kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



حضرت مولانا جلال الدین رومی
 


آخر بیجوخان نےاپنی کمان کھینچی اور ایک قہر آلود نظر ان سپاہیوں پر ڈالی جن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اپنی کمانیں کھینچنےسےعاجز رہےتھی۔ سپاہیوں کی جان پر بن آئی تھی اور اب انہیں اپنی موت صاف نظر آنےلگی تھی بیجوخان نےپوری طاقت سےکمان کھینچی پھر فضاءمیں ایک مخصوص آواز ابھری اور ترکش سےتیر چھوٹ گیا۔ منگول سپاہی پتھرائی ہوئی آنکھوں سےتیر کو دیکھ رہےتھی۔ چند ثانیوں کی بات تھی۔ تاتاریوں کا خیال تھا کہ دوسرےہی لمحےمسلمان جاسوس کی لاش ٹیلےکی بلندی سےزمین کی پستیوں میں چلی جائےگی۔۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بیجوخان کا چھوڑا ہوا تیر درویش کےقریب سےنکل گیا۔ منگول سپہ سالار کا چہرہ احساس ندامت سےزرد ہو گیا۔ نشانہ چوک جانےپر وہ ناقابل بیان اذّیت و کرب میں مبتلا تھا۔ شدید غضب کےعالم میں اس نےترکش پر دوسرا تیر چڑھایا۔ اس بار کمان کو یہاں تک کھینچا۔ اس کےٹوٹ جانےکا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ نشانہ درست ہوتےہی بیجوخان نےتیر چھوڑ دیا۔۔۔۔ مگر اس مرتبہ بھی وہی ہوا۔ تیر سیدھا نشانےپر تھا مگر درویش کےقریب پہنچتےہی کٹ کر دوسری طرف نکل گیا اس کےبعد سپہ سالار بیجوخان اپنےہوش و حواس کھو بیٹھا پھر اس نےمسلمان جاسوس پر تیروں کی بارش کر دی۔۔۔۔ لیکن ایک تیر بھی درویش کےجسم کو نہ چھو سکا۔ انتہائی طیش کےعالم میں بیجوخان نےکمان اٹھا کر سپاہی کےسر پر دےماری اور اب وہ اپنےہاتھ سےاسےتہہ تیغ کرنا چاہتا تھا۔ بیجوخان غضبناک حالت میں آگےبڑھا مگر بمشکل تمام تھوڑی ہی دور جاسکا۔ اچانک سپہ سالار کو محسوس ہوا جیسےزمین نےاس کےپائوں پکڑ لئےہوں۔ وہ بہت دیر تک ہوا میں اپنی شمشیر لہراتا رہا۔ اس کےہاتھ مسلسل گردش کر رہےتھےمگر ٹانگیں پتھر کی ہو کر رہ گئی تھیں۔ آخر وہ اپنی بےکسی پر روپڑا۔ اس نےگھبرا کر سپاہیوں کی طرف دیکھا۔ سب کےسب سرجھکائےکھڑےتھی۔
”اےجادوگر! ہمیں معاف کر دی۔“ اچانک بیجوخان کی تیز آواز فضاءمیں گونجی۔ ”ہم قونیہ کا محاصرہ اٹھا کر واپس جارہےہیں اےعظیم ساحر! ہمیں جانےدےکہ ہم غلطی سےتیرےعلاقےمیں آگئی۔ ہماری بھول کو درگزر کر! بےشک تو اس مملکت کا شہنشاہ ہےہمیں اجازت دےکہ ہم اپنےگھروں کو واپس لوٹ جائیں۔“ منگول سپہ سالار بیجوخان اس طرح فریاد کر رہا تھا جیسےواقعتا وہ کسی طاقتور شہنشاہ سےرحم کی بھیک مانگ رہا ہو۔
ابھی بیجوخان کےالفاظ کی گونج باقی تھی کہ یکایک اس کےپیروں میں خون کی گردش بحال ہو گئی۔ منگول سپہ سالار نےاپنی تلوار نیچےکر لی اور سرجھکائےہوئےخیمےمیں واپس آگیا کچھ دیر پہلےجس شخص کو جاسوس کےنام سےپکارا جارہا تھا اب وہی بےاسلحہ اور نہتا انسان فاتح ٹھہرا تھا۔۔۔۔ اور بیجوخان جیسا طاقتور دشمن ناکام و نامراد لوٹ رہا تھا جب منگول سپاہی قونیہ کی حدود سےباہر نکل رہےتھےاس وقت بیجوخان کی آواز صاف سنائی دےرہی تھی۔ وہ اپنےفوجیوں سےکہہ رہا تھا۔
”گھوڑوں کی رفتار تیز کر دو۔ یہ پورا علاقہ جادو کےزیراثر ہی۔ اس بوڑھےساحر نےہر چیز کو باندھ کر رکھ دیا ہی۔“ ان الفاظ کےادا ہوتےہی گھوڑوں کی پشت پر تازیانےبرسنےلگےفضا حیوانوں کی چیخوں سےگونجنےلگی۔ راستوں سےگردوغبار اٹھا اور پھر فتنہ ہلاکو کا نقیب کسی نامعلوم منزل کی طرف بڑھ گیا۔
شہر قونیہ کےباشندےبہت خوش تھی۔ ایک درویش کی دعائوں کےسبب ان کےسروں سےعذاب آسمانی ٹل گیا تھا۔ درویش اپنی خانقاہ کی طرف آیا تو انسانی ہجوم نےاسےگھیر لیا۔ لوگ اپنی عقیدت کا اظہار کرنےکیلئےاس کےہاتھوں کو بوسہ دینا چاہتےتھےمگر وہ ان تمام رسموں سےبیزار تھا۔ اس نےانتہائی تلخ لہجےمیں لوگوں کو مخاطب کیا۔
”اگر آج نافرمانوں کی جماعت قہرخداوندی سےبچ گئی تو کل خیر نہیں۔ اس سےپہلےکہ دردناک عذاب تمہیں آپکڑی‘ اپنےگناہوں سےتوبہ کر لو بےخبروں کیلئےوقت کا ہر لمحہ رہزن ہےاپنےایمانوں کی حفاظت کرو ورنہ وقت کےبےرحم قزاق تمہارا سب سےقیمتی سرمایہ لوٹ کر لےجائیں گی۔“ یہ کہہ کر درویش خانقاہ میں چلا گیا اور اندر سےدروازہ بند کر لیا۔
مریدوں اور خدمتگاروں نےسنا۔ وہ اپنےرب کےحضور ہچکیوں سےرو رہا تھا۔ ”عزیزو جلیل! تو نےدنیا کےسامنےمیری شرم رکھ لی ورنہ یہ گنہگار تو رسوا ہو چلا تھا۔ اگر میں اپنی جان بھی نذر کر دوں تو تیرےاس احسان کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔“
جن کی دعائوں کےسبب شہر قونیہ فتنہ ہلاکو سےمحفوظ رہا‘ وہ درویش مولانا جلال الدین رومی تھی۔
 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)