|
سلطان العارفین
حضرت سلطان باہو
سلطان باہو نےجواب دیا۔ ”باغ میں گل اور صحرا میں خاردار پودےاگتےہیں تو اس میں بارش کو دوش نہیں دیا جاتا۔ میں نےسب پر یکساں توجہ دی۔ تم سنت دل ہو تم پر اثر نہیں ہوا تو میرا کیا قصور؟“ انہوں نےعاجزی سےدرخواست کی کہ ہمیں اس لذت سےمحروم نہ رکھیں۔ چنانچہ آپ نےان کی استدعا قبول کی اور ان پر نظرکرم ڈالی۔
یہاں سےفارغ ہو کر سلطان باہو بازاروں میں جانکلےاور خلقت پر توجہ صرف کی۔ نتیجتاً شہر میں ایک ہنگامہ سا مچ گیا۔ کسی نےدوڑ کر شیخ عبدالرحمان کو آگاہ کیا کہ ایک ولی بازار میں لوگوں کو وجدو جلال میں مبتلا کرتا پھر رہا ہی۔
انہیں اس کا اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ولی کون ہو سکتا ہی۔ چنانچہ انہوں نےسلطان باہو کو بلا کر رنجیدہ اور ملول سےلہجےمیں کہا ”باہو! یہ کیا؟ ہماری دی ہوئی نعمت کواس طرح عام کرتا پھر رہا ہی۔“
سلطان باہو نےاحترام سےسرجھکائےکہا۔ ”شیخ! کوئی عورت بازار سےتو ابھی خریدےتو ٹھونک بجا کر دیکھ لیتی ہی۔ کوئی لڑکا کمان خریدےتو کھینچ کر لچک ضرور دیکھتا ہےپھر میں کس طرح آپ سےحاصل کی ہوئی نعمت کو نہ آزماتا؟“
شیخ عبدالرحمان‘ سلطان باہو کی یہ دلیل سن کر مسکرا پڑےاور کہنےلگی۔ ”باہو! میں تجھےمنع نہیں کرتا مگر اس کا خیال رکھا کر کہ ہر شخص اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب تو وطن واپس جا اور رشد و ہدایت کا کام سنبھال۔“
ایک طویل عرصہ کےبعد شیخ سلطان باہو واپس لوٹےاور تبلیغ و تلقین کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خانقاہ درویشوں سےبھری رہتی۔ لنگرخانےکا انتظام بی بی راستی نےسنبھال لیا۔ راہوں سےبھٹکےبدنصیب افراد آتےاور آنکھوں میں مشعلیں روشن کر کےخانقاہ سےلوٹتی۔
سلطان باہو نےآبائی جاگیر سےایک تنکا تک کبھی نہ لیا۔ ضروریات زندگی کی خاطر بیلوں کی جوڑی خرید کر کاشتکاری شروع کر دی مگر فصل کاٹنےسےپہلےہی اسےدوسروں کیلئےچھوڑ دیا۔ روکھی سوکھی کھا کر اور موٹا لباس پہن کر گزارا کرتی۔
ایک دن شورکوٹ کےآس پاس کا رہائشی قلاش رئیس آپ کی خدمت میں مالی امداد کی خاطر حاضر ہوا۔ لیکن اس نےجب آپ کو یوں محنت مزدوری کرتےپایا تو مایوس ہو کر واپس پلٹا کہ یہ شخص بھلا اس کی کیا مدد کرےگا۔ ابھی وہ مڑا ہی تھا کہ اچانک پشت سےنام لےکر کسی نےپکارا۔ وہ شخص حیرت زدہ ہو کر پلٹا تو حضرت باہو اشارےسےبلا رہےتھی۔ دل میں امید کی کرن چمکی تو ان کےپاس تیزی سےلپکا۔ آپ نےفرمایا۔ ”بھئی کیوں اتنی مصیبت سہنےکےبعد ملاقات کئےبنا ہی پلٹ رہا تھا۔“ اس بےچارےنےجو یہ اپنائیت بھرا لہجہ سنا تو بپتا سنانےلگا۔ سلطان باہو نےاسی وقت زمین سےایک ڈھیلا اٹھا کر دوبارہ زمین پر جو مارا تو زمین پر مٹی کےڈھیلےسونےکےبن گئی۔ وہ شخص حیرت و استعجاب سےیہ دیکھ کر گنگ رہ گیا۔ آپ نےفرمایا۔ ”لےجتنا ضرورت ہےلےجا۔“ و ہ شخص فوراً اپنےساتھیوں کو بلا لایا اور گھوڑوں پر سونا لاد کر وہاں سےرخصت ہوا۔
سلطان باہو کو دنیاوی دولت سےکس قدر نفرت تھی۔ اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سےہوتا ہی۔ ایک دن آپ ریت پر لیٹےسر اپنےایک مرید کےزانوں پر رکھےسو رہےتھی۔ ریت پر سونےسےان کا لباس اور جسم خاک آلودہ ہو گیا۔ مرید نےجو مرشد کو اس حال میں دیکھا تو دل ہی دل میں تاسف کا اظہار کرتےہوئےسوچنےلگا کہ کاش میرےپاس زروجواہر ہوتےتو آج اپنےپیر کو یوں زمین پر نہ سلاتا۔
سلطان باہو نےاس کےزانوں سےسر اٹھا کر پوچھا۔ ”کیا سوچ رہےہو؟“ مرید نےجو محسوس کیا تھا اور پھر جو سوچا تھا سب آپ کو کہہ سنایا۔ آپ نےمسکرا کر اسےدیکھا اور کہا۔ ”ذرا آنھیں تو بند کر۔“ مرید نےحکم کی تعمیل کی تو کیا دیکھتا ہےایک باغ بےمثل ہی۔ ہر سو مہکتی فضا ہےاور ایک حسین وجمیل لڑکی جواہرات میں لدی پھندی اس سےکہہ رہی ہی۔ ”مجھ سےنکاح کر لو۔“ مرید نےدھیمےلہجےمیں کہا۔ ”دور ہو کمبخت۔ کیوں مجھےمرشد کی نظروں سےگرانا چاہتی ہی۔“ اور پھر اس کی آنکھیں خودبخود کھل گئیں اور پلکیں شرم سےجھک گئیں۔ آپ نےمسکراتےہوئےاس سےپوچھا۔ ”کیا دیکھ رہا تھا؟“ مرید نےسب حال کہ سنایا۔ آپ نےپوری بات سننےکےبعد کہا۔ ”تو کیسا ہےرہی۔ ابھی تو دولت کی طمع کر رہا تھا۔ وہ دنیا ہی تو تھی۔ تو نےاسےہی ٹھکرا دیا۔“ مرید نےسرجھکائےکہا۔ مرشد خادم زروجواہر کا نہیں‘ فقر کا خواہش مند۔“ آپ نےاس کےحق میں دعا کی۔
|