|
مجاہد اسلام
حضرت شاہ قبول اولیا
حضرت سید شاہ قبول اولیاءنےسب سےپہلےاپنےحجرےسےمتصل عبادت ریاضت اور لوگوں کی رشد و ہدایت کیلئےایک مسجد تعمیر کرائی ایک روز حضرت سید شاہ قبول اولیائ اپنی مسجد میں نماز ظہر کیلئےوضو بنا رہےتھےکہ خلاف معمول مسکرا پڑےعقیدت مند بھی وہاں موجود تھےجو چہرہ مبارک کا دیدار کر رہےتھےکیونکہ ان کاعقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کےنیک اور برگزیدہ بندوں کا چہرہ مبارک دیکھنا بھی عبادت ہےپوچھا حضور آج آپ خلاف معمول کیوں مسکرائےہیں آپ نےفرمایا کہ یہاں سےسینکڑوں میل دور کوہستانی علاقہ میں ایک نوجوان لڑکا ندی کےکنارےبیٹھا ہےپائوں اس کےپانی میں ہیںاور اپنی بھینسوں کی رکھوالی کر رہا ہےاسےپتہ نہیں کہ وہ ایک دن روحانیت کی دنیا میں بلند مقام حاصل کرےگا عقیدت مندوں نےعرض کی کہ حضور ہمیں بھی اس خوش قسمت نوجوان سےملوائیےحضرت سید شاہ قبول اولیائ نےاللہ ھو کا نعرہ لگایا ہی تھا کہ وہ نوجوان مسجد میں موجود تھا اس کےپائوں پانی سےتر تھےحاضرین نےسوالات کرنا شروع کر دیئےجواباً اس نوجوان نےصرف اتنا بتایا کہ وہ کوہستانی علاقہ کا رہنےوالا ہےندی کےکنارےبیٹھا اپنی بھینس چرا رہا تھا کہ یکایک اس کےکان میں اللہ ھو کی آواز گونجی اور پھراس نےاپنےآپ کو یہاں مسجد کےصحن میں پایا جب حضرت سلیمان کےدربار میں موجوداللہ کامحبوب و مقرب بندہ تخت بلقیس آنکھ کی جھپک میں لاسکتا ہےتو سینکڑوں میل دور سےنوجوان کامسجد میں حاضر ہونا بھی حضرت سید شاہ قبول اولیاءکی کرامت کا ظہور تھا چنانچہ آپ نےاس نوجوان کو مشرف بہ اسلام کرنےکےبعد اس کانام شیخ عبدالسلام رکھا اور اس کی روحانی تربیت کرنےکےبعد اسےرخصت کرتےہوئےفرمایا کہ اپنےعلاقہ میں تبلیغ اسلام کامقدس فریضہ ادا کرنا روایت ہےکہ ایک روز حضرت شیخ عبدالسلام کی بھینس نےبچہ جنا شیخ عبدالسلام بابا نےخود اپنےہاتھ سےاس کا دودھ نکالا اور اس کی کھیر بنائی اسےمٹی کی ہنڈیا میں ڈالا اور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئےتھوڑی ہی دیر کےبعد پشاور میں اپنےمرشد حضرت سید شاہ قبول اولیائ کےدروازےپر دستک دی پوچھا کون‘ جواب ملا حضور ”شیخو“ حضرت سید شاہ قبول اولیائ شیخ عبدالسلام بابا کو پیار سےشیخو پکارا کرتےتھےفرمایا اندر آجائو جب مرید خاص اپنےپیرومرشد کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دنوں سردیوں کا موسم تھا بارش ہو رہی تھی لیکن شیخ بابا کےکپڑےخشک تھےکھیر والی ہنڈیا سےڈھکنا اٹھایا گیا تو بھاپ اٹھ رہی تھی حضرت سید شاہ قبول اولیاءنےمرید سےپوچھا شیخو یہ کیا ہےفرمایا حضور یہ میری بھینس کی کھیر (بولی) ہےجسےمیں اپنےمرشد کی خدمت میں پیش کرنےکیلئےلایا ہوں آپ نےفرمایاباہر بارش ہےکھیر بھی گرم ہےاورتمہارےکپڑوں پر بھی بارش