|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
جب یہ خبر پرتھوی راج تک پہنچی تو قہر آلود لہجےمیں اپنےمشیروں سےمخاطب ہوا میں آخر کب تک اس آفت ناگہانی کو برداشت کرتا رہوں گا۔ فوج کو تیاری کا حکم دو اور اس سرزمین سےمٹھی بھر مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دو۔ مشیروں نےکہا کہ ابھی چند مسلمانوں کےخلاف اتنی بڑی فوج کی ضرورت نہیں۔ ابھی جوگی جےپال زندہ ہی۔ جےپال کانام سن کر پرتھوی راج کےچہرےپر خوشی و مسرت کےآثار دکھائی دیئےوہ جوش غضب میں اس عظیم جادوگر کو بھول گیا تھا حالانکہ وہ خود بھی اس کا معتقد تھا۔ جےپال جوگی کوسحر و طلسم میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ پورےہندوستان میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ہزاروں جادوگر اس کےشاگرد تھی۔ پھر جب جوگی جےپال پرتھوی راج کےدربار میں حاضر ہوا تو اجمیر کا حکمران اپنی نشست سےاٹھ کر اس کےقدموں کو چومنےلگا۔ جب جوگی نےبےوقت طلبی کا سبب پوچھا تو پرتھوی راج نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی آمد اور شادی جادوگر کی شکست کےواقعات تفصیل سےسنائی۔ پرتھوی راج کی زبان سےواقعات سن کر جوگی جےپال انتہائی غرور اور تکبر سےکہنےلگا کہ پورےہندوستان میں میرےعلم کی حکومت ہی۔میں بیٹھےبیٹھےچاہوں جسےعہدےسےمعزول کر دوں اور جسےچاہوں حکمرانی عطا کردوں۔ خود مجھےاپنی غفلت پر افسوس ہےکہ میں گردوپیش سےبےخبر رہا اورایک مسلمان فقیر نےمیری مملکت میں اتنا بڑا ہنگامہ برپا کر دیا۔ یہ کہہ کر جوگی جےپال غصےسےکانپنےلگا۔ آج مسلمانوں کا اس سرزمین پر آخری دن ہی۔ میں انہیں ایسا سبق سکھائوں گا کہ پھر کبھی کوئی اچھوت اس پوتر استھان کارخ نہیں کرےگا۔ جوگی جےپال کا تکبر انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ جےپال نےپہلےاپنےچیلوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمان فقیر اور اس خدمت گاروں کا کام تمام کریں۔ پھر اجمیرشریف کی پہاڑیوں سےآگ کےشعلےبلند ہوئےاور تیزی سےاس طرف بڑھنےلگےجس طرف حضرت خواجہ معین الدین چشتی قیام پذیر تھی۔ لیکن جادوگر کےسہارےپیدا ہونےوالی آگ آپ کےآستانےسےکچھ پہلےہی بجھ گئی۔ پھر جادو کےسانپ پیدا کئےگئےجو پھن اٹھائےمسلمانوں کی طرف بڑھی۔ لیکن یہ سانپ بھی کچھ ہی دور جاکر سر پٹک کر غائب ہونےلگی۔ جادو کےدونوں خوفناک ترین مظاہروں کی ناکامی کےبعد چیلوں نےگرو کےسامنےاعتراف شکست کر لیا۔ اس پرجےپال جوگی بہت سیخ پا ہوا اور وہ اکیلا ہی آپ کےآستانےکی طرف بڑھا اورآپ کےبالکل قریب آکر کہنےلگا ”میں جوگی جےپال ہوں“ ہندوستان کےتمام دریائوں‘ پہاڑوں‘ جنگلوں اورشہروں پر میرےجادو کی حکومت ہےاس سےپہلےکہ میں تم پر آسمانی قہر بن کےنازل ہو جائوں بہتر ہےتم لوگ یہاں سےچلےجائو۔ میں تمہیں فرار کیلئےراستہ دینےکو تیار ہوں اور اب تک سرزمین اجمیر میں جتنےہنگامےاورفتنےبرپا ہو چکےہیں ان کا حساب طلب نہیں کروںگا۔
آپ نےجوگی کو مخاطب کرتےہوئےفرمایا کہ ہم یہاں سےجانےکیلئےنہیں آئےاللہ ہی جانتا ہےکہ آسمانی قہرکس پر نازل ہوتا ہی؟ اس پر جوگی جےپال غصےسےبھڑک اٹھا اس نےاپنےہاتھ کو فضا میں جنش دی یکایک ایک رسی برآمد ہوئی جس کا ایک سرا زمین اور دوسرا تاحد نظرآسمان کی وسعتوں میں گم تھا اسی اثناءمیں جےپال نےاس رسی پر آسمان کی جانب چڑھنا شروع کر دیا۔ جب آسمان کی طرف تھوڑا ہی فاصلہ طےکیا تو آپ نےاپنی جوتی کو فضا میں اچھالا جو جوگی جےپال کےسر پر بولنےلگی جس سےچیختا چلاتا جوگی زمین پر آگرا اور آپ کےقدموں سےلپٹ کر مسلمان ہو گیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےآپ کا نام عبداللہ صحرائی رکھا۔جنہوں نےاپنےمرشد کےحوالےسےبہت شہرت پائی۔
اس طرح ہندوستان کی ناقابل شکست طاغوتی طاقتیں صرف ایک ہی جنبش میں آپ نےمسخر کر لیں۔
جب جےپال جوگی کےمسلمان ہونےکی خبر پرتھوی راج تک پہنچی تو وہ آگ بگولا ہوگیا اور آپ کی دہشت اس پر طاری ہو گئی۔ انہی دنوں ایک بوڑھےمذہبی پیشوا نےپرتھوی راج کو اس کی ماں کی نصیحت یاد دلائی جو اپنےوقت کی ماہر نجوم تھی پرتھوی راج کی ماں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی اجمیر آمد سےپہلےایک خواب دیکھا تھا۔ جس میں ایک مرد بزرگ کی آمد کی خبر دی گئی تھی۔ جب صبح وہ بیدار ہوئیں تو اس نےپرتھوی کو قریب بلا کر بڑی محبت سےکہا کہ عنقریب اس علاقےمیں ایک بزرگ آئےگا جس کی ریاضت سےمتاثر ہو کر بےشمار لوگ اپنےباپ دادا کا دھرم چھوڑ کر نیا مذہب اختیار کر لیں گےتو بھی اس بزرگ کی باتوں کو غور سےسننا اور اگر دل مانےتو نئےمذہب میں داخل ہو جانا۔ اگرایسا نہ کر سکو تو خاموش رہنا اگر تم نےراستےکی دیوار بننا چاہا تو انجام بہت بھیانک ہو گا۔۔
|