kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
 


”شیخ العالم! ہانسی کےلوگ آپ کی جدائی میں ماہی بےآب کی طرح تڑپ رہےہیں۔کرم فرمائیےاور ہانسی کو پھر سےمشرف فرمائیی۔
نماز جمعہ سےفارغ ہوئےتو آپ نےہانسی جانےکیلئےاپنےارادےکا اظہار کیا۔ اس سےلوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نےآپ سےدہلی ہی میں قیام کرنےکی درخواست کی۔ لیکن آپ نےفرمایا:
”دہلی کی نسبت ہانسی کو میری زیادہ ضرورت ہی۔“
یہ سن کر لوگ خاموش ہو گئےاور آپ ہانسی تشریف لےگئی۔ ہانسی میں ایک مدت تک قیام فرمایا۔ جب وہاں ہجوم خلق حد درجہ بڑھا تو شیخ جمال الدین ہانسوی کواپنی مسند خلافت دےکر انہیں ہانسی ٹھہرنےکی ہدایت فرمائی اور خود اجودھن (پاک پتن) کی طرف چل پڑی۔ جہاں کفروشرک میں ڈوبی ہوئی مخلوق کا یہ علاقہ مدت سےبارانِ رحمت کا منتظر تھا۔
اجودھن ان دنوں جنگلوں سےگھرا ہوا اور حشرات الارض کا دل پسند مسکن تھا۔ قصبہ کےاطراف میں دور دور تک کفار اور مشرکین کی بستیاں تھیں۔ ایک روایت میں ہےکہ ایک شب خواب میں آپ کےمرشد گرامی حضرت قطب العالم نےارشادفرمایا کہ فرید! اس قصبہ میں مستقل طور پر اقامت اختیار کر لو اور مخلوق خدا کو راہِ حق کی طرف بلائو۔ غرض اجودھن سےباہر مغرب کی سمت ایک درخت کےنیچےآپ نےاپنا مصلیٰ بچھا دیا اور یاد الٰہی میں مشغول ہو گئی۔ یہی جگہ بعد میں پاک پتن کےنام سےمشہور ہوئی۔
آپ کی شبانہ روز کوشش سےجب اجودھن کےدرودیوار قال اللہ وقال الرسول سےگونجنےلگےاور ہر طرف مسلمانوں کی چہل پہل ہو گئی تو بعض کو تاہ اندیش محض حسد و بغض کی وجہ سےآپ کی مخالفت کرنےلگی۔ ان مخالفوں میں سب سےپیش پیش اجودھن کی مسجد کاپیش امام اور قاضی تھا۔ جس نےحکومت کےکارندوں کو بھی آپ کو ستانےپر اکسایا۔ لیکن آپ کی وسیع القلبی کا یہ عالم تھا کہ وہ مخالفوں کی حرکات کو مطلق خاطر میں نہ لاتےتھےاور نہ ہی اپنا دل میلا کرتی۔ آپ کی اس شان بےاعتنائی سےقاضی کا غصہ اور بھڑک اٹھا اور اس نےبابا صاحب کےخلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس نےملتان کےعلماءسےآپ کےخلاف فتویٰ حاصل کرنےکی کوشش کی اور اپنےایک خط میں علمائےملتان سےاستفسار کیا کہ ایک شخص جو اہل علم میں سےہی۔ قوالی سنتا ہےاس کےبارےمیں شریعت کا کیا حکم ہی؟
علمائےملتان نےقاضی کو تحریر کیا کہ اس شخص کا نام لکھو۔ قاضی نےآپ کا نام لکھ بھیجا۔ علمائےملتان نےحضرت کےخلاف فتویٰ جاری کرنےسےصاف انکار کر دیا اور قاضی کو لکھا کہ تم نےایک ایسےدرویش خدامست کا نام لکھا ہےجو تمام علوم شریعت کا منتہٰی ہی۔ ہماری کیامجال کہ اس کےقول و فعل پر اعتراض کریں۔
قاضی کا یہ حربہ ناکام ہوا تو اس نےایک آوارہ گرد لالچی قلندر کو آپ کےقتل پر آمادہ کیا۔ یہ شخص کپڑوں کےنیچےاپنی کمر میں ایک تیز دھار چھرا چھپا کر آپ کےآستانےپر پہنچا۔ آپ اس وقت عبادت میں مشغول تھےاور سجدہ میں پڑےہوئےتھی۔ صرف سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیائ آپ کےپاس موجود تھی۔ آپ نےحالت سجدہ ہی میں فرمایا:
”یہاں کوئی موجود ہی؟“
حضرت سلطان المشائخ نےجواب دیا:
”آپ کا غلام نظام الدین حاضر ہی۔“
آپ نےفرمایا:
یہاں ایک قلندر کھڑا ہےجو کانوں میں سفید رنگ کےمندرےپہنےہوئےہی۔
سلطان المشائخ نےاثبات میں جواب دیا تو آپ نےفرمایا۔

 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)