|
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
چور جیسےہی گھر کےاندر پہنچا اس کی نظر قرسم خاتون پر پڑی۔ بابا فرید کی والدہ اس کمرےکےدروازےپر نماز میں مشغول تھیں۔ جہاں ان کےچاروں بچےگہری نیند سو رہےتھی۔ چور نےدیکھا کہ قرسم خاتون کی آنکھیں بند تھیں مگرہونٹ حرکت کر رہےتھےچور کچھ دیر اس انتظار میں کھڑا رہا کہ شاید یہ عورت دروازےسےہٹےتو وہ کمرےمیں داخل ہو کر اپنےمقصد کی تکمیل کر سکی۔ مگر اسےمعلوم نہیں تھاکہ یہ ایک شب بیدار عورت تھی جو ساری رات اپنےرب کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتی ہی۔ کچھ دیر بعد جب قرسم خاتون دروازےسےنہ ہٹیں تو چور نےارادہ کر لیا کہ اگر یہ عورت اس کےراستےمیں حائل رہی تو وہ جبر و تشدد کےذریعےاسےاپنےراستےسےہٹا دےگا یہ سوچ کر اس نےایک بار پھر قرسم خاتون کی طرف دیکھا وہ آنکھیں بند کئےاپنےخالق کےتصور میں کھوئی ہوئی تھیں۔ چور جونہی طاقت سےاس خاتون کو راستےسےہٹانےکیلئےآگےبڑھا۔ چند قدموں کا فاصلہ بھی طےنہیں کیا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کی روشنی سےمحروم ہو گیا۔ جب آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا تو چور گھبرایا اور دیواروں سےسرٹکرانےلگا۔ اسےواپسی کا بھی راستہ نہ ملا۔ واپسی کےتمام راستےبند محسوس کر کےاسےاحساس ہو ا کہ یہ قہر خداوندی ہےجس نےآنکھوں کی روشنی زائل کر کےاس کےمنصوبےپر پانی پھیر دیا ہی۔ اس احساس کےساتھ ہی چور نےچیخنا شروع کر دیا اور کہنےلگا ”میں اپنےعقیدےکےاعتبار سےایک بت پرست ہوں۔ چوری میرا پیشہ ہےاس گھر میں چوری کی غرض سےداخل ہوا تھا لیکن اپنی آنکھوں کی روشنی کھو بیٹھا۔ میرا دل کہتا ہےکہ اس گھر میں کوئی بزرگ ہستی موجود ہی۔ میں اس بزرگ ہستی سےدردمندانہ التجا کرتا ہوں کہ وہ میرا گناہ معاف کر دی۔ قرسم خاتون حسبِ معمول استغراق کی حالت میں تھیں مگر چور کی آوازیں مسلسل گونجنےلگیں تو انہوں نےآنکھیں کھول دیں قرسم خاتون کچھ دیر تک اس مضبوط و توانا شخص کی بےکسی اور مجبوری کا جائزہ لیتی رہیں جسےاس گھر میں داخل ہونےسےپہلےاپنی جسمانی طاقت پر بہت ناز تھا۔
اسی اثنا میں چور کی آواز ایک بار پھر گونجی۔ سننےوالا سن رہا ہو گا اسےاس کےخدا کا واسطہ کہ وہ میری حالت پر خاموش نہ رہےمیں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میری آنکھوں کی روشنی واپس مل گئی تو میں چوری اور ڈاکہ زنی کےپیشےکو ہمیشہ ہمیشہ کیلئےخیرباد کہہ دوں گا۔
قرسم خاتون پھر خاموش رہیں اس پر چور پھر خاتون خانہ سےمخاطب ہو کر بولا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر میری بینائی بحال ہو گئی تو میں اپنےآبائو اجداد کےمذہب کو ترک کر دوں گا اور پتھر کےتمام بتوں کو توڑ کر دین اسلام میں داخل ہو جائوں گا۔
ایک چور کی گریہ زاری سن کر قرسم خاتون نےاپناوظیفہ چھوڑ کر دعا کیلئےہاتھ اٹھا دیئی۔ ”دنیا سمجھتی ہےکہ میں بےیارومددگار ہوں مگر تو جس کامحافظ ہو اسےکون لاوارث کہہ سکتا ہی۔“
تائید غیبی پر قرسم خاتون کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ بےشک تو ہی میراکفیل ہی‘ تو ہی میراوکیل ہےاور میں تیری ہی بندگی پر ناز کرتی ہوں کہ تو نےمجھ ناتواں عورت کا بدلہ اس چور سےلےلیا جو بظاہر قوی بھی تھا اور ستمگر بھی!
اےاللہ تو مجھےایک ظالم انسان کےفتنےکےشر سےمحفوظ رکھ۔ اب میں تجھ سےالتجا کرتی ہوں کہ تو اس چور کی آنکھوں کو دوبارہ روشن کر دی۔ وہ تیرا ہی بندہ ہےجو کچھ وقت کیلئےراستےسےبھٹک گیا تھا اور اب تیرےقہروجلال کا مظاہرہ دیکھ رہاہی۔ اگر تو نےبھی دستگیری نہ کی تووہ کہاں جائےگا۔ تیرےسوا اس کی کوئی پناہ گاہ نہیں۔ میں نےاپنا جرم معاف کر دیا ہےاب تو بھی اس کےگناہوں سےچشم پوشی فرما۔ بےشک تو اس پر قادر ہی۔ آنکھوں کےساتھ ساتھ اس کےدل کی سیاہی بھی دور کر۔
پھر یکایک اس بت پرست چور نےمحسوس کیا کہ اس کی بینائی واپس آرہی ہےاور اندھیرےکی بلند دیوار اس کی آنکھوں سےہٹ رہی ہی۔ وہ لرزتےقدموں سےاس تخت کی طرف بڑھا جہاںقرسم خاتون محو عبادت تھیں۔
”میں اپنےاس عمل پر اس قدر شرمندہ ہوں کہ اظہار ندامت کیلئےمیرےپاس الفاظ نہیں پتھر کےپجاری چور نےگریہ زاری کرتےہوئےکہا۔
اےشخص! جس نےتیری بینائی کو زائل کر دیا تھا وہی اس کائنات کا مالک اور خالق ہےاور اسی نےتیری آنکھوں کی روشنی بحال کی وہی ذات عبادت اور پرستش کےلائق ہےپھر فرمایا مجھےبتا کہ تجھےکونسی ضرورت میرےدروازےتک لےآئی اس پر چور نےکہا اےنیک سیرت خاتون! میرےلئےیہی کافی ہےکہ آپ مجھےمعاف کر دیں۔ پتھر کا بچاری لمحہ بہ لمحہ پگھلتا جارہا تھا۔
|