|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
بی بی عصمت سےآپ کےتین صاحبزادےخواجہ فخر الدین، خواجہ ضیاالدین اور خواجہ حسام الدین پیدا ہوئی۔
یہ 633 ھجری کازمانہ تھا۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر 96 سال تھی۔ طویل عبادت و ریاضت اور مسلسل نفس کشی نےآپ کو حد سےزیادہ لاغر کر دیا تھا۔ دھلی میں حضرت قطب الدین بختیارکاکی کےگردان کےمخالفین نےسازش کاآہنی حصار کھینچ دیا تھا۔ سلطان الہند کا خلیفہ اکبر اپنی زندگی کےنازک ترین موڑ پر تنہا کھڑا تھا۔
حضرت خواجہ معین الدین شتی نےایک رات خواب میں حضرت قطب الدین کو دیکھا وہ بہت زیادہ پریشان نظر آئی۔ مرشد نےپریشانی کی وجہ پوچھی تو عرض کرنےلگےاس وقت آپ کا خادم سخت اذّیت میں مبتلا ہےجس پر ایک ایسی تہمت لگائی گئی ہی۔ جسےسننےکےبعد اہل شہر حیران رہ گئےہیں اپنی صفائی میں تمام دلائل پیش کر چکا ہوں لیکن دشمنوں نےدولت کےذریعےانسان کا دل‘ ضمیر دماغ یہاں تک کہ ایمان بھی خرید لیا ہی۔ لوگ خدا سےنہیں ڈرتی۔ مگر میں خوشی اورمصیبت دونوں میں اللہ کو ہی پکارتا ہوں۔ حالات نےوقت کی عدالت میں مجھےایک مجرم کی صورت میں لاکھڑا کیا ہےمیرےحق میں دعا فرمائیےیہ کہہ کر حضرت قطب الدین بختیار کاکی رو پڑی۔ پھر حضرت خواجہ نےخادم کو خواب میں ہی تسلی دی کہ ہم خود چل کر دہلی آرہےہیں اورکسی نہ کسی طرح مقدمےکی سماعت ہماری دھلی آمد تک ملتوی رکھو۔ سلطان التمش بےشک حضرت بختیار کاکی کا عقیدت مند تھا لیکن حالات دن بدن غیر موافق ہوتےجا رہےتھی۔ دراصل ایک عورت نےحضرت بختیار کاکی پر تہمت لگائی تھی کہ انہوں نےاس عورت سےخفیہ شادی کر رکھی تھی۔ اس عورت کی گود میں کھیلنےوالا بچہ آپ کا ہی۔ بےشک یہ ایک تہمت تھی لیکن حالات واقعات سب حضرت بختیار کاکی کےخلاف جارہےتھی۔
جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی دہلی تشریف لےآئےتو سلطان شمس الدین التمش بھی قدم بوسی کیلئےحاضر ہوئےاور رقعت آمیز لہجےمیں عرض کرنےلگےخواجہ خواجگان میرےحال پر رحم فرمائیےاب دنیا داروں کاروّیہ ناقابل برداشت ہو چکا ہےدنیا نےتو اہل ایمان کےساتھ ہمیشہ یہی سلوک کیا ہی۔ آئندہ بھی تم اس کےطرزعمل میں کوئی تبدیلی نہ پائو گی۔ حضرت خواجہ نےفرمایا۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب سلطان الہند کی موجودگی میں شہنشاہ نےاس اہم مقدمےکا فیصلہ کرنےکیلئےدربار سجایا تاکہ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہو جائی۔
”یہ دن تاریخ ہندوستان کا ایک یادگار دن تھا جب لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر دربار شاہی کی طرف جارہےتھی۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسےاہل شہر کو اس مقدمےکا فیصلہ سننےکےسوا کوئی کام نہیں۔ مسلمان تو مسلمان ہندو بھی بڑی تعداد میں قلعےکےباہر موجود تھےپتھر کےپجاری دل میں بہت خوش تھےکہ جن نیک سیرت مسلمانوں نےان سےتخت و تاج چھینا تھا آج اسی قوم کا روحانی پیشوا ایک ملزم کی حیثیت سےعدالت میں پیش ہونےوالا ہی۔ دراصل ہندو میدانِ جنگ میں شکست کھانےکےبعد ہر مقام پر مسلمانوں کو رسوا دیکھنا چاہتےتھےخود مسلمان علما کا ایک حاسد گروہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی کی بدنامی پر بہت خوش نظر آرہا تھا جبکہ آپ کےعقیدت مند اداس نظر تھی۔ چونکہ عام انسانوں کا دربار میں داخلہ ممنوع تھا اس لئےبہت بڑا ہجوم قلعےکےباہر فیصلےکا منظر تھا۔
کچھ دیر بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےخلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی کےہمراہ تشریف لائےتو قلعےکےباہر کھڑےہزاروں انسانوں نےتعظیم اور عقیدت میں سرجھکا لئی۔ سلطان التمش حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو شاہی اعزاز و احترام کےساتھ لانا چاہتےتھےمگر آپ نےاس لئےانکار کر دیا کہ اس طرح سلطان کی جانبداری کااظہار ہو گا اور عدالت کا وقار مجروح ہو گا۔ پھر جیسےہی سلطان الہند اور ان کےخلیفہ اکبر دربار میں داخل ہوئےتو بام و در پر لرزا طاری ہو گیا۔ سلطان التمش اپنی نشست سےکھڑا ہو گیا۔ تمام امرا نےبھی بادشاہ کی تقلید کی۔ یہاں کہ قاضی عدالت کو بھی اپنےفرمانروا کی تعظیم کےلئےاٹھنا پڑا۔
|