|
حضرت مولانا جلال الدین رومی
اجنبی کی باتیں سن کر اہل مجلس بدحواسی کےعالم میں کھڑےہو گئی۔ وہ اسی وقت درویش کےآستانےپر حاضر ہونا چاہتےتھی۔
”سنو۔۔۔۔“ اجنبی نےپکار کر کہا۔ ”وہ آسانی سےنہیں مانےگا۔ اس کےدروازےپر بھکاریوں کی طرح جانا وہ تمہاری قیمتی پوشاکوں اور زرنگار قبائوں سےنفرت کرتا ہی۔“
یہ کہہ کر اجنبی محفل سےنکل گیا تھوڑی دور تک لوگوں نےاسےجاتےدیکھا اور پھر وہ اچانک نظروں سےغائب ہو گیا تمام لوگ اس بات پر حیران تھےکہ وہ کون تھا؟ کیوں آیا تھا اور یکایک کہاں غائب ہو گیا؟ یہ ایک بڑا اہم واقعہ تھا مگر لوگوں کےپاس سوچنےکیلئےوقت نہیں تھا وہ انسان ہی سہی لیکن فرشتہ رحمت بن کر آیا تھا اس نےآگ اور خون کےدرمیان گھرےہوئےلوگوں کو سلامتی کی راہ دکھائی تھی۔
اب قونیہ کےمعززین اور شرفاءکی جماعت اس درویش کےآستانےکی طرف بڑھ رہی تھی۔ فاصلےختم ہوئےتو حاضری کےلئےاجازت طلب کی گئی۔ درویش فطرتاً کےروبرو پہنچےان کی آنکھوں کی پتلیاں لرز رہی تھیں اور چہرےموت کےخوف سےزرد تھےبعض نےبڑی ہمت کا مظاہرہ کرتےہوئےاپنےآنےکا مقصد بیان کیا مگر اس طرح کہ ان آواز لرز رہی تھیں۔
”میرےپاس کیوں آئےہو؟“ درویش نےبیزاری کےلہجےمیں کہا۔ ”اس کائنات میں میری کیا حیثیت ہی؟ تم اس کی بارگاہ میں کیوں نہیں گئےجو لوح محفوظ کا مالک ہےجس کےایک اشارےپر تقدیریں بنتی اور بگڑتی ہیں۔“
”شیخ! وہ ہماری نہیں سنتا۔“ قونیہ کےامراءنےرقت آمیز لہجےمیں کہا۔ ”ہم بہت گنہگار ہیں ہمارےلئےتوبہ کا در بند ہو چکا ہی۔“
”یہ سب غلط ہے۔“ اگرچہ درویش کےہونٹوں پر ہر وقت ایک دلنواز تبسم نمایاں رہتا تھا مگر وہ قونیہ کےامراءکی بات سن کر یکایک غضبناک ہو گیا۔ ”کوئی نہیں جانتا کہ درِتوبہ کب بند ہو گا؟ جائو اسی کو پکارو! وہی اپنےبندوں کی سنتا ہی۔ اگر وہ نہیں سنےگا تو پھر اس کائنات میں کون سننےوالا ہی؟“
امراءنےمحسوس کر لیا کہ درویش اپنا دامن بچا رہا ہی۔ اجنبی نےانہیں پہلےہی خبردار کر دیا تھا کہ درویش آسانی سےان کی بات نہیں مانےگا اس لئےوہ مزید گریہ و زاری کرنےلگی۔ ”آسمان سےہماری فریادوں کا جواب نہیں آتا۔ شیخ! ہم تیرےآستانےسےواپس نہیں جائیں گےاگر موت ہمارا مقدر بن چکی ہےتو پھر ہم تیرےہی قدموں میں مرجانا پسند کریں گی۔“
تم نےدیکھا کہ حضرت شیخ فریدالدین عطار شہید کر دیئےگئی۔ حضرت نجم الدین کبریٰ اپنےخون میں نہا کر خالق حقیقی سےجاملی۔ میں تو ان کےقدموں کی خاک بھی نہیں ہوں۔ پھر تمہارےلئےکس طرح دعا کروں؟ کیسےکیسےپارسا اس فتنہ عظیم میں زندگی سےمحروم ہو گئی۔ جب ان کی دعائیں قہر آسمانی کو نہ روک سکیں تو پھر میں کس شمار میں ہوں؟“ درویش بڑےدردناک لہجےمیں اپنی عاجزی کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔۔ مگر لوگ اس کی بات سننےکیلئےتیار نہیں تھی۔ انہیں صرف اپنےجان و مال کی فکر تھی وہ درویش کےسامنےبہت دیر تک گریہ وزاری کرتےرہی۔
آخر درویش مجبور ہو گیا۔ اس سےمخلوق خدا کی چیخیں نہ سنی گئیں۔ وہ اٹھا اور اپنا مصلیٰ لےکر خانقاہ سےنکل گیا لوگوں نےبڑی حیرت سےدرویش کےطرزعمل کو دیکھا وہاں موجود ہر شخص یہی سمجھ رہا تھا کہ درویش ان کےشورفغاں سےتنگ آکر خانقاہ کو چھوڑ کر چلا گیا ہی۔ پورےمجمع پر کچھ دیر کیلئےسکوت مرگ سا طاری رہا۔ پھر تمام لوگ خانقاہ سےباہر نکل آئےاور درویش کو دیکھنےلگےجو ساری دنیا سےبےنیاز تیز تیز قدموں کےساتھ ایک سمت چلا جارہا تھا۔
|