kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
 


آپ کی آواز کیا تھی‘ ہیبت و جلال کا ایک ایسا آہنگ تھا کہ جس کےاثر سےخانقاہ کےدرودیوار کانپ رہےتھی۔ خدام کی یہ حالت تھی کہ ان کےجسم پر لرزہ طاری تھا اوردل ٹکڑےٹکڑےہوتا محسوس ہو رہا تھا عام انسانی دل کی کیا حیثیت ہےحضرت سلطان الہند کی ضرب ”لاالہ الااللہ“ سےاجمیر کےپہاڑوں میں بھی شگاف پڑ گئےتھی۔ تمام خدمتگاروں اور مریدوں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتیکو پہلی بار اس رنگ میں دیکھا تھا۔
وقت اپنی مقررہ رفتار سےگزرتا رہا۔ رات کےستارےبزم فلک سےرخصت ہوئےاورستاروں بھری رات اپنی پوری تابناکی کےساتھ نمودار تھی۔ ایک وقت یہ خدمتگاروں نےمحسوس کیاکہ اب فضاءپر مکمل سکوت طاری ہےاور حضرت خواجہ کےحجرےسےآوازیں آنا بند ہو گئی ہیں۔ حاضرین خانقاہ یہ سوچ کرمطمئن ہو گئےکہ حضرت سلطان الہند کی کیفیت جلال ختم ہو چکی ہےاور آپ حالت جمال میں دوبارہ واپس آچکےہیں۔
کچھ دیر بعد فجر کی اذان ہوئی۔ خدمتگاروں کو یقین تھا کہ اذان کی آواز سنتےہی سلطان الہند حجرےسےباہر تشریف لائیں گےاور پھر نماز فجر ادا کریں گی۔ وہ خادم جو آپ کو صبح کےوقت وضو کرایا کرتا تھا بڑی مستعدی کےساتھ دروازےپر جا کر کھڑا ہو گیا۔ خانقاہ میں موجود دیگر افراد وضو کر کےسنت مو¿کدہ ادا کرنےلگی۔ وقت کچھ اور آگےبڑھ گیا مگر حجرےکا دروازہ نہ کھلا۔ اب دوسرےخدمتگار بھی ایک ایک کر کےدروازےپر جمع ہونےلگےتھےاور ہر شخص کےچہرےپر فکرو تشویش کی علامت ظاہر ہونےلگی۔ طویل عرصےتک خدمت گزاری کےباوجود کسی مرید یا عقیدت مند کےعلم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا تھا کہ حضرت خواجہ کی کوئی نماز قضا ہوئی ہو۔ تاریخوں میں تو بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں کہ شادی سےقبل سلطان الہند نےمسلسل پچاس سال تک عشاءکےوضو سےنماز فجر ادا کی۔ پھر ایسا نماز گزار انسان افضل ترین عبادت سےکس طرح بےخبر رہ سکتا تھا۔ لوگوں کےاضطراب میں مزید اضافہ ہو گیا وقت تنگ ہوتا جارہا تھا۔ آخر تمام خدمتگاروں اور مرید اس نتیجےپر پہنچےکہ شب بیداری کےباعث آپ کی آنکھ لگ گئی ہو گی ورنہ آپ اب تک باہر تشریف لاچکےہوتی۔ پھر آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ سلطان الہند کو آرام کرنےدیا جائےاور دروازےپردستک دےکر آپ کےآرام میں خلل نہ ڈالا جائی۔ اس کےبعد تمام لوگوں نےنماز فجر ادا کی مگر محسوس ایسا ہوتا تھا کہ ہر شخص اپنی جگہ بےسکون ہےاور حضرت خواجہ کی نماز میں عدم شرکت کےباعث ہر ذہن میں مختلف قسم کےاندیشےپیدا ہو رہےتھی۔
