|
حضرت مولانا جلال الدین رومی
اب ہلاکو خان کارخ نیشاپور کی طرف تھا۔ یہاں بھی موت کی سرخ آندھی نےتباہی مچا دی۔ علم و حکمت کےکیسےکیسےتناور درخت جڑوں سےاکھڑ گئےجن لوگوں نےکچھ دن پہلےبغداد کی شاہراہوں پر ایک مجذوب کو چیختےہوئےدیکھا تھا آج انہیں اس پاگل انسان کی باتیں یاد آرہی تھیں۔ مگر وقت ہاتھ سےنکل چکا تھا اچانک خبرآئی کہ تاتاریوں نےحضرت شیخ فریدالدین عطار جیسےبزرگ کو بھی شہید کر دیا۔ معرفت کا یہ مینار کیا گرا کہ گھروں میں سہمےہوئےمسلمان موت کےخوف سےکانپنےلگی۔ اب ان کےدرمیان سےوہ شخص بھی اٹھ گیا تھا جس کی دعائیں آسمان پر سنی جاتی تھیں۔
دوسری جانگداز خبر آئی کہ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ نےبھی جام شہادت پی لیا۔ اس طرح کہ آپ نےخانقاہ سےباہر آکر آخری سانس تک ہلاکو کی فوج سےجنگ کی اورمرتےوقت اپنی قوم کو ایک ہی پیغام دیا کہ مکانوں کو چھوڑ کر میدان کارزار میں نکل آئو۔ حضرت نجم الدین کبریٰ کی شہادت سےمسلمانوں کی امید کی آخری کرن بھی بجھ گئی تھی۔ معرفت کےاس بلند ترین مینار کےگرتےہی زمین تھرتھر کانپنےلگی اور ظلم و ستم کی رات مزید طویل ہو گئی۔
خون کا سیلاب راستہ بناتا ہوا مسلمانوں کےسرسبز و شاداب علاقوں سےگزر رہا تھا اب ہلاکوخان کےلہو آشام لشکر کا رخ مولانا روم کےشہر ”قونیہ“ کی جانب تھا۔ اس لشکر کی سالاری بیجو خان کو سونپی گئی تھی۔ بیجو خان نےاپنی فوجیں شہر کےچاروں طرف پھیلا دیں اور قونیہ کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ چند روز تک تو اہل شہر کو خوف و دہشت کےسوا کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوامگر جب محاصرےنےطول پکڑا تو قونیہ کےباشندوں کا سامان رسد بند ہو گیا جس سےہرطرف بدحواسی پھیل گئی۔ اہل شہر میں مشورےہونےلگی۔
کسی نےکہا ”بیجوخان سےمصالحت کی بات کی جائےاور اس کےمطالبات مان کر اس عذاب سےنجات حاصل کی جائی۔“
فوراً ہی دوسرےشخص نےجواب دیا۔ ”ہلاکوخان مسلمانوں کےخون کا پیاسا ہےوہ علی الاعلان خود کو خدا کا قہر کہتا ہےاس کےنزدیک امن و عافیت جیسےالفاظ کوئی مفہوم نہیں رکھتی۔“
”پھر کیاہو گا؟“ ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا آخر جب تمام ذہن سوچتےسوچتےمفلوج ہو گئےتو امیروں کی محفل میں ایک پریشان حال شخص داخل ہوا۔ اس مفلس انسان کو دیکھ کر دولت مندوں کی پیشانیوں پر بل پڑ گئےمگر وہ لوگوں کےاحساسات سےبےنیاز اندر چلا آیا اور بدمستوں کےدرمیان کھڑےہو کر بارعب لہجےمیں کہنےلگا۔
”لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہےکہ تم اپنےایک ہم مذہب کو دیکھ کر بدحواس ہو گئےہو میں تم سےبھیک مانگنےنہیں آیا مجھےدیکھ کر تمہارےچہروں پر نفرت کیوں برسنےلگی ہےاسی تنگ دلی اور بےضمیری نےتمہیں یہ خوفناک دن دکھائےہیں تم اپنےعشرت کدوں میں شراب سرخ سےدل بہلاتےرہےاور مخلوق خدا اپنےخون میں نہاتی رہی۔ اب دولت کےیہ ذخیرےلےکر کہاں جائو گےکہ زمین تم پر تنگ ہو چکی ہےاور آسمان بہت دور ہی۔“
یہ کہہ کر وہ اجنبی کچھ دیر کیلئےخاموش ہو گیا پوری محفل پرسکوت مرگ طاری تھا ہر شخص کےچہرےسےظاہر ہوتا تھا جیسےوہ نزع کی حالت میں گرفتار ہو۔
”میں تمہیں صرف یہ بتانےکیلئےآیا ہوں کہ اس قہر آسمانی کا بس ایک ہی علاج ہی۔“ اجنبی نےکچھ دیر خاموش رہنےکےبعد کہا۔
”ہاں! ہاں! ہمیں بتائو۔“ تمام امراءبیک زبان چیخی۔ ”ہم اپنےسیم و زر کےسارےانبار لوٹا دیں گےخدا کیلئےہمیں اس اذیت ناک صورتحال سےنجات دلائو۔ ہم گزرنےوالےہر لمحےکےساتھ مرتےہیں اور پھر دوسری ساعت میں جی اٹھتےہیں۔ ہلاکوخان کی دہشت ہمیں وقت سےپہلےمار ڈالےگی۔“ سب کےسب گداگروں کی طرح چیخ رہےتھی۔
”اس درویش کےپاس جائو جو تمہارےعشرت کدوں پر تھوک کر اپنی خانقاہ میں گوشہ نشیں
ہو گیا ہی۔“ اجنبی نےنہایت تلخ لہجےمیں کہا اس کےایک ایک لفظ سےاہل محفل کیلئےشدید
نفرت کااظہار ہو رہا تھا۔ ”وہ تمہارےسیم و زرکےذخیروں کا محتاج نہیں وہ تو خود
شہنشاہ ہےایسا شہنشاہ جس کےسامنےہلاکوکےسپاہی بھی حقیر کیڑوں سےزیادہ اہمیت نہیں
رکھتی۔ اس کےپاس جائو اگر وہ دعا کیلئےہاتھ اٹھائےتو ممکن ہےکہ تمہارےسروں پر آگ
کےشعلوں کےبجائےابررحمت برس جائی۔ اللہ اس کی بہت سنتا ہی۔
|