|
تمہید
یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پیر طریقت رہبر شریعت اور میرےپیرومرشد حضرت مولانا محمد عنایت احمد دام برکاتہ کےحکم پر اس کتاب کی تحریر اور تالیف شروع ہوئی ۔ انتہائی مشکل ترین یہ کام اللہ تعالیٰ اور نبی کریم اکی خصوصی نوازشوں اور پیرومرشد کی دعا سےپایہ تکمیل تک پہنچا۔ جو آج بھی مسجد طحہ گلبرگ تھرڈ لاہور میں جلوہ افروز ہیں اور ہر روز ہزاروں مشاقان دین ان سےقلبی اور روحانی فیض حاصل کرتےہیں۔ وادی گلبرگ میں آپ کی جلوہ افزائی کو باعث راحت قلب تصور کیا جاتا ہی۔
دورانِ تحقیق بزرگان دین کی خصوصی توجہ اور محبت مجھےحاصل ہوتی رہی جس کا ایک خاص ہی نشہ اور سرور تھا اس سےیہ بات ثابت ہوتی ہےکہ بزرگانِ دین کو جو شخص بھی خلوص دل سےیاد کرتا ہےیا ان کا ذکر کرتا ہےوہ بھی اتنےہی خلوص اور محبت سےاس کا جواب دیتےہیں۔
بہرکیف اس کتاب کی تکمیل میں عظیم روحانی شخصیت اور پیرومرشد کی بےحدوحساب عنایتوں کےعلاوہ استاد مکرم سید گلزار الحسن شاہ صاحب‘ تبلیغ اسلام قاری زوار بہادر‘شعلہ بیان پروفیسر حبیب اللہ شاہ ہاشمی‘ اپنی عظیم ماں ہدایت بیگم کےعلاوہ خاں آصف خاں‘اعجاز رمضان روزنامہ نوائےوقت‘ خبریں اور روزنامہ مشرق کےدینی مزاج رکھنےوالےقلمکاروں کا بھرپور تعاون مجھےحاصل رہا۔
|