|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
پھر حضرت معین الدین چشتی نےقاضی سےمخاطب ہو کرفرمایا کیا مدعی عورت اور اس کا بچہ حاضرہی۔
جی ہاں! ماں بیٹا دونوں عدالت میں موجود ہیں قاضی نےجواب دیا۔
چند لمحوں میں وہ عورت اس طرح دربار سلطانی میں حاضر ہوئی کہ سر سےپائوں تک چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور اس کی گود میں دو ماہ کا شیرخوار بچہ تھا۔ عورت آہستہ آہستہ چلتی ہوئی قاضی کےسامنےآکر ٹھہر گئی دربار میں موجود ہر شخص ساکت تھا۔
سلطان الہند آگےبڑھےاور انتہائی نرم لہجےمیں عورت سےمخاطب ہوئی۔
خاتون! یہ کیسی قیامت ہےکہ تم جیسی خانہ دار عورت کو بھرےدربار میں اپنا حق طلب کرنےکیلئےآنا پڑا۔
میں خود اپنا گھر چھوڑ کر یہاں نہیں آئی میری رسوائی کا سبب ان سےپوچھئی۔ عورت نےحضرت قطب کی طرف اشارہ کر کےکہا۔
معزز خاتون تم اس شخص کو جانتی ہو۔ حضرت خواجہ نےعورت سےپوچھا۔ دنیا میں مجھ سےزیادہ ان کےمتعلق اورکون جانتا ہی۔ یہ کہتےہوئےعورت رونےلگی۔ یہ میرےغیر شرعی شوہر ہیں انہوں نےمجھ سےشادی کا وعدہ کیا تھا۔ مگر بعد میں نظریں پھیر لیں اوراپنےہر وعدےکو فراموش کر دیا۔ اب میں ایک بےسہارا عورت اپنےجسم پر تہمتوں کےداغ سجائےدر در بھٹک رہی ہوں۔ عورت نےبڑےدردناک لہجےمیں کہا۔
یہ تمہارا غیر شرعی شوہر ہی۔ حضرت معین الدین چشتی کا چہرہ متغیر ہو گیا آپ کو قطعاً یہ امید نہیں تھی کہ عورت اس بےباکی سےحضرت قطب پر الزام تراشی کرےگی۔ وہ شخص جو کمسنی کےعالم میں اپنا گھر بارچھوڑ کر بندگان خدا کو ہدایت دینےکیلئےنکلا تھا جسےمیں نےاپنےبچےکی طرح پرورش کی جس کےکردار کی بلندی اور پاکیزگی کو سارا عالم جانتا ہےوہ اتنا عہد شکن اور سیاہ کار بھی ہو سکتا ہی۔ انتہائی برداشت کےباوجود سلطان الہند کی آواز سےرقت جھلکنےلگی۔ کیا تم اللہ سےنہیںڈرتی؟ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےبڑےجذباتی انداز میں عورت کو مخاطب کرتےہوئےفرمایا۔ اگر کوئی بھٹکا ہوا مسافر منزل کی طرف لوٹ آئےتو اسےگم کردہ راہ نہیں کہتی۔ اب بھی وقت ہےتم رجوع کر لو۔ کوئی گناہ ایسا نہیں جسےاللہ معاف نہ کری۔ جب میں نےکوئی گناہ نہیں کیا تو کس بات سےتوبہ کروں۔ عورت نےغم زدہ لہجےمیں کہا۔ خوف خدا انہیں نہیں آتا جو دوسروں کی زندگیوں سےکھیلتےہیں۔
اہل دربار گواہ رہنا کہ حجت پوری ہو چکی! یکایک حضرت خواجہ کےلہجےمیں تبدیلی آگئی۔ ان کےالفاظ سےجلال روحانی کا اظہار ہو رہا تھا۔ میں نےتجھےدوزخ کی دھکتی آگ سےبچانا چاہا جسےتیری بیمار آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ مگر انسان کی کیا طاقت ہےکہ وہ کسی کو عذاب آسمانی سےمحفوظ رکھی۔ جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہی۔ حضرت سلطان الہند اس عورت سےمخاطب تھےجو بہت دیر سےاپنےآپ کو مظلوم ثابت کر رہی تھی۔ ”تونےاپنےنفس پر بڑا ظلم کیا ہےکاش تجھےکوئی بتاتا کہ کسی معصوم انسان پر تہمت طرازی کرنا کتنا بڑا گناہ ہی؟“ اسی اثنا میں قاضی نےدرمیان میں مداخلت کرتےہوئےکہا۔ دنیا میں کسی بھی انسان سےگناہ سرزد ہو سکتا ہی۔ عورت کےبیانات کواس لئےجھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ملزم خانقاہ میں بیٹھنےوالا ایک بڑا خرقہ پوش ہی۔
قاضی محترم! آپ کا یہ کہنا درست ہےکہ گناہ کسی بھی انسان سےسرزد ہو سکتا ہےاور خانقاہ میں بیٹھنےوالےلوگ بھی مجرم ہو سکتےہیں مگر کیا یہ شخص آپ کی نظر میں گنہگار ہی؟
قاضی چند لمحوں کیلئےحیران رہ گیا پھر بولا کہ اس مقدمےکا تعلق میری ذات سےنہیں۔ اگر میں حضرت قطب الدین کو بےگناہ بھی سمجھ لوں تو اس سےکیا فرق پڑےگا کرسی عدالت پر ہر بیٹھنےوالا ملزم سےثبوت طلب کرتا ہےانہیں حضرت قطب الدین سےکوئی پرخاش نہیں وہ اپنی بےگناہی کاثبوت پیش کریں اور باعزت اپنی خانقاہ کی طرف لوٹ جائیں۔ قاضی عدالت نہایت معقول لہجےمیں گفتگو کر رہےتھےدرحقیت قاضی بھی حضرت قطب کی عوامی مقبولیت اور روحانیت کےبلند درجات سےحسد رکھتا تھا۔ بغض و کینہ کی آگ نےقاضی کو یہاں تک جلایا کہ اس کےدل و دماغ سیاہ ہو کررہ گئےاور وہ اسی پر خاش اور عداوت کےباعث حضرت قطب کو سر دربار رسوا کرنا چاہتا تھا۔
|