|
حضرت مولانا جلال الدین رومی
جب مولاناکےگھر والوں سمیت قونیہ شہر کےتمام لوگ حضرت شمس تبریز کو جادوگر کہہ کر پکارنےلگےتو حضرت شمس تبریز یہ زیادہ برداشت نہ کر سکےپھر ایک رات جب مولانا روم قریب ہی گہری نیند سوئےہوئےتھےحضرت شمس تبریز خاموشی سےگھر سےنکل گئی۔ صبح جب مولانا کو حضرت شمس تبریز کےچلےجانےکا علم ہوا تو آپ بہت پریشان ہوئی۔ بہت تلاش کیا لیکن کہیں بھی آپ کا نام و نشان نہ ملا۔
بعض روایتوں کےمطابق مولانا روم کےانتہاپسند مریدوں نےحسد کی وجہ سےحضرت شمس تبریز کو قتل کر دیا۔ قاتلوں میں مولانا کا ایک بیٹا بھی شامل تھا جوبعد میں ایک موذی بیماری کا شکار ہو کر مر گیا مولانا روم اپنےاس بیٹےسےاس قدر ناراض تھےکہ انہوں نےمرنےوالےبیٹےکےجنازےمیں شرکت تک نہ کی۔
حضرت شمس تبریز کی چند روزہ صحبت نےمولانا روم کو قلندر بنا ڈالا۔ ریاضت اور مجاہدہ اس قدر بڑھا کہ کسی مرید یا خادم نےآپ کو شب خوابی کےلباس میں نہیں دیکھا۔ دس دس بیس بیس دن تک کچھ نہ کھاتےپیتی۔ اذان ہوتی تو فوراً قبلےکی طرف مڑ جاتی۔ چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ استغراق کی حالت میں ہوئےتو گردوپیش کی خبر نہ رہتی۔ عشاءکی نماز کی نیت باندھتےتو دو رکعتوں میں ہی صبح ہو جاتی۔
پھر ایک دن بغداد کی گلی کوچوں میں مجذوب چیختا چلاتا آوازیں لگارہا تھا لوگو! خدا کی نافرمانیوں سےبازآجائو۔ شراب ذخیرےنالیوں میں بہا دو۔ ورنہ قدرت کا پیمانہ برداشت چھلکنےوالا ہےعذاب کےدن گنےجاچکےہیں۔ بس کچھ گھڑیاں باقی ہیں۔ توبہ کا دروازہ ابھی کھولا ہی۔ اگر سرکشی نہیں چھوڑو گےتو تمہارےکاندھوں سےگردنوں کےبوجھ کم کر دیئےجائیں گی۔ بڑا خون بہےگا بڑی رسوائی ہو گی۔“
ہر گزرتےہوئےلمحےکےساتھ مجذوب کی لےتیز ہوتی جارہی تھی۔ شروع شروع میںلوگ اسےپاگل سمجھ کر ایک دلچسپ تماشےسےلطف اندوز ہوتےرہی۔ پھر عشرت کدوں میں رہنےوالوں کو اس وحشی کےنعرےگراں گزرنےلگی۔ مجذوب سےکہا گیا کہ وہ نعرہ زنی بند کر دی۔ اس کی بےہنگم آواز سےامرا کےسکون میں خلل پڑتا تھا۔ وہ کسی عذاب کی باتیں کرتا ہےعذاب ہمیں چھو بھی نہیں سکتا۔ ہم اہل ایمان ہیں کئی بار تنبیہ کی گئی لیکن مجذوب نےاپنا چلن نہ بدلا وہ پریشان بالوں اور بوسیدہ کپڑوں کےساتھ ہر گلی کوچےمیں چیختا چلاتا پھر رہا تھا۔
اےلوگو! سرخ آندھی آنےوالی ہےاس کی تیز جھونکوں میں تمہارےپتھروں کےمکان روئی کےتیز گالوں کی مانند اڑ جائیں گی۔ اب اس قہر سےتمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہلاکت اور بربادی تمہارا مقدر بن چکی ہی۔
اس پر لوگ مشتعل ہو کر مجذوب کی باتوں کو بدشگونی قرار دینےلگےاور پتھر مارنےکےساتھ ساتھ اس پر گندگی پھینکنےلگی۔ جسمانی تشدد سےمجذوب خون میں نہا گیا۔ اس کےجسم سےبہنےوالا خون زمین پر جم گیا۔ بالآخر بغداد کےلوگوں نےاس دیوانےسےنجات حاصل کر لی۔ پھر مجذوب کو کسی نےنہیں دیکھا۔ وہ اپنا کام ختم کر کےبہت دور جاچکا تھا۔
پھر یکایک اہل بغداد کو قہر خداوندی نےآپکڑا۔ ہلاکو خان رات کےاندھیروں میں شمشیر بکف آگےبڑھ رہا تھا۔ عظیم الشان اسلامی سلطنت کےنگہبان ہاتھوں میں شراب کےجام تھی۔ موسیقی کےپر شور آوازوں نےگناہ کےخوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا تھا۔ سرحدی محافظوں کےبازو شل ہو گئےتھےاور تلواریں شاخ گل کی مانند لہرانےلگیں ۔ ہر طرف فتنہ وفساد کی آگ بھڑک اٹھی سنگ سرخ سےبنےہوئےسربہ فلک محلات میں آگ لگی ہوئی تھی اور علم و حکمت کےذخیرےسوکھی لکڑیوں کی طرح جل رہےتھی۔ شاندار تہذیب و تمدن کےتمام آثار وحشیوں کےنیزوں کی زد میں تھی۔ ہلاکو خان کےسامنےعالمانہ تقریریں کرنےوالےبےشمار تھےمگر وہ تلوار کےسوا کوئی زبان نہیںسمجھتا تھا اس فتنہ عظیم کو صرف جرا¿ت و شجاعت کےہتھیاروں سےروکا جاسکتا تھا مگر مسلمان بہت پہلےان ہتھیاروں کو زنگ آلود سمجھ کر اپنےاسلحہ خانوں میں دفن کر چکےتھےاس لئےچنگیز خان کاسفاک پوتا مسلمانوں کےسروں کےمینار بنا رہا تھا اور اہل بغداد ایک درندےسےتہذیب و شائستگی کی زبان میں رحم و کرم کی بھیک مانگ رہےتھی۔
|