کا اثر بھی نہیں‘ بتائو کیسےآئےہو شیخ عبدالسلام بابا نےعرض کی کہ حضور اللہ تعالیٰ کےحکم سےبادلوں کےاوپر سےآیا ہوں مرید کا یہ جواب سنتےہی حضرت سید شاہ قبول اولیاءنےفرمایا کہ آج کےبعد نہ تواور نہ تیری اولاد میرےپاس آئےگی میری اولاد جائےگی اور تم سےروحانی فیض حاصل کرےگی آج تم نےوہ مقام حاصل کرلیا ہےجس کےتم مستحق تھےحضرت سید شاہ قبول اولیاءنےشیخ عبدالسلام بابا کو آخری بار رخصت کرتےہوئے188ھ کا لکھا ہوا قرآن مجید کا نادر قلمی نسخہ اور سلیمانی پتھروں کی تسبیح عنایت فرمائی یہ تبرکات آج بھی موضوع شتمیر بالا علاقہ لائی کوہستانی ہزارہ میں موجود ہیں لیکن حسب روایت شیخ عبدالسلام بابا کی اولاد میں سےکوئی بھی شخص حضرت سید شاہ قبول اولیاءکےدربار پر حاضری نہیں دےسکتا ورنہ جانی و مالی نقصان ہوتا البتہ حضرت سید شاہ قبول اولیائ کی اولاد اپنےجدامجد کےحکم کی تکمیل کرتےہوئےروحانی فیض حاصل کرنےکیلئےحضرت شیخ عبدالسلام بابا کےمزار پر حاضری دیتی رہتی ہےمجاہد اسلام حضرت سید شاہ قبول اولیائ مبلغین کی جماعتیں اپنےخلفاءحضرت شیخ عبدالسلام بابا حضرت داتا دیوان‘ حضرت سواتی بابا اور اپنےفرزند صغیر حضرت شاہ علی اکبر کی سرکردگی میں ہندوستان کےمختلف علاقوں میں تبلیغ دین مشن کیلئےروانہ کیں جن کی تبلیغی سرگرمیوں اور حسن اخلاق کی وجہ سےنہ صرف پشاور بلکہ سندھ ملتان‘ کشمیر ہزارہ‘ پوٹھوہار‘ کوہستان او ر قبائلی علاقوں میں اتنااثر ہوا کہ سینکڑوں بت خانےمسجدوں میں تبدیل ہو گئےاور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئی۔
مجاہد اسلام حضرت سید شاہ قبول اولیاءنےحسن اخلاق کا ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کیا اور اخوت‘ پیارومحبت کا ایسا درس دیا جو رہتی دنیا تک یاد رہےگا انہوں نےہر گنہگار‘ بدکار کو سینےسےلگایا اور ان کےدلوں سےگناہوں کےداغ دھبےدور کر کےایمان کی روشنی سےمنور فرمایا آپ نےکبھی بھی متنازعہ مسائل پر بات نہیں کی اولیاءکرام کا یہی طریقہ اور شیوہ رہا آج ہمارےملک میں فرقہ واریت کی جو وباءپھیلی ہوئی ہےہمیں چاہئےکہ اولیاءکرام کی ان تفصیلات پر عمل کریں جس کی اس وقت اشد ضرورت ہےعلماءکرام کو بھی چاہئےکہ وہ متنازعہ مسائل نہ چھیڑیں اور پیار محبت کا درس دیں جس سےہمارےملک میں امن قائم ہو سکتا ہےاور فتنوں سےنجات مل سکتی ہےحضرت سید شاہ قبول اولیاء34 برس تک پشاور کو اپنےچشمہ فیض سےسیراب فرما کر 80 برس کی عمر میں اپنےخالق حقیقی سےجاملےانا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کےجسد مبارک کا تابوت آپ کی وصیت کےمطابق حویلی و نشست گاہ کےقریب دفن کیا گیا جو درگاہ عالیہ حضرت سید شاہ قبول اولیائ کےنام سےموجود ہےجہاں ہزاروں عقیدتمند حاضری دےکر آپ کی روحانی برکتوں سےمالامال ہوتےہیں۔
|