|
سلطان العارفین
حضرت سلطان باہو
حضرت سلطان العارفین کا مسلک اورعقیدہ اہلسنت و الجماعت کا ہےاور طریقہ قادریہ سروریہ سےآراستہ ہےاور آپ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ کی فقہ کےپیرو ہیں۔ آپ کی تصانیف سےفلسفہ وجود و شہود میں ہم آہنگی ملتی ہی۔ آپ کےکلام میں درد‘ عشق‘ تلقین شرع و عرفان نمایاں ہی۔ آپ کےنزدیک علم اصل وہ ہی‘ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچا دےاور دل کو محبوب حقیقی کی تجلی گاہ بنا دی۔
آج کےروحانیت سوز ماحول میں جبکہ انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر مادیت کےفروغ نےبالآخر انسان کی باطنی شخصیت کوشکست و ریخت کا شکار بنا دیا ہی‘ ہر طرف انتشار‘ کج روی اور بےراہ روی کی ایک لہر دوڑ رہی ہےاورمسلمان ہمہ گیر زوال سیرت میں مبتلا ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ راہ راست سےبھٹکی ہوئی انسانیت کو پھر سےرحمت اللعالمین ا کےچشمہ فیض کی طرف متوجہ کیا جائےاور اتباع سنت و پیروی شریعت کو ملک میں فروغ دینےکیلئےسلطان العارفین حضرت سلطان باہو اور دیگر اولیائےکرام کےحقیقی مشن کو عالمی سطح پر جاری و ساری کیا جائےاور اس سلسلہ میں منظم انقلابی تحریک چلائی جائی‘ جس کا منتہائےمقصود حضورا کی محبت و اتباع کےجذبہ کو ایک زندہ اور فعال قوت بنا کر مردہ دلوں کو ذوق رہبری سےسرشار کرنا ہو
قوت عشق سےہر پست کو بالا کر دی
دھر میں اسمِ محمدا سےاجالا کر دی
حقیقت ہےکہ آپ کےفیوض کا چشمہ آپ کےوصال کےبعد بھی لوگوں کی پیاس بجھاتا رہا لوگ فیضیاب ہوتےرہی۔ مثلاً ڈیرہ اسماعیل خان کےحاکم ہوت بلوچ کا واقعہ اس کی نشاندہی کرتا ہےوہ کم عقل شخص ایک خوبصورت لڑکےپر فریضة ہو گیا اور اس کےساتھ شادی کا ارادہ کر بیٹھا۔ لوگوں کےلعن طعن سےبچنےکی خاطر اس نےمولویوں سےفتویٰ لینےکی ٹھانی۔ قرعہ فال نور محمد موچی کےنام پڑا جو سلطان باہو کےسلسلےسےتھی۔ اس نےمولانا نور کو بلایا اور قتل کی دھمکی دےکر اپنےحق میں فتویٰ دینےکیلئےکہا لیکن وہ انتہائی بےخونی سےکہنےلگی۔ ”ہوش میں آ بدمست شخص‘ مرد کیلئےلڑکی سےبیاہ حلال ہےتو لڑکےسےشادی رچانےچلا ہی۔ کیوں خود پر ظلم کرتا ہی۔ حرام کام سےباز آ۔“
ہوت بلوچ کو اس جواب کی امید نہ تھی وہ غصےسےآگ بگولہ ہو گیا اور آپ کو گرفتار کر کےجیل میں ڈال دیا۔ ساتھ ہی جتا دیا کہ سورج کی روشنی تبھی دیکھ سکو گےجب میرےحق میں فتویٰ دینےکیلئےخود کو آمادہ پائو۔ مولانا نورمحمد نےاسےتو کوئی جواب نہ دیا‘ البتہ قیدخانےپہنچ کر جہاں اللہ سےمدد مانگی وہاں پنجابی میں ایک نظم فریادی لہجےمیں لکھ کر سلطان باہو کی روح سےرجوع کیا اور اس کی فریاد رائیگاں نہ گئی۔ ہوت بلوچ‘ شاہی فوجیوں کےہاتھوں معزول ہو کر قیدخانےمیں ہی چل بسا جبکہ نورمحمد آزاد کر دیئےگئی۔
|