|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
حضرت ابراہیم کی دی ہوئی روٹی کا ٹکڑا اس قدر سخت اور خشک تھا کہ اس کا چبانا دشوار تھا۔ مگر آپ نےایک بزرگ کا تحفہ سمجھ کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ اس ٹکڑےکا حلق سےنیچےاترنا ہی تھا کہ حضرت معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونےلگا جیسےکائنات کی ہر شےفضول ہی۔
دوسرےہی دن آپ نےاپنی چکی اور باغ فروخت کر دیا اور اس سےحاصل ہونےوالی رقم غریبوں اورمحتاجوں میں بانٹ دی۔ عزیزواقارب آپ کی اس حرکت کو دماغی خلل بھی قرار دےرہےتھےلیکن وہ یہ سمجھنےسےقاصر تھےکہ ذہن و دل کےکس گوشےسےروشنی کی وہ لکیر پھوٹ رہی ہےجس نےدنیا کےتمام اجالوں کو دھندلا کر کےرکھ دیا ہی۔
بعدازاں آپ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹانےکےبعد تحصیل علم کیلئےخراساں کو خیرباد کہہ کر سمرقند بخارا کا رخ کیا جو اس وقت علوم وفنون کےاہم مراکز تصور کئےجاتےتھی۔ یہاں پہلےآپ نےقرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر‘ فقہ‘ حدیث اور دوسرےعلوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔
علوم ظاہری کی تکمیل کےبعد آپ نےمرشد کامل کی تلاش میں اورعراق کا رخ کیا۔ راستےمیں اپنےزمانےکےمشہور بزرگ حضرت خواجہ عثمان ہرونی سکونت پذیر تھی۔ حضرت خواجہ کچھ دن تک ایک عام طالب علم کی حیثیت سےحضرت عثمان ہرونی کی خدمت میں حاضر ہوتےرہی۔ مگر شیخ نےکوئی توجہ نہ دی۔ پہلےقدرےمایوس ہوئےبعدازاں ایک موقع پا کر آپ نےدل کی بات شیخ سےکہہ ہی ڈالی کہ میری دلی تمنا ہےکہ آپ مجھےمستقل غلامی کا شرف بخشیں۔ اس پر حضرت عثمان ہرونی نےفرمایا فرزند! مجھ سےاپنا ہی بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ تمہارا کیسےاٹھائوں گا دراصل شیخ آپ کو ٹالنا چاہتےتھےلیکن آپ مسلسل اصرار فرماتےرہی۔
پھر ایک دن حضرت عثمان ہرونی نےآپ کو اپنےحلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےمرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہی۔ آپ پیرومرشد کی خدمت کیلئےساری ساری رات جاگتےرہتےکہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائی۔
پھر ایک دن حضرت خواجہ کو مرشد پاک نےسینےسےلگا کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئےاور دعا فرمائی۔ ”اےخدائےذوالجلال!معین الدین کو قبول فرما لی۔ اس نے بےسروسامانی کےباوجود مجھےنہیں چھوڑا تو بھی اسےزمین پرتنہا نہ چھوڑ۔ ابھی دعا کےالفاظ مکمل بھی نہ ہوپائےتھےکہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی بارش نور میں نہا گئی۔ ایک تیز شعاع دل و دماغ کو روشن کرتی چلی گئی۔ اور آپ کی آنکھوں کےسامنےسےتمام حجابات اٹھ گئی۔
معین الدین! اب کیا نظر آتا ہے؟ حضرت عثمان ہرونی نےآپ سےفرمایا۔ آپ کےصدقےمیں عرش سےتحت الثری تک دیکھ رہا ہوں۔ حضرت معین الدین چشتی نےکہا۔
اللہ کا شکر ہےکہ تم سیراب ہو گئی۔ ورنہ عشق کےصحرا میں لوگ ایک بوند کیلئےزندگی بھر ترستےرہتےہیں پھر آپ کےپاس جو شخص بھی نگاہ کرم کی بھیک مانگنےآتا تو آپ فرماتےکہ میرےپاس جو کچھ تھا وہ میں نےمعین الدین کو عطا کر دیا ہی۔
ایک اور روایت کےمطابق حضرت عثمان ہرونی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو لےکر مکہ معظمہ حاضر ہوئی۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنےکےبعد آپ نےبلند آواز میں فرمایا۔ الٰہی!معین الدین حاضر ہےاپنےاس عاجز بندےکو شرف قبولیت عطا فرما۔
جواب میں ندائےغیبی سنائی دی۔ ”ہم نےاسےقبول کیا۔ بےشک! یہ معین الدین ہی۔
پھر مکہ معظمہ کےبعد مدینہ منورہ تشریف لےگی۔ پھر جیسےہی سرورِکائنات ا کی قربت حاصل ہوئی حضرت عثمان ہرونی نےخواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔”معین الدین! آقائےکائنات کےحضور اسلام پیش کرو۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےگداز قلب کےساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“
وہاں موجود تمام لوگوں نےسنا۔ روضہ رسول ا سےجواب آیا۔ ”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔
|