|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
پرتھوی راج شہاب الدین غوری کا پیغام سن کر بھڑک اٹھا حیرت ہےکہ غوری اتنی جلدی اپنی شکست بھول کر مجھےمذہب اسلام کی لوریاں سنارہا ہےقاصد سےمخاطب ہو کر پرتھوی راج نےکہا شہاب الدین غوری سےکہو میں اوّل و آخر راجپوت ہوں اور ایک راجپوت تلوار کی جھنکار کےسوا کوئی آواز نہیں سنتا۔
پھر تمام ہندو مہاراجوں کےتعاون سےچار لاکھ کا لشکر لےکر شہاب الدین غوری کےمقابل آکھڑا ہوا۔ بڑےگھمسان کا رن پڑا۔ پھر آسمانی فیصلہ زمین پر نازل ہو گیا اورپرتھوی راج کی سپاہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پرتھوی راج اس ارادےسےمیدانِ جنگ سےبھاگ رہا تھا کہ دہلی پہنچ کر ایک بار پھر راجپوتوں کی بکھری ہوئی قوت کو سمیٹنےکی کوشش کرےگا۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔
جب مقررہ مہلت ختم ہو جاتی ہےتو سارےجن و انس مل کر بھی اس وقت معلومات میں کوئی کمی یااضافہ نہیں کرسکتی۔ پرتھوی راج نےابھی تھوڑا ہی فاصلہ طےکیا تھا کہ غوری کےایک دستےنےدریائےسرستی کےکنارےاسےجالیا معمولی مزاحمت کےبعد پرتھوی راج کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ پرتھوی راج کو بےدست و پا دیکھ کر شہاب الدین غوری نےکہا بےشک! زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہےوہ خدا کےہی لئےہی۔ اگر وہ اسی کو سربلند کرنا چاہےتو پھر کائنات کی تمام طاقتیں مل کر بھی اسےپست نہیں کر سکتیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کےہاں غوری کا عجزوانکسار تھا۔ پھر غوری نےبتوں کی اس سرزمین پر خدا کےحضور سجدہ شکر ادا کیا۔ کچھ سپاہیوں نےشہاب الدین غوری کو خبر دی کہ یہاں ایک مسلمان بزرگ بھی گوشہ نشین ہیں۔ اجمیر جیسےبت کدےمیں مسلمان بزرگ کی موجودگی غوری کیلئےحیران کن تھی۔ یہ سنتےہی اس کےمضطرب قدم حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی بارگاہ جلال کی طرف بڑھی۔ تمام مسلمان سردار بھی ہمراہ تھی۔
فاتح ہند نےجب اس درویش کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جو بہت دنوں سےصحرائےباطل میں تنہا اذان دےرہا تھا۔ غوری کی آنکھیں جمال معرفت کی تاب نہ لاسکیں اور بےاختیار وہ سجدہ ریز ہو گئیں۔ پھر کئی ماہ پہلےخواب کا عکس تازہ ہو گیا۔ جس بزرگ ہستی نےعالم خواب میں شہاب الدین غوری کو اجمیر پر حملےکا حکم دیا تھا وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہی تھی۔ افغان سپہ سالار جوش عقیدت میں آگےبڑھا اور اپنی دستارِ فضیلت حضرت خواجہ کےقدموں میں ڈال دی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےدستار اٹھا کر دوبارہ غوری کےسر پر رکھ دی اور فرمایا بےشک تمہارےدشمن قوی اور بالادست تھےلیکن اللہ تعالیٰ نےانہیں اپنی قدرت سےشکست سےہمکنار کر دیا اب تم پر لازم ہےکہ تم بھی حکومت الہیہ کےسلسلےمیں اپنی کوششیں تیز کر دو۔ عدل و انصاف کو اپنا شعار بنائو اور بھٹکےہوئےمسلمانوں کو ان کےمرکز کی طرف بلائو۔
اس عظیم الشان فتح کےبعد شہاب الدین غوری مفتوحہ علاقوں کاانتظام و انصرام اپنےوفادار غلام قطب الدین ایبک کےسپرد کر کےخود پرتھوی راج کو زندہ لےکر غزنی واپس چلا گیا۔
اجمیر شریف کی سرزمین تمام ناپسندیدہ عناصر سےپاک ہو چکی تھی اور اجمیر سمیت پورےہندوستان پر مسلمان کا قبضہ ہو چکا تھا۔ حضرت معین الدین چشتی برصغیر پاک و ہند کی اس لئےبھی عظیم روحانی ہستی قرار پاتےہیں کہ انہوں نےاپنی زندگی میں 50 کروڑ کفار کو مسلمان کیا۔ آپ سراپا محبت جمال تھےاسی حوالےسےہندو اورمسلمان آپ کو خواجہ غریب نواز بھی کہہ کرپکارتی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی چشم کرم نےاجمیر کےباشندوں کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ بت پرست اپنےصنم خانوں کو توڑ کر مساجد تعمیر کر رہےتھےسود خوری جن کا آبائی مذہب تھا وہ اپنی زندگی کاتمام سرمایہ اللہ کی راہ میں بےدریغ لٹا رہےتھےجن کےبازار ہوس میں نسوانی عزت و آبرو کی بولیاں لگائی جاتی تھیں وہ ناموس زن کےمحافظ بن گئی۔ پیپل کےدرختوں‘ زہریلےسانپوں‘ اڑتےہوئےپرندوں‘ گھاس چرتےہوئےجانوروں اوربہتےدریائوں کو خدا ماننےوالےاب ایک معبود کےسامنےسجدہ ریز تھےیہ سب کچھ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا فیضان نظر تھا۔
پھر آپ کچھ عرصےکیلئےاپنےمرید خاص اور خلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکیکےبےحد اصرار پر دھلی تشریف لےگئےتو اس وقت تک سلطان قطب الدین ایبک نےاسلامی سلطنت کی سرحدیں دور دور تک پھیلا دی تھیں۔ آپ نےدھلی پہنچتےہی سب سےپہلےنماز شکر ادا کی۔ یہاں آپ کئی ماہ قیام پذیر رہےانہی دنوں ایک اور واقعہ پیش آیا۔
|