|
سلطان العارفین
حضرت سلطان باہو
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو کی ذات بابرکات ان برگزیدہ ہستیوں میں ایک انفرادی تشخص کی حامل ہی۔ آپ کا عارفانہ کلام تین صدیاں گزر جانےکےبعد آج بھی دلوں کو عشق خداوندی سےمسحور کرتا ہی۔ خاص کر اس بےچینی اور نفسا نفسی کےدور میں ان کےکلام میں انسانیت کیلئےنہ صرف طمانیت قلبی کا سامان ہےبلکہ صداقت اور خلوص کےراستےپر دوبارہ پلٹ آنےکا پیغام ابدی بھی ہی۔
آپ کی نظر کرم اور توجہ باطنی سےبےشمار طالبان حق خدا رسیدہ ہو گئی۔ آپ کی نظر عنایت اور توجہ باطنی کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ آپ ایک ہی نگاہ سےجاہل کو عالم اور مردہ دل کو زندہ دل‘ روشن ضمیر اور کامل ولی اللہ بنا دیتےتھی۔ کسی دنیادار کونظر بھر کر دیکھتےتو اسےدل کی دنیا میں آباد کر دیتےاور دولت آخروی سےمالامال کر دیتی۔ اگر کسی غیر مسلم پر آپ کی نظر التفات پڑ جاتی تو اسےکلمہ طیبہ پڑھ لینےکےسوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اسی طرح ہزاروں غیر مسلم محض آپ کی نظر لطف و کرم سےحلقہ بگوش اسلام ہوئی۔
آپ کا وصال مبارک 63 برس کی عمر میں 1102ھ بمطابق 1694ءمیں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک ضلع جھنگ تحصیل شورکوٹ میں تھانہ گڑھ مہاراجہ سےچار کلومیٹر کےفاصلہ پر دریائےچناب سےجنوب مغرب کی طرف ایک گائوں میںواقع ہےجو آپ ہی کےاسمِ مبارک یعنی موضع سلطان باہو سےموسوم ہی۔ یہ دربار شریف ایک عالیشان محل کی صورت میں اعلیٰ کانسی گری کےفن کا ایک شاندار نمونہ ہےجو پرانےدربار شریف سےشمال مغرب میں صرف چار فرلانگ کےفاصلہ پر تعمیر ہواہی۔
حضرت سلطان العارفین سلطان باہو کی خانقاہ مرکز تجلیات و انوار ربانی ہی‘ جہاں ہزارہا خلق خدا شب و روز حاضری دےکر روحانی تشنگی دور کرتی ہی۔ عالم تصوف میں حضرت سلطان باہو نےایک سو سےزائد کتابیں فارسی زبان میں تحریر فرمائی ہیں۔ آپ کی تصانیف کی سب سےبڑی خوبی یہ ہےکہ پڑھنےکےساتھ ہی ان کی تاثیر بھی شروع ہو جاتی ہےاور ان میں سےکسی ایک کا بلاناغہ مطالعہ ہی طالب حقیقی کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہی۔
اپنی تصنیف لطیف ”اورنگ شاہی“ (جو بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کیلئےلکھی گئی تھی) میں ارشاد فرماتےہیں:
”جو اس رسالہ کو پڑھےگا اللہ تعالیٰ اس کا مطلب و مقصود پورا کر دےگا اور وہ دنیا و آخرت میں لامحتاج رہےگا‘ بلکہ اس رسالہ کامطالعہ عین فرض ہی‘ کیونکہ یہ مجلس محمدی ا کےحضور میں پہنچا دیتا ہی۔“
پس جو شخص اسےمحبت اور خلوص سےپڑھےگا‘ اسےظاہری مرشد کی ضرورت نہیں رہےگی‘ کیونکہ اس کےمطالعہ سےہمیشہ کیلئےلوح محفوظ منکشف ہو جاتی ہی۔
حضرت سلطان باہو کی سردست تقریباً 32 فارسی میں قلمی کتب ملتی ہیں۔
-1 رسالہ رومی شریف -2 دیوان باہو (فارسی مرتبہ)
-3 شیخ برھنہ -4 کلید التوحید خورد
-5 گنج الاسرار -6 فضل اللقائ
-7 مجالسنتہ النبی ا -8 کشف الاسرار
-9 اورنگ شاہی -10 کلید جنت
-11 اسرار القادری -12 توفیق الہدایت
-13 محبت الاسرار -14 دیدار بخش خورد
-15 دیدار بخش کلاں -16 عین العارفین
-17 عین الفقر -18 قرب دیار
-19 محکم الفقرائ -20 مفتاح العارفین
-21 عقل بیدار -22 نور الہدیٰ خورد
-23 نور الہدیٰ کلاں -24 محک الفقر خورد۔
|