آخر سورج طلوع ہوا اورتیز دھوپ اجمیر کی پہاڑیوں سےاتر کر میدانوں میں پھیل گئی۔ کچھ خدمتگاروں نےآگےبڑھ کر دروازےپرہاتھ رکھ دیا۔ دروازہ بدستور بند تھا۔ پھر کچھ خاص مریدوں نےدروازےپر کان لگا دیئےکہ شاید حضرت خواجہ ذکر میں مصروف ہوں اور آپ کی ہلکی ہلکی آواز ابھر رہی ہو۔ مگر لوگ کوئی آہٹ کوئی صدا سننےمیں ناکام ہو گئی۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر ستانوےبرس ہو چکی تھی۔ کچھ لوگوں کو گمان گزرا کہ ضعف پیری کےسبب آپ کو کوئی عارضہ نہ لاحق ہو گیا ہو۔ جس قدر وقت گزرتا جاتا تھا لوگوں کےاندیشےبڑھتےجا رہےتھےاور جب عقیدت مندوں کی یہ بےچینی برداشت سےباہر ہو گئی تو دروازےپرمسلسل دستک دی گئی۔ جواب میں وہی خاموشی طاری رہی۔ انجام کار ایک بار پھر مشورہ کیا گیا جو لوگ روحانی اعتبار سےحضرت خواجہ کےزیادہ قریب تھےان کی رائےکو ترجیح دی گئی اور پھر دروازےکو توڑ دیا گیا۔
دروازہ کھلتےہی ایک عجیب و غریب خوشبو کی لہر آئی جو قریب کھڑےہوئےلوگوں کو نہلاتی ہوئی گزر گئی۔ اندر جانےوالےخدام گھبرا کر رہ گئی۔ پھر دیکھنےوالوں نےدیکھا کہ سلطان الہند اپنےزمینی بستر پر لیٹےہوئےہیں اور آپ کا منہ کعبےکی طرف ہی۔ پہلی نظر میں دیکھنےوالوں کو ناقابل بیان خوشی کا احساس ہوا کہ حضرت خواجہ محو خواب ہیں اور شب بیداری کےسبب گہری نیند سو رہےہیں۔۔۔۔ مگر جب لوگوں نےجسم مبارک کو غور سےدیکھا تو ان کےہوش و حواس جاتےرہی۔ حضرت سلطان الہند کی سانسوں کا رشتہ بحال نہیں تھا۔ چند خدام جو حجرےمیں داخل ہو چکےتھےانہوں نےاس طرح ایک دوسرےکی طرف دیکھا کہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں کانپ رہی تھیں اور چہروں پر اذّیت ناک وحشت برس رہی تھی۔ حجرےکےاندر موجود لوگوں کو بظاہر یقین ہو چکا تھا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی عالم فانی سےرخصت ہو کر اپنےخالق حقیقی سےجا ملےہیں۔۔۔۔ مگر ان کےدل اس حقیقت کو ماننےکیلئےتیار نہیں تھےکہ سلطان الہند اس قدر جلد آخری سفر پر روانہ ہو سکتےہیں۔ ان کےخیال میں عشاءکی نماز تک حضرت خواجہ بالکل صحت مند تھی۔ آپ کےچہرہ مبارک پر کسی بیماری کی ہلکی سی علامت بھی نہیں تھی ساری رات بآواز بلند ذکر الٰہی کرتےرہی۔ پھر اچانک یہ کیا ہو گیا کہ آپ نےدنیا سےمنہ موڑ لیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےمرید عقیدت مند اور خدام اسی شدت جذبات کےزیراثر تھےپھر کچھ دیر بعد جذبات کا یہ سیلاب گزر گیا تو حاضرین خانقاہ اور حضرت خواجہ کےاہل خانہ کو یقین آگیا کہ ہندوستان کی اقلیم معرفت کا تاجدار اپنی عظیم الشان روحانی سلطنت کو چھوڑ کر دنیا سےہمیشہ کیلئےرخصت ہو گیا ہی۔

 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)