kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



سلطان الہند
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
 


جب خدمتگاروں نےحضرت سلطان الہند کا چہرہ¿ مبارک دیکھا تو ہونٹوں پر ایک عجیب وغریب تبسم موجود تھا۔ ایسا تبسم جوکسی حسین اور محبوب چیز کو دیکھنےکےبعد لبوں پر نمودار ہو بےشک! اس وقت حضرت سلطان الہند موت کا چہرہ دیکھ رہےتھےجواہل حق کو بہت دلکش نظر آتی ہی۔۔۔۔ اور دنیا پرستوں کو نہایت ہولناک و لرزہ خیز۔ یہی وجہ ہےکہ اکثر گنہگار لوگوں کےچہرےمرتےوقت مسخ ہو جاتےہیں اس کےبرعکس جو لوگ اپنی زندگی مرضی حق کےمطابق گزارتےہیں ان کےنزدیک موت کا تصور خوشگوار ہوتا ہےاور وہ اس ازلی حقیقت سےفرار ہونےکےبجائےخوش دلی کےساتھ موت کا استقبال کرتےہیں کیونکہ موت تو خالق حقیقی سےملانےکا ایک ذریعہ ہی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی تو خدا کےدوست تھےاور ایک دوست اپنےدوست کےحکم پر کس طرح عمل کرتا ہےاس کا اندازہ تمام انسان نہیں کر سکتےبس دیکھنےوالوں نےتو سلطان الہند کےہونٹوں پر ایک مخصوص تبسم دیکھا جو مرد مومن کی ایک مخصوص نشانی ہی۔
پھر خدمتگاروں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی ان آنکھوں کی طرف دیکھا جو ستانوےسال تک خدا کےنور سےدیکھتی رہی تھیں اس سلسلےمیں حضور اکرم اکی ایک مشہور حدیث ہےجس کا مفہوم یہ ہےکہ مومن کی فراست سےڈرو کہ وہ اللہ کےنور سےدیکھتا ہےیہ وہی آنکھیں تھیں جو تقریباً ایک صدی تک اللہ کےنور سےدیکھنےکےبعد 6 رجب 633 ھ کو بےجان ہو گئی تھیں مگر اس طرح کہ دیکھنےوالوں کو اب بھی ان کی روشنی کا احساس ہوتا تھاحضرت سلطان الہند کی نیم وا آنکھوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسےآپ کسی آنےوالےکا انتظار کرتےکرتےتھک کر لیٹ گئےہیں مگر انتظار ابھی باقی ہی۔
اب واقعتا خدام کو یقین آگیا تھا کہ حضرت خواجہ دنیا سےرخصت ہو چکےہیں اور اس احساس کےساتھ ہی لوگوں کو اپنےجذبات پر قابو نہ رہا شدت غم بڑھی تو بےاختیار عقیدت مندوں کی چیخیں نکل گئیں اور دیکھتےہی دیکھتےخانقاہ میں کہرام برپا ہو گیا درویشوں کی یہ جماعت جو زندگی بھر دوسرےلوگوں کو صبروضبط کی تلقین کرتی رہی تھی آج اپنےہی پیغام کی نفی کر رہی تھی بہت سےخدمتگار اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھےتھےاور جو ہوش میں تھےان کی آنکھوں سےبھی مسلسل اشک جاری تھےجوش گریہ سےدامن تک بھیگ چکےتھی۔
جب آگےبڑھ کر مریدوں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کےجسم مبارک پر وہ چادر ڈالنا چاہی جسےآپ اکثر استعمال فرماتےتھی۔
دیکھنےوالوں نےقدرت کی یہ عجیب وغریب نشانی دیکھی۔ حضرت سلطان الہند کی پیشانی مبارک پر واضح حروف میں تحریر تھا۔
حبیب اللّہ مات فی حب اللّہ۔
”اللہ کےدوست نےاللہ کی محبت میں وفات پائی۔“
بعض مو¿رخین کی روایت ہےکہ یہ عبارت سنہری حروف میں تحریر تھی کچھ تاریخ نویسوں کا بیان ہےکہ عبارت کا رنگ گہرا سبز تھا۔ صدیوں کےفرق سےروایتوں میں بھی تبدیلی آسکتی ہےاور پھر اس طرح رنگوں میں بھی اختلاف پیدا ہو سکتا ہی۔۔۔۔ مگر تمام معتبر راوی اس بات پر متفق ہیں کہ وصال کےبعد جب لوگوں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کا چہرہ¿ مبارک دیکھا تھا تو آپ کی پیشانی پر یہ تحریر موجود تھی۔
ہندوستانی عوام کی اسی بےپناہ عقیدت کو دیکھتےہوئےوائسرائےہند لارڈکرزن نےحکومت برطانیہ کو اپنی رپورٹ میں لکھا تھا۔
”ہندوستان پر آٹھ سو سال سےایک قبر حکومت کر رہی ہی۔“
اور اس حکومت کےخاتمےکےکوئی آثار نہیں۔ یہ وہ حکومت ہےکہ جس کا سلسلہ قیامت کےدن سےجڑا ہوا ہی۔ جس روز زمین پر حشر برپا ہو گیا اسی روز یہ حکومت ختم ہو گی۔ حافظ شیرازی کےبقول
جس کا دل عشق کی حرارت سےزندہ ہو جاتا ہےاسےکبھی موت نہیں آتی۔
ان واقعات کےعلاوہ ایک حیرت انگیز واقعہ سن 2002 عیسوی میں اس وقت پیش آیا جب سارےبھارت کےلوگوں نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کےگنبد پر حضرت امام حسین کی شبیہ دیکھی۔ شبیہ میں حضرت امام حسین کا نام واضح طور پر پڑھا جاسکتا تھا۔ مزار کےخدام کےمطابق یہ شبیہ موجودہ حالات پر ناراضگی کا ایک اظہار تھا۔ بعدازاں یہ شبیہ دوسرےشہروںتک بھی پھیل گئی۔
یہ ان دنوں کی بات تھی جب پاکستان اور بھارت کےدرمیان جنگ کا آغاز لمحوں کےفاصلےپر رہ گیا تھا اور بھارت میں مسلمانوں کو بےدریغ قتل کیا جارہا تھا۔
یہ اس بات کا بین ثبوت ہےکہ آج بھی پاکستان اور بھارت کےتمام علاقوں میں اولیا کرام کی حکمرانی ہےاور اس حکمرانی میں خواجہ غریب نواز کا اپنا ایک خاص مقام ہی۔

 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)