|
سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
پھر حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےبچےکو مخاطب کرتےہوئےپوچھا۔
اےبدنصیب روح! تیرےماں باپ نےتیری معصوم جان پر بڑا ظلم کیا ہےکوئی نہیں جانتا کہ آنےوالا وقت تمہیں کس نام سےیاد کرےگا؟ حضرت خواجہ اس شیرخوار بچےسےایسےگفتگو کررہےتھےجیسےوہ آپ کی گفتگو کا مفہوم سمجھ رہا ہو۔ پھر سلطان الہند نےقاضی عدالت اور عدالت کی طرف دیکھا وہ دونوں سخت پریشان دکھائی دےرہےتھےپھر آسمان کی طرف دیکھا!
خدایا! تو اپنےبندوں کےگناہوں کی پردہ پوشی کرنےوالا ہےمیں نےبہت کوشش کی کہ یہ اذیت ناک حقیقت دنیا پر ظاہر نہ ہو مگر توعلیم ہےکچھ عاقبت نااندیش لوگوں نےمیرےاور تیرےقطب کیلئےعافیت کا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا۔ خداوند قدوس! تیرا یہ عاجز بندہ معین الدین تجھ سےرحم اورمعافی کا طلبگار ہی۔
حضرت سلطان الہند نےیہ مختصر سی دعا مانگی پھر بچےکےنزدیک ہو گئی۔اہل دربار کی سانسیں رکی ہوئی تھیں جو لوگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےروحانی مقام سےواقف تھےان کےدل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں۔ وہ جانتےتھےکہ چند لمحوں میں کوئی عجیب و غریب واقعہ پیش آنےوالا ہی۔
پھر حضرت سلطان الہند نےاپنا دایاں ہاتھ بچےکےہونٹوں پر رکھ دیا نہایت محبت آمیز لہجےمیں فرمایا۔
اےجان معصوم! تو بےقصور ہےہرشخص کو اپنےگناہوں کا بوجھ خود اٹھانا پڑےگا میں تجھےتکلیف دینا نہیں چاہتا تھا۔ مگر تیرےباپ نےایک ایسےشخص پر تہمت لگائی ہےجو مجھےروئےزمین پر سب سےزیادہ عزیز ہی۔ تجھےکیا پتہ کہ میں کتنی راتوں سےبےخواب ہوں۔ میرےبےقراریوں کی طرف دیکھ اور قاضی عدالت کےاہل دربار اور ان لوگوں کو اپنےباپ کا نام بتا دےجو قطب کی رسوائیوں پر جشن مسرت منا رہےہیں۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی پرجلال آواز ابھری اور لوگوں کےدلوں میں اترتی چلی گئی لوگوں کی آنکھیں گردش کرنا بھول گئی تھیں ہونٹ ساکت تھےاور چہروں پر حیرت کےسائےلرز رہےتھی۔
”اسلام علیکم سلطان الہند! دفعتاً دربار میں بچےکی باریک سی آواز سنائی دی لوگ شدت اضطراب میں اپنی نشستوں پر کھڑےہو گئےانہیں اپنےکانوں پر یقین نہیں آرہا تھا مگر یہ زندہ حقیقت تھی دو ماہ کا بچہ نہایت صاف لہجےمیں بول رہا تھا۔
”بچی! تم پر بھی اللہ کی سلامتی ہو۔“ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےاس جان معصوم کو دعا دیتےہوئےفرمایا۔ ”اہل دربار کو اپنےباپ کا نام بتائو۔“
دوسرےہی لمحےبچےکی آواز سنائی دی میرا باپ سلطان شمس الدین التمش کےدربار کا ایک معزز سردار ہےیہ کہہ کر بچےنےاس شخص کا نام بتا دیا اورخاموش ہو گیا۔
اس انکشاف کےبعد دربار شاہی میں ایک زلزلہ سا آگیا۔ عورت پر اس قدرلرزہ طاری ہوا کہ وہ اپنےپائوں پر کھڑی نہ رہ سکی اور فرش پر گر پڑی۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی جوبہت دیر سےسرجھکائےخاموش کھڑےتھےجب آپ کی بےگناہی ثابت ہو گئی تو بےاختیار پیرومرشد کےسینےسےلگ گئےاور اتنا روئےکہ آپ کی ریش مبارک آنسوئوں سےتر ہو گئی۔ بڑا رقت آمیز سماں تھا دربار میں موجود تمام لوگ رورہےتھی۔یہاں تک کہ حضرت معین الدین چشتی بھی آبدیدہ ہو گئی۔ پھر سلطان الہند نےحضرت قطب الدین بختیار کاکی کو تسلی دیتےہوئےفرمایا۔
فرزند! یہ آزمائش تو ہمیشہ سےاہل ایمان کا مقدر ہی رہی ہےتم خوش نصیب ہو کہ وقت کی عدالت میں معصوم ٹھہرےمگر یہاں کچھ جاں سوختہ عشق ایسےبھی گزرےہیں جو دنیا کی بخشی ہوئی تہمتوں کو اپنےکفن میں سجا کر زمانےسےرخصت ہو گئی۔ اب ان کےمقدمات کا فیصلہ میدانِ حشر میں ہو گا۔
|