|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےخلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی اور دوسرےفقرا کےہمراہ دھلی کےساتھ جنگل کی سیر کر رہےتھےکہ اچانک ایک نوجوان شہسوار سامنےسےآتا دکھائی دیا۔ لیکن جیسےہی وہ سوار آپ کےقریب پہنچا تو ادب سےگھوڑےکےنیچےاتر آیا اور جب وہ نوجوان آپ کےقریب پہنچا تو بڑےادب سےسلام کرنےکےبعد دور تک بڑےادب سےپیدل چلتا رہا۔ پھر دوبارہ گھوڑےپر سوار ہو گیا۔ اور آندھی کی طرح جنگل میں روپوش ہو گیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی یکایک ٹھہر گئےاور بہت دیر تک راستےکو دیکھتےرہےجدھر سےنوجوان گزرا تھا۔حضرت بختیار کاکی نےمرشد کی بدلی ہوئی کیفیت کو محسوس کر لیا۔
حضرت خواجہ نےفرمایا میں اس نوجوان کی شکل میں قدرت خداوندی کی جھلک دیکھ رہا تھا۔ یہ فقیر دوست نوجوان ہےنوجوان کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ درویشوں کی صحبت پسند کرتا ہےاس کا یہ عمل دونوں جہانوں میں سعادت کا سبب بنےگا۔ وہ بزرگانِ دین کےحلقہ اثر میں ہےاللہ تعالیٰ اسےاس وقت تک نہیں اٹھائےگا جب تک وہ تاج شاہی پہن نہیں لیتا۔ اقبال اس پر سایہ فگن ہےتخت ہندوستان اس کا انتظار کررہا ہےوہ آئےاور عدل وانصاف کےساتھ لوگوں پر حکومت کری۔
پھر سلطان قطب الدین ایبک کی رحلت کےبعد وہی نوجوان ہندوستان کا بادشاہ بنا اور اس نےشمس الدین التمش کےنام سےشہرت پائی۔
اجمیر شریف سےواپسی کےبعد آپ نےایک رات رسول اکرم ا کو خواب میں دیکھا رسالت مآب ا فرما رہےتھےمعین الدین! تم پر لازم ہےکہ ہماری ایک ایک سنت کو زندہ کرو۔
آنکھ کھلی تو آپ پر لرزہ طاری تھا۔ آپ ہر لحظہ سوچتےرہےکہ ان سےکون سی سنت ابھی تک رہ گئی ہےاچانک ایک روز شادی کا خیال آیا۔ اس طرح مضطرب ذہن نےخواب کی تعبیر تک رسائی حاصل کر لی۔
یہ عجیب راز تھا کہ جس روز آپ نےخواب میں حضور اکو دیکھا اسی رات قلعہ پٹلی کےحاکم ملک خطاب نےلشکر پر حملہ کر دیا اس معرکےمیں ملک خطاب کو فتح حاصل ہوئی۔ ہندو راجہ گرفتار ہو کرقتل ہوا اس راجہ کی ایک جوان بیٹی قید ہوئی۔ حاکم پٹلی اسےلےکر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا قدم بوسی کےبعد عرض کی یہ لڑکی اعلیٰ خاندان سےتعلق رکھتی ہےمیری خواہش ہےکہ آپ اسےایک کنیز کی حیثیت سےقبول فرما لیں۔
آپ نےفرمایا میں کسی کنیز یا خادمہ کی حاجت نہیں رکھتا۔ درویش کو آسائشیں زیب نہیں دیتیں اگر یہ لڑکی اپنی خوشی سےاسلام قبول کر لےتو فوج کےکسی اعلیٰ عہدیدار سےاس کی شادی کروا دو۔ اسلام میں جبرواکراہ جائز نہیں اسےاس کی مرضی پر چھوڑ دو۔ یہ جہاں جانا چاہےاسےجانےدو۔
لیکن ملک خطاب مسلسل اصرار کرتا رہا۔ وہ اس طرح سلطان الہند کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ حاکم پٹلی نےلاجواب ہو کر بارگاہ سلطان الہند سےاٹھا اور مفتوح راج کماروں کو چلنےکا اشارہ کیا۔ مگر اہل مجلس اس وقت حیران رہ گئےجب لڑکی نےملک خطاب کےساتھ جانےسےانکار کر دیا اور نہایت ادب سےکہا کہ میں اپنی باقی زندگی اگر آپ کےقدموں میں بسر کروں تو میرےلئےبڑی سعادت ہو گی۔ لڑکی کی خواہش اتنی شدید تھی کہ آپ انکار نہ کر سکی۔ کچھ دن بعد لڑکی نےاپنا آبائی مذہب ترک کر کےدین اسلام قبول کر لیا آپ نےاس کا اسلامی نام امتہ اللہ رکھا پھر اس لڑکی کی خواہش پر اس سےآپ نےشادی کر لی۔ بی بی امتہ اللہ ایک پارسا خاتون تھیں۔ آپ کےکردار نےغیر مسلم عورتوں کو بہت متاثر کیا۔
آپ کےبطن سےصاحبزادی بی بی حافظہ جمال پیدا ہوئیں۔ سلطان الہند کےپائنتی آپ کا مزار ہی۔
قطب الدین ایبک نےسید حسین شہدی کی شہادت کےبعد سیدوجیہہ الدین چشتی کواجمیر کا حاکم مقرر کیا۔ بی بی عصمت ان کی صاحبزادی تھی۔ سید وجیہہ الدین چشتی بیٹی کی شادی کےبارےمیں فکر مند تھی۔ ایک رات خواب میں حضرت امام جعفر صادق خواب میں تشریف لائےاور فرمایا فرزند تمہیں فکرمند ہونےکی ضررت نہیں۔ حضور ا کا حکم ہےکہ اپنی لڑکی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی زوجیت میں دےدو۔صبح بیدار ہونےکےبعد سید و جیہہ الدین حضرت سلطان الہند کی خدمت میں حاضر ہوئےاپناخواب بیان فرمایا اگرچہ آپ شادی شدہ تھےلیکن سرور کونین اکا حکم سنتےہی آپ عقد کیلئےتیار ہو گئی۔
|