|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
اس کےبعد راجپوتوں کی ایک اور جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ کےپیغام کو سنا اور اپنےآبائواجداد کا مذہب چھوڑ کر ایک ایسےمذہب میں داخل ہو گئےجس کی نگاہ میں اچھوت‘ کھتری‘ شودر‘ راجپوت اور برہمن سب برابر تھی۔ کفر کےقلعےمیں پہلا شگاف پڑ چکا تھا۔ مذہبی اجارہ داروں کی پیشانی پر گہری لکیریں ابھر آئیں۔ نجومیوں اور پنڈتوں نےآسمان کی طرف دیکھا ستاروں کی گردش میں ایک عجیب سا انتشار برپا تھا۔ پراسرار علوم کےجاننےوالےحیرت زدہ تھےاور آسمان کےبروج میں کسی خوفناک انقلاب کی تصویر صاف نمایاں تھی۔
ہندو دھرم کےرکھوالوں نےآپ کےہاتھ پر مسلمان ہونےوالوں کو طلب کیا اورپوچھا ”آخر تمہیں اس اجنبی کےپیغام میں کیا کشش محسوس ہوئی تم نےاس کےخدا کو دیکھا ہی؟“
دین اسلام میں داخل ہونےوالےنو مسلمانوں نےکہا ہم کچھ نہیںجانتےہمارےدل نےگواہی دی کہ وہ سچ بولتا ہی۔ بس ہم مجبور ہو گئی۔
کچھ ناعاقبت نااندیشوں نےراجہ پرتھوی چوہان کےسامنےیہ تجویز پیش کی کہ باغیوں کی اس مختصر سی تعداد کو قتل کردیا جائےاوراسلام کےخطرےسےہمیشہ کیلئےجان چھڑا لی جائی۔ راجہ پرتھوی نےیہ تجویز قبول نہیں کی کہ مسلمان ہونےوالوں میں بہت سےبااثر ہندو قبائل کےلوگ بھی شامل تھےاس طرح ریاست میں انتشار پھیلنےکا اندیشہ تھا۔ لیکن ان کےمعاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ نو مسلم افراد حضرت معین الدین چشتی کےقدموں میں آپڑی۔
جاسوسوں نےپرتھوی راج کوخبر دی کہ معتوب راجپوت نیا مذہب قبول کر کےبہت زیادہ خوش ہیں تو وہ آگ بگولا ہو گیا اورمسلمانوں کےخلاف سازشوں کےنئےجال بنےجانےلگی۔
اسی دوران حضرت معین الدین چشتی کا ایک خادم آپ کےوضو کیلئےاناساگر تالاب سےپانی لینےکیلئےگیا تو وہاں خلاف معمول راجہ کےسپاہی تعینات نظر آئےجب خادم نےپانی سےگھڑا بھرنا چاہا تو راجپوت سپاہیوں نےسختی سےمنع کر دیا اور کہا کہ اب تم اچھوت ہو تالاب کےپانی کو گندہ مت کرو۔
خادم نےکہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا۔ ہم تو پھر انسان ہیں اس پر راجپوت سپاہیوں نےکہا کہ تم حیوانوں سےبھی بدتر ہو۔ خادم نےآکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نےفرمایا کہ راجپوت سپاہیوں سےکہو کہ اس مرتبہ ایک گھڑا پانی لےلینےدو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گی۔
آپ کےحکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینےگیا تو راجپوت سپاہیوں نےتمسخر اڑاتےہوئےکہا کہ آج گھڑا بھر لو اس کےبعد تمہیں یہاں سےپانی لینےکی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نےمرشد کےحکم کےمطابق وہ گھڑا بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کےساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کےپہاڑ ٹوٹ گئےکہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹےسےبرتن میں سمٹ آیا تھا۔ تالاب کےجس پانی پر راجپوت سپاہی تکبر کر رہےتھےوہ پانی سےخالی ہو چکا تھا۔ راجپوتوں کےنزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سےخوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑےہو گئی۔ آپ کا خادم بھی لرزتےقدموں سےواپس آیا۔ کانپتےلہجےمیں سارا واقعہ سنایا۔ آج اسےپہلی بار اپنےمرشد کی روحانی طاقت کا احساس ہو چکاتھا۔
پورےاجمیر شہر میں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کےخشک ہونےکی خبر سب کیلئےحیران کن تھی۔
پرتھوی راج مسلمانوں کےبڑھتےہوئےاثرورسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا۔ مشیروں نےاسےمشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتےہیں۔۔
|