|
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
کچھ دیر بعد جوگیوں کی دوسری ٹولی بھی ادھر آنکلی انہیں بھی حضرت بابا فرید نےبیٹھنےکا حکم دیا۔ وہ بھی سرجھکا کر بیٹھ گئی۔ جیسےانہیں کسی مقناطیس نےجکڑ لیا ہی۔
آخرکار جادوگر بھی اپنےچیلوں کو ڈھونڈتا ادھر آنکلا اور اپنےچیلوں کو بیٹھےدیکھ کر چیخنےلگا کہ تم لوگ یہاں کیا کر رہےہو۔ گرو کی آواز پر چیلےخاموش رہی۔ اس پر بابا فرید نےفرمایا کہ انہیں میں نےقید کر لیا ہی۔
کون ہےجو میرےچیلوں کو قید کر سکی۔ گرو نےانتہائی غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتےہوئےمنتر پڑھنےشروع کر دیئی۔
حضرت بابا فرید نےجادوگر سےمخاطب ہو کر فرمایا اب کوئی منتر نہیں چلیں گی۔ کفر کےدن پورےہو چکےہیں۔
گرو پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی وہ چیخ چیخ کر منتر پڑھنےلگا اور بدی کی تمام قوتوں کو پکارتا رہا۔ مگر آج کوئی اس کا مددگار نہیں تھا جب گرو کی کوئی چال کارگر ثابت نہ ہوئی تو اس نےبھی حضرت فرید کےقدموں میں سر رکھ دیا اور اپنےچیلوں کی رہائی کیلئےالتجا کرنےلگا۔
تیرےچیلوں کو صرف ایک شرط پر رہائی مل سکتی ہےکہ تم انہیں لےکر دور چلےجائو اور آئندہ مخلوقِ خدا کو تنگ نہ کرو وگرنہ یہ زمین تم پر تنگ ہو جائےگی۔ اس واقعہ کا سارےعلاقےمیں خوب چرچا ہوا اور لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنےلگی۔
ذوالحجہ 663ھ کےآخری دنوں میں بیماری نےشدت اختیار کر لی اور آپ کو بےہوشی کےدورےپڑنےلگی۔ لیکن اس کےباوجود آپ کی کوئی نماز حتیٰ کہ نفلی عبادت تک قضا نہ ہوئی اور وظائف بھی وقت پر ادا ہوتےرہی۔ محرم 664ھ کی چار تاریخ کو بعداز نماز مغرب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ عشاءکی نماز آپ نےجماعت سےادا کی‘ پھر بےہوش ہو گئی۔ ہوش میں آنےکےبعد آپ نےسوال کیا:”میں نےعشاءکی نماز پڑھ لی ہی؟ عرض کی گئی۔ جی ہاں۔ آپ نےفرمایا: ایک مرتبہ پھر پڑھ لوں۔ دوبارہ نماز عشاءادا کی تو پھر بےہوش ہو گئی۔ ہوش میں آنےکےبعد پھر یہی سوال کیا۔ کہا گیا: آپ دو مرتبہ عشاءکی نماز پڑھ چکےہیں۔ فرمایا: ایک دفعہ اور پڑھ لوں‘ ممکن ہےپھر موقع نہ ملی۔ یہ فرما کر آپ نےعشاءکی نماز مع و تر ادا کی اور پھر تازہ وضو کیا۔ اس کےبعد سجدہ کیا اور سجدہ ہی میں ایک مرتبہ زور سےیاحی یاقیوم کہا اور جاں جان آفریں کےسپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
وفات سےچند منٹ پہلےپوچھا: نظام الدین دہلی سےآئےیا نہیں؟ کہا گیا‘ جی نہیں۔ فرمایا: میں بھی اپنےشیخ کےانتقال کےوقت ان کےپاس موجود نہ تھا۔ ہانسی میں تھا۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیائ کو اطلاع ہوئی تو وہ پاک پتن آئی۔ حضرت بابا صاحب کا مزار شریف تعمیر کرایا جو آج تک پاک پتن شریف میں مرجع خلائق ہی۔
|