|
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
پھر حواس پر قابو پاتےہوئےآپ کانپتےقدموں کےساتھ خانقاہ میں داخل ہوئےاس وقت یہاں ایک محفل آراستہ تھی۔ بہت سی نامورشخصیات تشریف فرما تھیں اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی درس دےرہےتھی۔ انہوں نےآپ کو ایک نظر دیکھا پھر درس میں مشغول ہو گئی۔ یہ تصور بابا فرید کیلئےدنیا کی ہر اذیت سےبڑھ کر تھا۔ درس کےدوران آپ پر عجیب کیفیات طاری رہیں کہ میں ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ اس مجلس باصفا میں بیٹھ سکوں۔ شیخ مجھےپہنچانتےبھی ہیں یا نہیں۔ جب درس ختم ہوا تو شیخ آپ سےمخاطب ہو کر فرمانےلگی۔ فرید سب کام ختم کر کےآئےہو؟ یہ سنتےہی آپ شیخ کےقدموں سےلپٹ کر اس قدر روئےکہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ پھر شیخ نےبابا فرید کو اٹھایا اور اپنےسامنےبیٹھنےکا حکم دیا۔ پھر اہل مجلس کو مخاطب ہو کر فرمانےلگےکہ یہ میرا مرید ہےاور ساتھ ہی طےکا روزہ رکھنےکی تلقین فرمائی یہ روزہ تیسرےدن مغرب کےوقت افطار کیا جاتا ہےدہلی میں غزنی دروازےکےقریب ایک برج تھا اسی برج میں آپ کو چلہ کشی کیلئےٹھہرایا گیا۔ تیسرےدن جب افطار کا وقت آیا تو افطاری کیلئےکچھ نہ تھا۔ ایک اجنبی شخص افطاری کیلئےکھانا لےآیا تو آپ نےاس کا دل رکھنےکیلئےافطار کر لیا۔ ابھی چند لمحےگزرےہوں گےکہ پیٹ میں شدید درد ہونےلگا اور قےآگئی اور کھایا پیا سب نکل گیا دوسری صبح مرشد پاک کو سارا واقعہ سنایا تو مرشد پاک نےفرمایا کہ کھانےلانےوالا ایک شراب نوش اور بدکار انسان تھا اور اللہ نہیں چاہتا کہ ایک کشیف اور ناپسندیدہ غذا تمہارےپیٹ میں ٹھہری۔ پھر اسی سےبننےوالےخون کےقطرےتمہارےجسم میں فساد برپا کر دیں۔ چنانچہ طےکا روزہ دوبارہ رکھنےکا حکم ملا اور فرمایا اب کسی انسان کےلائےہوئےکھانےکی طرف متوجہ نہ ہونا جو کچھ غیب سےمیسر آئےاسی سےافطار کرنا۔ چنانچہ آپ نےطےکا دوسرا روزہ رکھ لیا۔ جب افطاری کا وقت آیا تو انتہائی کمزوری اور نقاہت کےعالم میں آپ نےزمین پر ہاتھ مارا۔ چند سنگریزےمحسوس ہوئےجو منہ میں جاتےہی شکر کی لذت دینےلگےاگلی صبح جب مرشد پاک کی خدمت میں حاضر ہوئےتو آپ کو دیکھتےہی حضرت قطب الدین بختیار کاکی نےفرمایا ”فرید! تمہارا روزہ مکمل ہو گیا ہی۔ اللہ تعالیٰ اپنےنیک بندوں کو ایسی ہی نشانیاں دکھاتاہی۔ سنگریزےحقیقت میں سنگریزےہی تھےلیکن تمہارےلبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتےتھی۔ یہ سب کچھ اللہ کےحکم سےہو رہا تھا۔ جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قبا پہن لیتی ہےاور مسلسل ریاضت سےنفس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہےتو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کر لیتا ہی۔ سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شیرینی کےسبب ہےجسےاللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےتمہاری روح میں شامل کر دیا۔ مرشد پاک نےمزید کہا کہ فرید! تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سےتم ”گنج شکر“ بن گئےہو۔ تحقیق کرنےوالوں نےاسی روایت کو معتبر قرار دیا ہی۔
بابا صاحب نےدیکھا کہ دہلی میں ہجوم مرداں کی وجہ سےیکسوئی میسر نہیں تو مرشد کامل کی اجازت سےبانسی چلےگئی۔ لیکن وہاں سےدہلی آتےجاتےرہی۔
ایک دفعہ آپ دہلی آئےتو خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری بھی تشریف فرما تھی۔ چنانچہ آپ ان کی توجہ سےفیض یاب ہوئی۔ ”سیرالعارفین“ میں لکھا ہےکہ حضرت خواجہ صاحب اجمیری بابا صاحب کےذوق و شوق اور روحانی استعداد سےاتنےمتاثر ہوئےکہ انہوں نےآپ کےپیرومرشد اور اپنےمرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سےفرمایا: بابا بختیار! تم نےتو ایک ایسےعظیم شاہباز کو قید کیا ہےجس کی رسائی سدرة المنتہیٰ تک ہی۔ (سیرالعارفین)
ہانسی میں آپ ہمہ وقت تبلیغ اسلام اور خدمت خلق میں مصروف رہنےلگی۔ ہانسی میں آپ کو آئےابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قطب العالم کا انتقال ہو گیا ہےبیدار ہوتےہی دہلی روانہ ہو گئی۔ دہلی میں معلوم ہوا کہ پیرومرشد نےوصال سےقبل اپنا خرقہ‘ عصار‘ نعلین‘ مصلیٰ اور دیگر تبرکات حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری کےسپرد کئےاور وصیت کی کہ میرا جانشین فریدالدین مسعود ہو گا اور یہ سب تبرکات اسی کو دےدیئےجائیں۔
دہلی میں آپ نےاپنےمرشد گرامی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ دن رات عبادت الٰہی
اور خدمت خلق میں مشغول رہی۔ ایک جمعہ کو حجرہ سےباہر نکلےتو دیکھا کہ ایک درویش
باہر کھڑا ہی۔ اس نےآپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا۔
|