kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
 


پھر چند روز بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی واپس اجمیر شریف جانےلگےتو حضرت قطب الدین بختیار کاکی بھی آپ کےہمراہ تھی۔ جیسےہی یہ خبر سلطان التمش تک پہنچی وہ خود سلطان الہند کی خدمت میں حاضر ہوئےاورحضرت قطب کو دہلی میں چھوڑ جانےکی استدعا کی حضرت غریب نواز نےفرمایا کہ جہاں علم و تقویٰ بغض حسد کا شکار ہو جائےوہاں قطب نہیں ٹھہر سکتا۔ پھر جب دہلی کےہزاروں لوگ حضرت معین الدین چشتی کےقدموں میں گر گئےتو آپ نےحضرت قطب کو یہ کہہ کر دہلی میں ہی قیام کرنےکیلئےکہا فرزند! تم دہلی ہی میں قیام کرو۔ مجھےخدشہ ہےکہ تمہاری جدائی میں کہیں اہل شہر برباد ہی نہ ہو جائیں۔ آپ کی زبان سےالفاظ سنتےہی انسانی ہجوم میں بےپایاں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
سلطان الہند نےحضرت قطب کو گلےلگایا اور پھر گلوگیر آواز میں فرمایا فرزند! الوداع اب اگر خدا کو منظور ہو گا تومیدان حشر میں ملاقات ہو گی۔ یہ کہہ کر آپ اجمیر شریف کیلئےتشریف لےگئی۔
پھر ایک دن اجمیر کےایک مالدار شخص نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کےخادم خاص کو کہا‘ سنا ہےشہنشاہ ہندوستان او دیگر امرا خفیہ طور پر حضرت خواجہ کو قیمتی تحائف بھیجتےہیں۔ یہ ایک حاسد کی جذباتی ضرب تھی جسےسلطان الہند کا خادم برداشت نہ کرسکا۔ خادم نےکہا ہندوستان کا شہنشاہ میرےسلطان کو کیادےسکتا ہی۔ بلکہ اس کی حکومت حضرت خواجہ کی دعائوں کی مرہون منت ہی۔ میرےمرشد کو تو اللہ اپنےغیب کےخزانوں سےدیتا ہےجو زمین و آسمان کا مالک ہےاور اس کائنات کا حقیقی شہنشاہ ہی۔ میرےشیخ کےمصلےکےنیچےدولت کا سمندر ابلتا ہےاورضرورت کےمطابق وہاں سےدولت حاصل کر لی جاتی ہی۔ ہندوستان کےتمام امیروں کا سرمایہ بھی اس کےچند قطروں کےبرابر نہیں۔ یہ وہ دولت ہےجو اللہ تعالیٰ نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو بطور خاص عطا کر رکھی ہےبلکہ وہ عطائےخاص ہی۔ جس کا ادراک اہل دنیا کو نہیں ہو سکتا۔
سلطان الہند کےخادم نےجوش جذبات میں ایک ایسا راز فاش کر دیا تھا جس سےاہل اجمیر آج تک بےخبر تھی۔
مالدار شخص نےالتجا بھرےلہجےمیں خادم سےکہا میں اپنی آنکھوں سےوہ خزانہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
معاذ اللہ!کیا سلطان الہند کی کرامت کوئی تماشا ہی۔ حضرت خواجہ کےخادم کواپنی غلطی کا احساس ہو گیا وہ اپنےمرشد کےقدموں سےلپٹ کر معافی مانگنےلگا کہ اس سےیہ راز فاش کرنےکی غلطی ہو گئی ہی۔ اس کی آنکھوں سےآنسو کا سیلاب جاری تھا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتینےاس کےسر پر اپنا دست شفقت رکھا اور فرمایا تم یقیناً رازداری کےقابل ہو مگر تمہیں اپنےپیرومرشد کی محبت نےبےقرار کر دیا۔ نگاہِ عشق میں یہ سرمستی جائز ہی۔ آئندہ سےاحتیاط رہےکوئی گالی ہی کیوں نہ دےفقیر کو اس سےبےنیاز رہنا چاہئی۔
پھر 633 ھجری میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو پہلےاپنےخلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا پھر سلطان شمس الدین التمش بھی دنیافانی کوخیرباد کہہ گئےجو آپ سےوالہانہ محبت کرتےتھےاور آپ کو بھی سلطان التمش سےبےپناہ محبت تھی۔
پھر ایک دن جب سورج غروب ہوگیا تو مغرب اور عشاءکی نماز یں ادا کر کےآپ اپنےحجرےمیں تشریف لےگئےاور اندر سےدروازہ بند کر لیا۔ تمام مرید اسےمعمول کا حصہ تصور کر کےاپنےکاموں میں مصروف ہو گئی۔ اچانک حاضرین کو حضرت خواجہ کی خلوت خاص سےایک بارعب صدا بلند ہوتی محسوس ہوئی۔ تمام لوگ ہمہ تن گوش ہو گئےاورقریب آگئی۔ گذشتہ پچاس سال سےرات بھر آپ ذکر الٰہی میں مشغول رہتی۔ قلب جاری رہتا لیکن زبان خاموش رہتی۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی آج بلند آواز میں ذکر الٰہی فرما رہےتھی۔

 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)