kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



سلطان العارفین
حضرت سلطان باہو
 


چنانچہ جلد ہی بی بی راستی بھی اپنےشوہر بازید محمد کےپاس شورکوٹ پہنچ گئیں اور شورکوٹ کی فضا اللہ ہو! اللہ ہو کےورد سےجھومنےلگی۔ دونوں میاں بیوی دن رات اللہ ہو کا ورد کرتی۔ پھر ایک دن ان کےاللہ ہو! کےورد میں ایک نوزائیدہ بچےکی معصوم کلکاریوں کی گونج بھی ہم آہنگ ہو گئی اور اللہ کی امانت ظاہری حالت میں بی بی راستی کی آغوش میں مہکنےلگی۔
وہ معصوم بچہ جس کی آنکھوں میں ستاروں کی چمک تھی اور پیشانی چاند کی طرح روشن اس کےفطری اور پیدائشی جوہر‘ شیرخواری میں ہی چمکنےلگی۔ ماں عبادت یا تلاوت میں مشغول ہوتی تو اس یقین کےساتھ کہ بچہ اس کی مصروفیات میں حائل نہیں ہو گا اور اس معصوم سی جان کا یہ عالم تھا کہ رمضان کےدنوں میں دودھ پینےسےاجتناب برتنےلگا۔ اس کی شخصیت میں ایسی عجیب سی مقناطیسی کشش تھی کہ جس پر نظر ڈالتا اس میں ایک ایسا حیرت انگیز تغیر رونما ہو تا کہ وہ خودبخود کسی تبلیغ و ترغیب کےبغیر کلمہ شہادت پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہو جاتا۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال تھی جس سےغیرمسلم بےحد خائف تھی۔ چنانچہ انہوں نےباہمی صلاح مشورےکےبعد بچےکےباپ بازید محمد سےدرخواست کی کہ جب بھی آپ کا بچہ اکیلا یا آپ کےہمراہ باہر نکلی۔ براہِ مہربانی منادی کرا دیا کریں تاکہ ہمارےہم مذہب بھائی اس وقت خود کو اس بچےکی نظروں سےدور رکھ سکیں۔ بازید محمد نےمسکرا کر خندہ پیشانی سےانہیں ان کےمطالبےپر اثبات میں جواب دیا اور پھر فضا وہ عجیب منظر بھی دیکھنےلگی کہ جب اس بچےکےباہر نکلنےکا اعلان ہوتا غیرمسلم خود کو اپنی پناہ گاہوں میں چھپا لیتےکہ کہیں حق کا یہ ناقابل تردید نور ان کےنظریئےاور عقیدےپر اثرانداز نہ ہو جائی۔
وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔ بچہ شعور کی منزلیں طےکرتا‘ جذب ومستی میں غرق پروان چڑھتا رہا۔ ایک دن وہ خدا کی یاد میں ڈوبا شورکوٹ کےنواح میں گھوم رہا تھا کہ اچانک اس پر بےخودی سی چھا گئی۔ ایک بےنام سی پرسکون کیفیت میں اس نےایک نورانی چہرہ دیکھا۔ جس نےاپنائیت سےاسےپکڑ کر قریب بٹھایا اور پھر بڑےدلنشین انداز میں اسےآگاہ کیا کہ میں علی ابن طالب ہوں۔ بچہ کم عمر تو تھا لیکن کم علم نہیں۔ اس نےجو علی کو یوں سامنےدیکھا تو قریب تھا کہ وہ وفور مسرت سےخود کو ان پر نثار کر دیتا حضرت علی نےاس پر توجہ مرکوز کر کےاس میں حوصلہ پیدا کیا اور فرمایا ”فرزند! آج تم رسول ا کےدربار میں طلب کئےگئےہو۔“
اور پھر جیسےوقت تھم گیا ہو ہر شےساکت ہو گئی ہو اور بچےنےلمحوںمیں خود کو آنحضور اکی بارگاہ میں خود کو پایا۔ جہاں صدیق اکبر، فاروقِ اعظم اور عثمان غنی بھی موجود تھی۔ رسول اللہ انےبچےسےپہلےخود بیت لی پھر اسےحضرت علی کےسپرد کر کےاس معصوم کی دنیا ہی بدل گئی۔ جوانی کی منزل میں قدم رکھا تو سلطان العارفین شیخ سلطان باہو کےنام سےمشہور ہوئی۔
حضورا سےشرفِ ملاقات کےسبب سلطان باہو اب ہر وقت‘ ہر لمحہ حق کےمشاہدوں سےمشرف اور ذاتِ وحد ة لاشریک کےجاہ و جلال میں مست رہتی۔ اولیاءکےمقبروں پر حاضری دیتی۔ زندہ مشائخ کےپاس جاتی۔ خدا کی وحدانیت کا پرچار کرتےدن رات دل میں اللہ کی محبت کی جوت جگائےاللہ ہو اللہ ہو کا ورد کرتےرہتی۔
سلطان باہو نےکسی قسم کا کتابی علم تو حاصل نہیں کیا تھا لیکن ان کےسینےمیں روحانی علم کا ایک سمندر موجزن تھا۔ فقر‘ تصوف ‘ معرفت پر آپ کےملفوظات کا ذخیرہ ایک بیش قیمت خزانہ ہےشریعت‘ طریقت اور حقیقت جیسےمشکل اور نازک موضوعات پر لاتعداد تصانیف ان سےمنسوب ہیں۔ اپنی کتاب میں فرماتےہیں۔ ”لوگو میں نےجو کچھ دیکھا‘ ان ظاہری آنکھوں سےدیکھا جو سر میں ہوتی ہیں اور اس ظاہری جسم سےدیکھا اور مشرف ہوا۔“

شیخ سلطان نےعلوم کےحصول کیلئےکوچہ گردی اور فحرا نوردی کا سلسلہ اختیار کئےرکھا۔ آپ تجسس کی مسافت کےراستوں کو طےکرتےمختلف درویشوں اور فقیروں سےملی‘ لیکن کوئی بھی آپ کی کسوٹی پر پورا نہ اترا۔ علم کےسفر میں‘ آپ نےلاتعداد فقرا سےبغداد کےشاہ حبیب اللہ قادری کا تذکرہ سنا تو ان سےملاقات کی خواہش دل میں مچلی۔ سو اس شوق کی تکمیل کی خاطر آپ نےہندوستان سےعراق تک کا طویل سفر طےکر کیلئےرخت سفر باندھا اور بغداد جا پہنچی۔ شاہ حبیب اللہ کی خانقاہ میں داخل ہوئےتو دیکھا خانقاہ درویشوں زائروں اور خدام سےبھری ہوئی ہےاور لوگ جوق در جوق ایک جانب ہلکی آنچ پر رکھی پانی سےبھری دیگ میں ہاتھ ڈالتےجاتےہیں اور مرادیں پاتےجاتےہیں۔ آپ نےخاموشی سےیہ سب منظر دیکھا اور چپ چاپ ایک طرف بیٹھ گئی۔ دفعتاً شاہ حبیب اللہ کی نظر آپ پر پڑی تو انہوں نےسلطان باہو سےکہا۔ ”تیری ظاہری حالت سےتو دکھائی دیتا ہےکہ تو طویل مسافت طےکر کےیہاں تک پہنچا ہےپھر اب خاموش اور علیحدہ کیوں بیٹھا ہےاٹھ۔۔۔۔ تو بھی دیگ میں ہاتھ ڈال کر اپنی مراد پا لی۔“
 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)