|
عظیم صوفی حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی
پھر ان کی زندگی ہی میں (جب ان کی عمر پچاس برس تھی) نادر شاہ دہلی پر
حملہ آور ہوا ان ایاّم میں سندھ ایران کا باجگزار تھا‘ پھر انہوں نےاحمد شاہ ابدالی
کےہاتھوں دلی کو تاراج ہوتےاور سندھ پر کابل کا اقتدار قائم ہوتےدیکھا۔ اس کےچار
برس بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نےٹھٹھہ میں اپنا مرکز قائم کر لیا اورسندھ میں ایک
نوآبادیاتی طاقت کےپائوں جمنےلگی‘ شاہ عبدالطیف نےاس پر آشوپ دور سےبظاہر کوئی اثر
قبول نہ کیا کیونکہ ان کےکلام میں اس دور کی سیاسی ابتری کابہت کم ذکر آتا ہی۔
انہوں نےتصوف میں سکون پایا‘ آپ کلہوڑا خاندان کی رزم آرائیوں سےبےنیاز اور سیاسی
خلفشار سےکنارہ کش رہےاور اپنےخاص انداز میں حق جوئی اور مابعد الطیعاتی مسائل کو
حل کرنےمیں لگےرہی۔
آپ نےسندھ کےطول عرض کےسفر کئےجیسلمیر‘ ملتان‘ کاٹھیاوار‘ لسبیلہ‘ مکران اور بلوچستان کےبعض دوسرےحصوں کی سیاحت کی جس سےآپ کو ہر طرح کےلوگوں سےملنےاور زندگی کےنئےتجربات کا موقع ملا۔ آپ کو وطن اور اپنےلوگوں سےبےپناہ محبت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی شاعری سندھ کےباسیوں کےخیالات اور آپ کی زندگی کی آئینہ دار ہی۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی سب سےبڑی خصوصیت ان کی خداترسی تھی۔ آپ نےعبودیت اور خودسپردگی کےجذبےکو جس شدت کےتاثر کےساتھ بیان کیا ہےکسی دوسرےشاعر کےہاں اس کی مثال نہیںملتی۔ آپ نےاپنی نظموں کامواد عوامی کہانیوں سےاخذ کیا۔ آپ کو موسیقی سےطبعی لگائو تھا۔ وہ سرور و نغمہ کو کیف و عرفان کےحصول کا وسیلہ گردانتےتھےآپ اپنےاشعار ترنم میں ڈھال کر سنتی‘ ابتدا میں ساز ی سنگت نہ ہوتی لیکن جب دہلی سےاٹل فقیر سندھ آ کر آپ کےمقیم آئےاور آپ کےحلقہ ارادت میں شامل ہوئےتو آپ نےگانےکےساتھ ساز بجانےکی اجازت بھی دےدی۔ ان دونوں گویوں پر آپ کی خاص عنایت تھی۔
آپ کی وفات کےمتعلق یہ روایت مشہورہےکہ ایک شام شاہ عبدالطیف حجرےسےباہر آئی‘ وضو کیا‘ نماز پڑھی۔ جب رات خاصی بیت گئی او ر شاہ صاحب کےحلقہ خاص کےمرید ہی مجلس میں رہ گئےتو آپ نےقوالوں کو کافیاں پڑھنےکا حکم دیا۔ قوالوں نےطنبورہ اور سازندےکےتار ہلائےاور شاہ صاحب کی کافی کےبول اٹھائےپھر کچھ ایسا سماں بندھا کہ کسی کو تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ شاہ لطیف سرجھکائےعرفان الٰہی میں گم تھی‘ رات بھر آپ کی یہی حالت رہی۔ قوالوں کی میٹھی تانیں سرمستوں کو کیف الٰہی سےسرشار کرتی رہیں۔ صبح کےقریب جب افق مشرق پر سپیدہ سحر نمودار ہوا تو قوالوں نےنغمہ بند کر دیا۔ اہل حال نےسر اٹھایا تو حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی تو رات ہی کسی وقت واصل حق ہو چکےتھی‘ کسی نےانہیں خرقہ خاک اتارتےاور نورازل میں گم ہوتےنہ دیکھا تھا۔ ایک عقیدت مند نےبھٹ شاہ کےمقام پر آپ کی قبر پر ایک خوبصورت روضہ تعمیر کرایا‘ سکھر کےایک مشہور خطاط نےشاہ کےمزار پر نقاشی کی۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی اٹھارہویں صدی کےاس زمانےمیں گزرےہیں جب شعر و ادب کےافق پر کئی درخشاں ستارےجگمگا رہےتھی۔
آپ کےتمام اشعار جمع نہ ہو سکی۔ مریدوں نےجو کچھ سنا‘ اسےحفظ کر لیا اور اسےلکھ کر محفوظ رکھ لیا۔ آپ کا مطبوعہ کلام ”شاہ جو رسالو“ سندھی میں ہی۔ سندھ کی رومانی داستانیں‘آپ کی شاعری میں جذب ہو کر صرف داستانیں ہی نہ رہیں بلکہ بلند ہو کر فلسفہ حیات بن گئیں۔ ”شاہ جو رسالو“ سب سےپہلےڈاکٹر ٹرمپ نےجرمنی میں چھپوایا۔ پھر اس کےمتعدد ایڈیشن شائع ہوئی۔ اس کا منظوم اردو ترجمہ مشہور شاعر شیخ ایاز نےکیا اورسندھ یونیورسٹی نےشائع کیا۔ وادی سندھ تاریخی لحاظ سےاس خوش نصیبی کی حامل ہےکہ دین اسلام کی تعلیمات‘ اس کلام کی بدولت اس سرزمین تک پہنچ چکی تھیں۔ اس سرزمین میں محدثین کا ایسا گروہ اٹھا جس نےعلمی نہج پر بہت وقیع کارنامےسرانجام دیئی۔ محمد بن قاسم کےنقوش قدم ایسےبابرکت ثابت ہوئےکہ وقت گزرنےکےساتھ ساتھ یہاں پر اسلامی سلطنت اور اسلامی تہذیب کی اقدار و روایات مستحکم ہوتی چلی گئیں۔ اس سرزمین میں اسی تاثیر اسلام کا فیض تھا کہ یہاں روحانیت کےبڑےاکابرین بھی پیدا ہوئی۔ جن کی نگاہ فیض اثر نےاس صوفیانہ حدت و حرارت کو ابھی تک وہاں قائم رکھاہوا ہی۔ اتحاد ملت کیلئےصوفیائےکرام کا روحانی پیغام تحریک پاکستان کےدوران بھی واضح اور نمایاں رہا۔ آج بھی ہر رنگ و نسل اور مذہب کےلوگ آپ کےدربار عالیہ پر جمع دکھائی دیتےہیں۔
|