|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
افغان سپہ سالار رات بھر ایک عجیب و غریب کیفیت سےدوچار رہا۔ صبح ہوتےہی مصاحبین سےخواب بتا کر مشورہ مانگا تو سب نےکہا کہ زندگی میں کوئی خوشگوار لمحہ آنےوالا ہی۔ کچھ لوگوں نےکہا کہ یہ غوری کےذاتی خیالات ہیں جو دماغ کےکسی گوشےمیں نقش ہو کر رہ گئےتھےجب ایسےخیالات کو عملی شکل دینےکا موقع نہیںملتا تو یہ خواب کی حالت میں نظر آتےہیں۔ چونکہ بظاہر حالات موافق نہ تھےاس لئےشہاب الدین غوری نےخواب فراموش کر دیا۔
کچھ عرصہ بعد افغان سپہ سالار نےانہی بزرگ کو دوبارہ خواب میں دیکھا اس باروہ بزرگ انتہائی پرجلال لہجےمیں فرما رہےتھی۔
”اےاسلام کےجانباز فرزند! خیالات کےطلسم سےنکل اور اپنی آنکھوں سےقدرت کی کرشمہ سازیوں کاتماشہ دیکھ! خدا مایوس ہونےوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ غوری نےخواب کےبارےمیں اپنےمخلص دوستوں سےمشورہ کیا جو واضح جواب نہ دےسکی۔ پھر کئی دنوں کی جستجو کےبعد افغان سپہ سالار کواس ہستی کا نشان مل گیا جسےشہر کی رونقوں سےکوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ایک تارک الدنیا بزرگ تھےجو غزنی کےنواح میں کسی ویران مقام پر خاموش زندگی گزار رہےتھی۔ غوری خود ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور خواب سنایا۔
بزرگ نےخواب کی تعبیر بیان کرتےہوئےکہا تم خوش نصیب ہوکہ تمہیں بہت جلد اس عظیم الشان انسان کی زیارت کا شرف حاصل ہو نےوالا ہےجسےدیکھنےکےانتظار میں نہ جانےکتنی آنکھیں بجھ گئیں اور نہ جانےکتنےلوگ زیر خاک ہو گئی۔ قلت فوج اور کثرت وسائل کےوسوسوں میں مبتلا نہ ہو کہ خدا ہر شےپر قادر ہےتم انہی مرد جلیل کےکہنےپرعمل کرو جو دوبار عالم خواب میں تمہیں زیارت سےفیض یاب فرما چکےہیں۔
چنانچہ اب پرتھوی راج کو شکست دینےکیلئےغوری کےراستےمیں کوئی دیوار نہ تھی۔ غوری نےاپنےبدن پر چپکےہوئےخون اور غلیظ و کشیف کپڑوں کو دیکھا اور اپنےساتھیوں سےمخاطب ہوا۔
”میرا خدا اس بات پرقادر ہےکہ وہ اپنےایک گنہگار بندےکےجسم سےذلت و شکست کےفرسودہ لباس کو اتار کر فتح کی خلعت زرنگار پہنائی۔“
چنانچہ 598 ھجری میں شہاب الدین غوری ایک لاکھ سات ہزار سپاہیوں پر مشتمل لشکر اسلام لےکر غزنی سےہندوستان کیلئےروانہ ہوا۔ جب مسلمانوں کا یہ لشکر پشاور پہنچا تو ایک بوڑھا غوری کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ سپہ سالار! ہمیں معلوم نہیں کہ جہاں پناہ کاارادہ کس طرف یلغار کرنےکا ہی۔
شہاب الدین غوری نےبڑےتلخ لہجےمیں فرمایا کیا تجھےمعلوم نہیں کہ جس دن سےمیں نےپرتھوی راج سےشکست کھائی ہےاس روز سےنہ تو اپنی بیوی کامنہ دیکھا ہےاور نہ ہی یہ خون آلود لباس تبدیل کیا ہی۔
پھر لاہور پہنچ کرشہاب الدین غوری نےاپنےایک معتمد امیر رکن الدین حمزہ کو ایک پیغام دےکر اجمیر روانہ کیا۔ رکن الدین حمزہ نےاجمیر کےدربار میں پرتھوی راج کےروبرو شہاب الدین غوری کا پیغام پڑھ کر سنایا۔
”مسلمانوں کا طریقہ یہ ہےکہ جب وہ کفر کی بستیوں کا رخ کرتےہیں تو سب سےپہلےاللہ اور رسول ا کا پیغام سناتےہیں۔ تاکہ بےخبر اور نافرمان لوگوں کیلئےحجت قائم ہو جائےاگر تم اسلام قبول کرلو تومیں تمہاراپچھلا گناہ معاف کرتا ہوں اور تیرےاور میرےدرمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ ہو سکتا ہےکہ ایک مسلمان کی حیثیت سےاجمیر اور دھلی پر تیرا ہی اقتدار قائم رہےاور آخرت کی نعمتیں بھی تمہیں میسر آجائیں۔“
|