kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



حضرت مولانا جلال الدین رومی
 


مولانا روم کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا آپ کو اجنبی کی جاہلانہ مداخلت سےاذّیت ہوئی لیکن مولانا نےاپنےجذبات پر قابو پا لیا۔ پھر اجنبی سےمخاطب ہو کر فرمایا کہ ذرا صبر کرو اپنا کام مکمل کر لوں پھر تمہارےسوال کاجواب دوں گا۔ اس کےبعد اجنبی نےدوبارہ کوئی سوال نہ کیا اور مسلسل کتب خانےکو دیکھنےلگا۔
درس ختم ہونےکےبعد مولانا اجنبی کی طرف متوجہ ہوئےجس کی ناشائستہ حرکات نےحاضرین مجلس کو اذّیت میں مبتلا کیا تھا۔
”آپ کون ہیں اور یہاں کس لئےتشریف لائےہیں“ مولانا نےاجنبی سےمخاطب ہو کر پوچھا۔
”مولانا! آپ میرےبارےمیںدریافت نہ کریں کہ میں کون ہوں؟“ اجنبی نےبڑی رخی سےکہا۔ بس مجھےمیرےسوال کا جواب چاہئےیہ کیا ہی۔ اجنبی کااشارہ کتابوں کی طرف تھا۔
یہ سن کر مولانا کا لہجہ تلخ ہو گیا اور اجنبی سےفرمایا تمہاری بینائی کمزور ہی۔
ہر گز نہیں۔ اجنبی نےاسی بےنیازی کےساتھ جواب دیا۔ میں تو بہت دور تک دیکھ سکتا ہوں۔ تمہیں نظر نہیں آتا کہ یہ کیا ہی“ مولانا نےجھنجھلاہٹ کا شکار ہوتےہوئےکہا۔
مجھےتو بہت کچھ نظر آرہا ہےلیکن میںآپ کی زبان سےسننا چاہتا ہوں۔ اجنبی نےایک بار پھر اپنا سوال دھرایا۔
مولانا روم کا لہجہ مزید تلخ ہو گیا اور فرمایا ”یہ وہ ہےجسےتم نہیں جانتی۔“ مولانا کا جواب سن کر اجنبی کھڑا ہو گیا پھر اس نےکتابوں کی طرف اشارہ کیا اور ایک ایک لفظ پر زور دیتےہوئےبولا۔ ”اچھا یہ وہ ہےجسےمیں نہیں جانتا۔“ ابھی اجنبی کےالفاظ کی گونج ہوا میں باقی تھی کہ یکایک کتب خانےمیں آگ بھڑک اٹھی اور مولانا روم کی نادر و نایاب کتابیں جلنےلگیں۔ یہ سب کچھ اس قدر اچانک اور ناقابل یقین تھا کہ مولانا دم بخود رہ گئےاور حاضرین پر سکتہ طاری ہو گیا۔
اجنبی بےنیازی سےآگےبڑھا۔ مولانا نےپکار کر کہا ”اےشخص! یہ کیا ہی؟“ مولانا نےبھڑکتےہوئےشعلوں کی طرف اشارہ کیا۔
اجنبی مسکرایا۔ مولانا سےمخاطب ہو کر بولا یہ وہ ہےجسےآپ نہیں جانتےاتنا کہہ کر اجنبی واپس جانےلگا۔ مولانا کےہونٹوںسےسرد آہ نکلی۔ ہائےمیری نادر و نایاب کتابیں۔ اےشخص! تیری وجہ سےسب کچھ راکھ ہو گیا۔
اجنبی جاتےجاتےرک گیا پھر مڑ کر مولانا سےمخاطب ہو کر کہا۔ اگریہ سب کچھ میری وجہ سےہوا ہےتو پھر میں تمہیں یہ کتابیں واپس کرتاہوں۔ یہ کہہ کر اس نےہاتھ کااشارہ کیا اور آگ کےبھڑکتےشعلےیکدم بجھ گئےآگ کا کہیں نام و نشان بھی نہ تھا۔ اس کےبعد اجنبی کچھ کہےبغیر تیزی سےچلا گیا۔
اجنبی کےجانےکےبعد کچھ دیر تک مولانا روم حیرت زدہ کھڑےرہےپھر اپنی کتابوں کی طرف بڑھےآپ کا خیال تھا کہ کچھ کتابیں جل چکی ہوں گی۔ لیکن حاضرین سمیت سب کو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ کتابوں کا ایک ایک ورق اور ایک ایک لفظ بالکل صحیح سلامت تھااوریوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا کتب خانےمیں آگ لگی ہی نہیں تھی مولانا نےاجنبی کو تلاش کیا لیکن وہ کہیں بھی نہ ملی۔ وہ جس طرح پراسرار انداز میں آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا۔ اس اجنبی کا نام حضرت شمس تبریز تھا۔ جنہوں نےایک ہی ملاقات میں مولانا روم جیسےنابغہ روزگار عالم کی دنیا ہی بدل ڈالی اور مولانا کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ مولانا اپنی روش ہی بھول گئی۔ کتب خانہ بند کر دیا گیا۔ درس و تدریس کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اب مولاناروم کو صرف ایک کام تھا کہ وہ ہر لمحےحضرت شمس تبریز کی خدمت میں حاضر رہتی۔
اس تبدیلی سےپورا شہرا ویران ہو گیا۔ مولانا کےعقیدت مند اس کا ذمہ دار اس اجنبی شخص کو قرار دینےلگےجس نےان سےان کا عالم چھین لیاتھا۔ اس پر مولانا روم یہی فرماتےکہ ”تم کیاجانو کہ شمس تبریز کون ہیں؟“۔

 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)