|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
کیااللہ کی راہ میں حضرت قطب کا یہ طویل سفر اس کی بےگناہی کیلئےکافی نہیں حضرت خواجہ نےقاضی سےمخاطب ہوتےہوئےپوچھا۔
عدالت کی نگاہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ ایک شخص دن کوروزہ رکھتا ہےاوررات کو مسلسل جاگ کر عبادت کرتا ہی۔ قاضی نےبےمروتی سےکہا۔
حضرت قطب کی عبادت و ریاضت محض خدا کیلئےہےوہ اپنےاس فعل کیلئےاللہ کےسامنےجوابدہ ہیں ہم اس سلسلےمیں ان سےکوئی بازپرس نہیں کر سکتی۔ عدالت میں ایک عورت نےاپنی حق تلفی کا دعویٰ دائر کیا ہی۔ ہم اسی دعوےکی روشنی میں حضرت قطب الدین سےان کی بےگناہی کا ثبوت مانگتےہیں۔ اس ضمن میں یہ دلیل قبول نہیں کہ ایک شخص کتنا متقی اور پرہیزگار ہی۔
پھر کس طرح بےگناہی پیش کی جائی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےقاضی سےپوچھا قطب بارہا اس بات کا اقرار کر چکا ہےکہ مدعی عورت کا ان سےکوئی تعلق نہیں عدالت اس اعلان کوکیوں کافی نہیں سمجھتی؟
اپنےبارےمیں ملزم کی اپنی ہی گواہی قانونی اعتبار سےکوئی حیثیت نہیںرکھتی عدالت کی نظر سےاس بات کی اہمیت ہےکہ ملزم کی بےگناہی پرغیر متعلقہ افراد کس طرح شہادت پیش کرتےہیں۔
اگر آپ کا معیار شہادت ہی ہےتو پھر پورا ہندوستان قطب کی معصومیت پر گواہی دےرہا ہےبدقسمتی سےآپ ان کی آوازوں کو سننےکی کوشش نہیں کرتی۔ حضرت خواجہ نےقاضی کو مخاطب کرتےہوئےکہا۔
یہ تمام لوگ حضرت قطب الدین کےعقیدت مند ہیں اور عقیدت انسان کو اندھا کر دیتی ہےقاضی عدالت نےدوسرا اعتراض اٹھایا۔
اگر آپ حضرت قطب الدین کی گواہی کو قبول نہیں کرتےتو عورت کی طرف سےچارگواہ پیش کرو جو خانقاہ کےایک گوشےمیں بیٹھنےوالےخرقہ پوش کی غیرشرعی بیوی کو ثابت کریں حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےفرمایا۔
پھر عورت کےچار گواہوں کو دربار سلطانی میں پیش کیا گیا تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی گواہوں سےمخاطب ہوئی۔
”تم یہ بات کس طرح کہتےہو کہ مدعی عورت قطب کی غیر شرعی بیوی ہےاور یہ بچہ اس کی غیرقانونی اولاد ہی۔ قاضی عدالت نےبھی یہی سوال دھرایا۔
لیکن گواہ کچھ بھی بولنےسےقاصر تھےیوں محسوس ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نےان کی قوت گویائی سلب کر لی تھی۔ گواہوں کی خاموشی نےسب کو حیران کر دیا۔
پھر وہ عورت گواہوں سےمخاطب ہو کر چلائی بولو میری مجبوریوں کی گواہی دو۔ لیکن گواہوں کےلبوں پر مہر خاموشی ثبت تھی۔ وہ کوشش کےباوجود کچھ نہ بول سکی۔ اس پر حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےفرمایا کہ گواہ زرخرید غلام ہیں اور ان کی زبانوں نےہمیشہ کیلئےان کا ساتھ چھوڑ دیا ہی۔
سیدی! پھر یہ مسئلہ کس طرح طےہو گا؟ سلطان التمش نےنہایت ادب کےساتھ حضرت خواجہ معین الدین چشتی سےپوچھا۔
جس ذات بےنیاز نےاپنےعاجز بندےکو اس ضعیفی کےعالم میں اجمیر سےدہلی تک پہنچایا ہےوہی اس نازک مقام پر دستگیری فرمائےگا۔ پھر فرمایا یہ دو ماہ کا بچہ خود اہل دربار کو بتائےگا کہ اس کا باپ کون ہی؟ جیسےہی آپ نےیہ بات کہی تو قاضی سمیت تمام لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔
پھر قاضی بولا!یہ دو ماہ کا بچہ کیسےبولےگا۔
جس نےبچےکو پیدا کیا وہی اپنےایک بندےکی خاطر اسےقوت گویائی عطا فرمائےگا۔ حضرت خواجہ نےقاضی کو مخاطب کر کےفرمایا۔
|