہر عمل سےبزرگوں کےخواب کی تعبیر پیش کری۔تمہارےباپ کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کری۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کےحصول کیلئےہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنےلگی۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سےایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سےجاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلئےرہ گئی۔
والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنےوالی چکی آپ کو ورثےمیں ملی۔ والدین کی جدائی کےبعد باغبانی کا پیشہ آپ نےاختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتی۔زمین کو ہموار کرتےپودوں کی دیکھ بھال کرتی۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتی۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئےکہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج ممکن نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غورکرتےجب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کےعالم میں آسمان کی طرف دیکھتےاوررونےلگتی۔ یہ خدا کےحضور بندےکی ایک خاموش التجا تھی۔
ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےباغ میں درختوں کو پانی دےرہےتھےکہ ادھر سےمشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی کاگزر ہوا۔ آپ نےبزرگ کو دیکھا تو دوڑتےہوئےگئےاور حضرت ابراہیم قندوزی کےہاتھوںکو بوسہ دیا۔
حضرت ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سےبہت متاثر ہوئی۔ انہوں نےکمال شفقت سےآپ کےسر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگےجانےلگےتو آپ نےحضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔
حضرت ابراہیم نےمحبت بھرےلہجےمیں پوچھا اےنوجوان! ”آپ کیا چاہتےہیں؟“
حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےعرض کی کہ آپ چند لمحےاور میرےباغ میں قیام فرما لیں۔ کون جانتا ہےکہ یہ سعادت مجھےدوبارہ نصیب ہوتی ہےکہ نہیں۔ آپ کالہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سےانکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئی۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سےبھرےہوئےدو طباق لئےآپ حضرت ابراہیم کےسامنےرکھ دئیےاور خود دست بستہ کھڑےہو گئی۔
اس نو عمری میں سعادت مندی اورعقیدت مندی کا بےمثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھی۔ انہوں نےچند انگور اٹھا کر کھا لئی۔ حضرت ابراہیم کےاس عمل سےآپ کےچہرےپر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نےفرمایا۔ معین الدین بیٹھ جائو!
آپدوزانوں ہو کر بیٹھ گئی۔ فرزند! تم نےایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہی۔ یہ سرسبز شاداب درخت‘ یہ لذیذ پھل یہ ملکیت اورجائیداد سب کچھ فنا ہو جانےوالا ہی۔ آج اگریہاں بہار کا دور دورہ ہےتو کل یہاں خزاں بھی آئےگی۔ یہی گردش روزوشب ہےاور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائےگا۔ پھر اللہ تعالیٰ تجھےایک اور باغ عطا فرمائےگا۔ جس کےدرخت قیامت تک گرم ہوائوں سےمحفوظ رہیں گی۔ ان درختوں میں لگےپھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لےگا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نےاپنےپیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سےروٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہی۔
یہ کہہ کر خشک روٹی کاوہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کےمنہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ
سےنکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سےچل دیئی۔
|