|
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
حضرت قطب آٹھ دن تک ملتان میں مقیم رہےاس دوران آپ ایک خدمتگار کی طرح حضرت قطب کی خدمت میں حاضر رہی۔ ایک دن خلوت میسر آئی تو حضرت قطب سےعرض کی کہ میں آپ کےدامن لطف و عنایت سےمستقل وابستگی چاہتاہوں۔ جواباً حضرت قطب نےفرمایا انشاءاللہ تمہیں یہ وابستگی مل جائےگی۔ پھر جب حضرت قطب دہلی واپس تشریف لےجانےلگےتو آپ ان کےہمراہ ہو لئےتین منزل گزر جانےکےبعد ایک پر ٹھہر کر حضرت قطب الدین بختیار کاکی نےفرمایا فرید اب تم واپس جائو کچھ دن علم ظاہری حاصل کرو۔ اللہ کا تخلیق کردہ دین کا مشاہدہ کرو۔ اس کےبندوں سےملو کہ کون کس مقام پر کیاکر رہا ہےپھر دہلی کا رخ کرنا تم مجھےاپنا منتظر پائو گی۔
یہ سن کر آپ اداس ہو گئےکیونکہ آپ کو مرشد پاک سےجدائی کسی بھی طرح گوارہ نہ تھی۔ آپ کی ذہنی اور قلبی کیفیت دیکھ کر پیرومرشد نےفرمایا کہ فراق اور وصال کتاب زندگی کےدو باب ہیں یہ جدائی بہت عارضی ہےبندہ جب اللہ کےراستےمیں قدم رکھےتو سب سےپہلےاسےتسلیم و رضا کےمفہوم پر عمل پیرا ہونا چاہئےاب تم جائو کہ مرضی خدا یہی ہی۔ آپ نمناک آنکھوں کےساتھ واپس آگئےاور حضرت قطب دہلی کی طرف روانہ ہو گئی۔ آپ ملتان سےسیدھےکھتوال پہنچےاوروالدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی قرسم خاتون نےتعجب سےپوچھا مسعود تم وقت سےپہلےکیوں لوٹ آئےہو کیاتمہاری تعلیم مکمل ہو گئی ہی؟
اس پر آپ نےحضرت قطب الدین بختیار کاکی سےملاقات کا احوال سنایا ان کی ہدایت کا ذکر کیا۔والدہ محترم بیٹےکی خوش بختی پر بہت خوش ہوئیں اور فرمانےلگیں مسعود مجھےاسی دن کا انتظار تھا۔ اب تم پیرومرشد کےحکم کی تعمیل خوش دلی کےساتھ کرو۔ یہاں تک کہ وہ تم سےراضی ہو جائیں۔
آپ مادرِگرامی کی دعائوں کےسائےمیں بغداد کی جانب روانہ ہو گئی۔ پہلےبخارا تشریف لےگئےوہاں حضرت اجل شیرازی کی خدمت میں حاضری دی۔ جو بہت کم لوگوں کوملنا پسند فرماتےتھےلیکن آپ کو دیکھ کر بےاختیار فرمایا میرےمحبوب! تیری آمد اہل دل کیلئےسرمایہ سکون ہےآپ ایک ماہ تک حضرت اجل شیرازی کی محبت سےفیض یاب ہوتےرہی۔
بخارا سےبغداد پہنچ کر مشہور بزرگ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہوئےکچھ دن آپ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی صحبت سےفیض یاب ہوئےپھر آپ یہاں سےسیستان جا پہنچی۔ یہاں آپ حضرت روحدالدین کرمانی کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ حضرت روحدالدین کرمانی ایک بلند درجہ بزرگ تھی۔ آپ کو کرامت دیکھنےاور دکھانےکا بےحد شوق تھا۔ جب کوئی بزرگ خانقاہ میں داخل ہوتا توپہلےاپنی کرامت دکھاتےبعد میں ان سےکرامت دکھانےکو کہتی۔ اسی طرح ایک دن حضرت فرید بزرگوں کی اس مجلس میں تشریف فرما تھی۔ حضرت روحدالدین کرمانی نےتمام بزرگوں سےاپنی اپنی کرامات دکھانےکو کہا۔ جب سب اپنی کرامات دکھا چکےتو بابا فرید سےاس خواہش کا اظہارکیا گیا۔ آپ اپنی عاجزی کا اظہار کرتےرہےاور فرمایا کہ میں تو ابھی طالب علم ہوں بزرگوں سےسیکھنےاور ان کی خدمت کرنےکیلئےگھر سےنکلا ہوں۔ لیکن حضرت شیخ روحدالدین کرمانی نےآپ کا کوئی عذر قبول نہ کیا۔ بالآخر آپ نےمجبور ہو کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور دل ہی دل میں اپنےرب کےحضور التجا کرنےلگےابھی آپ خیالوں ہی خیالوں میں اپنےرب کےحضور دست بددعا تھےکہ یکایک تصورات کےپردےپر آپ کےپیرومرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی کا چہرہ مبارک روشن ہوا جو آپ کو فرما رہےتھی۔ فرید پریشان کیوں ہو جس پروردگار نےتمہیں سلطان الہند کےآستانہ عالیہ تک پہنچایا ہےوہی ہر حال میں تمہاری مشکل کشائی کرےگا ان بزرگوں سےکہو کہ اپنی آنکھیں بند کر لیں پھر انہیں تمہاری کرامت نظر آجائےگی۔ ان الفاظ کےساتھ ہی آپ کا چہرہ نظروں سےاوجھل ہو گیا۔
حضرت شیخ روحدالدین کرمانی نےبابا فرید کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا فرید خاموش کیوں ہو۔ کیا ابھی منزل تک نہیں پہنچی؟
جواباً آپ نےفرمایا یا شیخ منزل تو ابھی بہت دور ہےمگر آپ حضرات اپنی آنکھیں بند کر لیں پھر دیکھیں خدا کیا ظاہر کرتا ہی۔
|