kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



سلطان العارفین
حضرت سلطان باہو
 


سلطان باہو نےخاموشی سےان کی بات سنی اور ادب سےبولی۔ ”مجھےکشف و کرامت کےیہ کھلونےمتاثر نہیں کرتےاور نہ میری مراد ایسی ہےجو اس طرح بر آئی‘ مَیں وہ مقام پانا چاہتا ہوں جہاں ذاتِ حق کےسوا کوئی نہ ہو۔ حق باہو۔ باہو۔“
شاہ حبیب اللہ نےچونک کر ان پرنظر ڈالی اور کہا۔ ”درویش! بےشک تیری ارزو بلند تر ہےلیکن کیا تو جانتا ہےکہ بلند آرزو کی تکمیل کےمراحل کتنےکٹھن ہیں۔“
”بےشک! سلطان باہو نےعزم سےکہا۔ مَیں نےیہ طویل مسافت بےسبب طےنہیں کی۔ آپ حکم دیجئی۔“
شاہ حبیب کچھ دیر تک آپ کےچہرےپر نظریں جمائےآپ کو دیکھتےرہےپھر بولی! اچھا۔ فی الحال پانی بھر۔“ یہ کہہ کر انہوں نےایک خادم کو بلایا جس نےایک مشکیزہ لا کر آپ کےحوالےکر دیا۔ سلطان باہو نےوہ مشکیزہ تھاما اسےپانی سےبھرا اور لےجا کر حوض میں انڈیلا۔ حوض ایک ہی مشکیزہ سےلبالب پانی سےبھر گیا۔ شاہ حبیب سمیت حاظرین نےحیرت سےاسےدیکھا چنانچہ اگلےلمحےشاہ حبیب ‘ سلطان باہو سےمخاطب ہوئےآزمائش کیلئےخود کو آمادہ پاتا ہی؟“ آپ نےفوراً آمادگی ظاہر کی۔ شاہ حبیب نےپوچھا۔ ”تیرےپاس کوئی دنیاوی مال و اسباب بھی ہےکیا؟“
آپ نےاثبات میں سر ہلا دیا۔
شاہ حبیب برجستہ بولی۔ ”دریش اور دنیاوی مال کا آپس میں کیا تعلق؟ ایک میان میں دو تلواریں کیسےرکھی جاسکتی ہیں؟ ارےتو ایک دل میں دو محبتیں جمع کرنا چاہتا ہی؟
یہ سن کر سلطان باہو تقریباً بھاگتےہوئےخانقاہ سےنکلےاور بغداد سےنکل کر ہندوستان کی طرف گامزن ہوئی۔ گھر جا کر انہوں نےتمام مال و زر اکٹھا کیا اور باہر پھینک دیا۔ حتیٰ کہ پنگھوڑےمیں لیٹےاپنےشیرخوار بچےکی انگلی سےسونےکی انگوٹھی بھی اتار کر باہر اچھال دی۔ اگلی صبح پھر وہ طویل مسافت طےکر کےبغداد پہنچےاور سیدھےخانقاہ میں گئی۔ درویش شاہ حبیب نےانہیں دیکھتےہی اٹھ کر ان کا استقبال کیا اور بولی۔ ”بےشک تم نےدنیاوی مال سےتو نجات حاصل کر لی مگر ابھی اپنی عورتوں سےآزادی حاصل نہیں کر پائی۔ دونوں میں سےکس کا حق ادا کرنےکا ارادہ ہی؟ بیویوں کا حق ادا کرو گےیا خدا کا؟“
یہ سننا تھا کہ سلطان باہو بنا کچھ کہی‘ آرام کئےبغیر ایک بار اپنےطویل سفر کیلئےتیار ہو گئی۔ منزلوں پر منزلیں سر کرتےوہ گھر پہنچےتو ماں نےاسےدیکھتےہی پہلےاپنےپاس بٹھا لیا۔ وہ ایک پرہیزگار نیک خاتون تھیں۔ اچھی طرح جانتی تھیں کہ بیٹا آج کس نیت سےگھر میں داخل ہوا ہی۔ پھر بھی انجان بنتےہوئےبولیں۔ ”سلطان۔۔۔۔ اب کیسےآنا ہوا۔؟“
آپ نےنرمی سےسر جھکا کر مقصد بیان کیا آپ کی والدہ ”بی بی راستی“ نےانہیں قریب بٹھایا اور آہستگی سےمخاطب ہوئیں۔“ تمہاری بیویوں کےجو حقوق تم پر ہیں۔ آج سےتم‘ ان سےآزاد ہو اور تمہاےجو حقوق بیویوں کےذمےہیں وہ بدستور قائم رہیں گی۔ اگر تم حقیقی معرفت کےحصول میں کامیاب ہو گئےتو بہتر ہےلیکن محض بیویوں کےحقوق پورےکرنےکی خاطر گھر آئو تو اس کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا اب طلاق کا خیال بھی دل میں نہ لانا؟“
ماں کی یہ قابل تجویز سن کر آپ بہت پرسکون اور مطمئن انداز میں دوبارہ بغداد کی طرف روانہ ہو گئےاور سیدھےخانقاہ پہنچےجہاں اس مرتبہ شاہ حبیب نےآپ کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا اور کامل نظر سےان کی طرف توجہ کی۔ سلطان باہو آپ کی اس توجہ سےقلبی واردات سےدوچار ہوئی۔ کچھ دیر بعد شیخ حبیب نےدریافت کیا۔ سلطان! مطمئن ہی؟ کچھ مشاہدہ کیا؟“
آپ نےادب سےسر جھکا کر کہا۔ ”شیخ! جو کچھ مجھ پر منکشف ہوا اس سےتو میں پنگھوڑےمیں ہی آشنا ہو گیا تھا۔ میری تمنا اس سےزیادہ کی ہی۔“
 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)