|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
پرتھوی راج نےاپنی ماں کےخواب کو ایک واہمہ قرار دیا تھا۔ جب بیٹےنےماں کی نصیحت پر کان نہ دھرا تو اس نےدربار کےچند وفادار مشیروں کو کہہ دیا کہ اگر میرےمرنےکےبعد وہ بزرگ آجائےتو اس سےادب واحترام سےپیش آنا۔
پھر ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےایک عقیدت مند نےایک دودھ والی کو آواز دےکر دودھ خریدنےکی جستجو کی اور دودھ میں انگلی ڈال کر اس کی کوالٹی چیک کرنی چاہی تو گوالن چیختی چلاتی پرتھوی راج کےدربار میں جاپہنچی اور واویلا کیا کہ آپ کیلئےلائےجانےوالےدودھ کو ایک مسلمان نےپلید کر دیا ہی۔ جس پر راجہ بہت مضطرب ہوا۔ اور سپاہیوں کو اس مسلمان عقیدت مند کو گرفتار کرنےکیلئےبھیج دیا۔ جب سپاہی مسلمان کو گرفتار کر کےدربار میں لائےتو دربار میں سکوت مرگ جاری تھا۔ آج پہلی مرتبہ راجہ آپ کےعقیدت مند کو اتنےقریب سےدیکھ رہا تھا۔ پرتھوی راج نےاس انگلی کو کاٹنےکا حکم دیا جو دودھ میں ڈالی گئی تھی۔ جب وہ انگلی کاٹی گئی تو خون کی ایک دھار سرزمین اجمیر شریف پر بہہ نکلی جو راجہ نےاپنی حکومت کیلئےنیک شگون تصور دیا۔ کٹی ہوئی انگلی اٹھا کر جب وہ مسلمان حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئےتو آپ نےچند قرآنی آیات تلاوت فرمائیں جن کا ترجمہ یہ تھا۔
”عنقریب ہم تمہیں جان و مال اور اولاد کےخسارےسےآزمائیں گی۔ پھر جو اس راستےپر ثابت قدم رہےگا۔ وہی اپنےرب کا پسندیدہ بندہ قرار پائےگا۔ پھر فرمایا روشن علی تم اپنی کٹی ہوئی انگلی زمین میں دفن کر دو۔ اس کےساتھ ہی پرتھوی راج کی حکومت پر بھی مٹی ڈال دو۔ اور فرمایا پرتھوی راج میں نےتمہیں زندہ حالت میں لشکر اسلام کےحوالےکیا۔ جب یہ خبر پرتھوی راج تک پہنچی تو وہ قہقہےمارنےلگا کہ مجھےگرفتار کرنےکیلئےلشکر اسلام کہاں سےآئےگا۔ غوری تو گذشتہ سال راجپوتوں کی شجاعت کو آزما چکا ہےکیا وہ اس قدر جلد اپنی شکست کو فراموش کر کےدوبارہ ادھر کا رخ کرےگا۔
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہےکہ587ھجری میں شہاب الدین غوری نےایک خوفناک مقابلےکےبعد پرتھوی راج سےشکست کھائی تھی جب غوری شدید زخمی حالت میں زمین پر گرا تو وفادار غلام‘ قطب الدین ایبک اپنی جان کی پرواہ نہ کرتےہوئےآگےبڑھا اور شہاب الدین غوری کو میدانِ جنگ سےنکال کر محفوظ مقام تک لےگیا ایک خادم نےآقا کی نمک خواری کاحق ادا کر دیا تھا اس کےساتھ ہی مسلمانوں کی تاریخ کو ایک نئی زندگی ملی۔
شہاب الدین غوری اپنےلہو میں نہایا ہوا غزنی پہنچا۔ طبیبوں کی بہترین دوائوں اور خدمتگاروں کی سخت تیمارداری نےغوری کےزخم بھر دیئےلیکن اس کےدل و دماغ اور روح سےان کےزخم اب بھی ہرےتھےاور جنگی لباس بھی تبدیل نہ کیا تھا۔ اس نےیہ عہد کیا کہ وہ اس وقت تک خون سےآراستہ لباس کو اپنےجسم سےالگ نہیں کرےگا۔ جب تک پرتھوی راج کو آہنی بیڑیوں میں جکڑ کر اس کےسامنےحاضر نہیں کیا جاتا اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر یہی خون آلود لباس جو پرتھوی راج سےمعرکےکےوقت زیب تن تھا وہ اس کا دائمی لباس بنےگا۔ کچھ لوگوں نےغوری کےاس عزم کو جذباتیت سےتعبیر کیا۔
پھر ایک رات شہاب الدین غوری نےعجیب و غریب خواب دیکھاکہ کوئی بزرگ افغان سپہ سالار سےفرما رہےتھی۔ مایوسیوں کےدائرےسےنکل اور اجمیر پر حملہ کر اس بار خدا تجھےفتح عظیم سےسرفراز کرےگا۔
بعض تاریخی کتابوں میں شہاب الدین غوری کا یہ خواب اس طرح بیان کیا گیا ہی۔
”ایک مجلس نور آراستہ۔ درودیوار سےتیزروشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ جہاں تک نظر جاتی ہی۔ خدام دست بستہ قطار در قطار کھڑےہیں۔ شہاب الدین غوری بھی اس انسانی ہجوم میں موجود ہےسامنےتخت زرنگار پر ایک روش چہرہ بزرگ جلوہ افروز ہیں۔ ان کےجاہ جلال کا جو عالم ہےکہ حاضرین کی نگاہیں دم بھر کےلئےاٹھتی ہیں اور فرش پر جم جاتی ہیں۔ پوری محفل پر گہرا سکوت طاری ہی۔ شہاب الدین غوری حیرت زدہ ہیں ایک ایک خادم کی شکل دیکھ رہا ہی۔ مگر اسےیہ دریافت کرنےکی جرا¿ت نہیں ہوتی کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ یہ دربار کیسا ہی؟ اور اسےیہاں کس مقصد کیلئےلایا گیا ہی۔ ابھی غوری کےذہن میں اس قسم کےخیالات گردش کر ہی رہےہیں کہ دفعتاً ایک خادم جو زرنگار تخت کےقریب کھڑا ہی‘ غوری کی طرف بڑھتا ہی۔ پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہجوم سےگزرتا ہوا بزرگ کےقریب پہنچ جاتا ہی۔۔۔۔ ”شہاب الدین غوری حاضر ہی۔۔۔۔“ خادم نہایت ادب محبت آمیز نظروں سےدیکھتےہیں۔۔۔۔ ”خدا نےتجھےکافروں پرغلبہ عطا کردیا اور ہندوستان کی عظیم الشان سلطنت بخش دی۔“ بزرگ کا لہجہ شیریں تھا مگر الفاظ میں ایک ایسا جلال پوشیدہ تھا کہ غوری کےجسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور فوراً ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔
|