|
مجاہد اسلام
حضرت شاہ قبول اولیا
حضرت سید شاہ قبول اولیاءکرام نےبارہ برس اس غار میں چلہ کشی کی آپ دن کےوقت عبادت الٰہی میں مصروف رہتےاور رات کی تاریکی میں سرائےگدائی و اطراف کی مساجد میں نمازیوں کےوضو کیلئےندی سےپانی بھرا کرتے جب سحر ہوتی تو نمازی پانی دیکھ کر حیران رہ جاتےکہ آخر وہ بندہ خدا کون ہےجو یہ مقدس فریضہ انجام دےرہا ہےآپ نےیہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو بطریق احسن پورا فرمایا یہاں آپ کی دعائوں کےاثر سےاللہ تعالیٰ نےپراچہ خاندن کی ایک متمول بانجھ عورت کو لڑکا عطا فرمایا آج بھی یہ پراچہ خاندان ضلع مانسہرہ کےگائوں ”پیراں دا بانڈا“ میں آباد ہی۔ اڑھائی سو برس پہلےیہ مقام غیر آباد اور جنگل تھا لیکن اب یہ خوبصورت وادی کا روپ دھار چکا ہےحضرت سید شاہ قبول اولیائ نےیہاں ایک ایسا مصطفوی چراغ روشن کیا جسےآندھی اور طوفان بھی نہیں بجھا سکتےاب بھی لوگ اس غار کی خاک کو اکسیر سمجھتےہیں۔
مجاہد اسلام حضرت سید شاہ قبول اولیاءبارہ برس بھورہ شریف ہزارہ میں چلہ کشی و تبلیغ اسلام کےبعد اٹک تشریف لائےآپ نےیہاں بھی سلسلہ تبلیغ جاری رکھا جس کی وجہ سےسینکڑوں ہندو خاندان مشرف بہ اسلام ہوئےان میں ایک متمول نوجوان دیوان چند بھی تھا جس نےآپ کےدست حق پرست پراسلام قبول کرنےکےبعد آپ سےخلیفہ کا مرتبہ حاصل کیا آپ نےایک ہی نظر میں اسےدیوان چند سےداتا دیوان بنا دیا اور بعدازاں تعلیم و تربیت کرنےکےبعد تبلیغ اسلام کیلئے پوٹھوہار بھیج دیا یہاں حضرت داتا دیوان کی مساعی جمیلہ سےسینکڑوں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئی۔
مبلغ اسلام حضرت سید شاہ قبول اولیاء اٹک کےرہنےوالوں میں اسلام کی روح پھونکنےکےبعد پشاورتشریف لےگئےاس موقع پر داتا دیوان بھی آپ کےہمراہ تھےجب آپ پشاور پہنچےتو آپ کا عصا مبارک جو آپ کےمرشد حضرت سید شاہ عنایت نےیہ کہہ کرعنایت فرمایا تھا کہ جہاں یہ ٹھہرےاسی مقام کو مستقل قیام گاہ بنا لینا چنانچہ یہ عصا مبارک اس مقام پر ٹھہرا جہاں آج آپ کی ابدی آرام گاہ ہےیہ علاقہ غیر آبادتھا۔ یہاں صرف چند گھرانےآباد تھےجن کاکام چمڑےکےڈبےاور مشکیں بنانا تھا ان ڈبوں کا کاروبار بڑےپیمانےپر ہوا کرتا تھا کیونکہ افغانستان غزنی بخارا اور تاشقند کےتاجر ہندوستان میں داخل ہونےکیلئےدرہ خیبر اور پاراچنار کےتاریخی راستوں کو اختیار کرتےاور ان ڈبوں کو اپنےمال کی پیکنگ کیلئےخریدتےتھی۔
حضرت سید شاہ قبول اولیاءکا وردو مسعود1147ھ کو پشاور میں ہوا۔ روایت ہےکہ پہلےپہل ڈبہ گروں کےآباد ہونےسےاس علاقےکا نام ڈبہ گر تھا لیکن بعدازاں ڈبگری کہلانےلگا لیکن اب اہلیان علاقہ کےپرزور مطالبےپر بازار ڈبگری کو شاہ قبول اولیائ کی نام سےمنسوب کر دیا گیا ہےاور بازار شاہ قبول اولیاءکہلانےلگا ہےزمانہ قدیم میں حضرت سیدشاہ قبول اولیائ کی آمد کےوقت موجودہ محلہ حضرت شاہ قبول اولیاءمیں ندی بہا کرتی تھی اور اسی کےکنارےڈبہ گروں کےگھرانےآباد تھےجس کےنشانات اب بھی پائےجاتےہیں یہ ندی باڑہ سےبہتی ہوئی بازار بزازاں سبزی منڈی پل پختہ کریم پورہ اور پھر ہشت نگری کی طرف جانکلتی تھی جو بعد میں خشک ہو گئی یوں تو مجاہد اسلام حضرت سید شاہ قبول اولیاء کی متعدد کرامتیں مشہور ہیں لیکن یہاں صرف دو کا ذکر کیا جاتا ہےجس میں روایت کی گئی ہےکہ ایک روز آپ نےاپنےایک مرید کو آگ لانےکیلئےبھیجا تو وہ ایک ایسےگھر چلا گیا جہاںشادی کی تقریب منعقد تھی۔ رقص و سرور کی محفلیں گرم تھیں مرید بھی یہاں پہنچا آگ مانگی مگر گھر والوں نےآگ دینےسےانکار کر دیا بلکہ خوشیوں میں مخل ہونےپر مارا بھی۔ جب خود پر تشدد کےبعد واپس اپنےمرشد حضرت سید شاہ قبول اولیائ کےپاس پہنچا تو آگ نہ ملنےکا واقعہ بیان کیا آپ نےمرید سےفرمایا کہ انشاءاللہ آگ ملےگی لیکن شادی والےگھر میں جب کھانا تقسیم کیا جانےلگا تو دیگوں سےچاولوں کی بجائےکیڑےنکلنےلگےچنانچہ گھر والےپریشانی کےعالم میں اس فقیر کی تلاش میں نکل پڑےجسےنہ صرف آگ دینےسےانکار کیا تھا بلکہ پیٹا بھی تھااس طرح مشکوک فقیر کو ڈھونڈتےڈھونڈتےحضرت سیدشاہ قبول اولیاءکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئےاور آگ نہ دینےکی معافی مانگی آپ نےانہیں معاف کر دیا اور فرمایا کہ واپس جائو خودبھی چاول کھائو اورمہمانوں کو بھی کھلائو لوگ جب گھر لوٹےتو دیگوں سےچاول نکلنےلگےاس واقعہ کےبعد آپ کےحضور میں عقیدت مندوں کا ایک ہجوم رہنےلگا اس وقت پشاور گناہوں اور بدکاریوں کا مرکز تھا آپ نےپشاور کی سرزمین کو بےراہ روی سےپاک کرنےکیلئےاسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔
|