|
حضرت الحاج خواجہ صوفی نواب الدین
پھر ارشاد فرمایا۔۔۔۔ ”صوفی صاحب موہری شریف کی بستی میں قیام رکھیں اور مخلوقات خدا کو ذکر کرائیں۔ آپ کی تربیت مکمل ہو چکی ہی۔ آپ کی پرواز دنیا دیکھےگی۔“
آپ نےعرض کیا۔یہ بستی مین سڑک سےہٹ کر ہےاور وہاں بہت سےمسائل ہیں۔ میں کسی شہر میں اپنا قیام رکھ لوں گا۔“ تو پیرو مرشد نےفرمایا۔۔۔۔“ صوفی صاحب اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہےکہ آپ موہری شریف ہی میں قیام کریں اور اس علاقہ کو ذکر حق کی برکت میں منور کریں۔
بعدازاں آپ صوبہ سرحد میں کھجوری اور پشت مارا کےمقامات پر بھی تشریف لےگئی۔ جب آپ وہاں سےواپس راولپنڈی تشریف لائےتو کثیر تعداد میں لوگ آپ کےدست حق پرست پر بیعت ہو کر حلقہ میں داخل ہو چکےتھی۔
صوبہ سرحد کےقیام کےبعد آپ نےموہری شریف کو اپنا مسکن بنایا اورملک کےطول و عرض میں سلسلہ عالیہ کی توسیع کیلئےاسلامی اور روحانی سفر کئی۔ دیکھتےہی دیکھتےآپ ہزاروں انسانوں کی ذہنی سیادت اور قلبی ارادت کا محور بن گئی۔ آپ کےآستانےپر علمائ‘ شرفائ‘ امرائ‘ خطبائ‘ شعرا‘ حکمائ‘ وکلاءاور عوام الناس گویا ہر درجہ کےلوگ حاضری دیتی۔
آپ کافی عرصہ تک بستی کےمغرب میں واقع جنگل میں مراقبہ عبادت و ریاضت میں مشغول رہی۔ آپ ہی مسجد کی صفائی پانی بھرنا اذان اور نماز پنجگانہ کااہتمام فرماتی۔ ہر آنےوالےمہمان کی بڑی فراخدلی سےتواضع فرماتی۔ وقت ذکرالٰہی اور مخلوقات کی اصلاح میں گزرنےلگا۔
آپ نےمجالس و محافل‘ تبلیغی اور روحانی دوروں سےہر طرف روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ اذہان و قلوب کو بدل دیا۔ دنیاداروں کو دین دار بنا دیا۔ ایک دن میں متعدد پروگرام ہوتی۔ روحانیت کےنام سےناآشنا لوگوں کو اہل دل بنا دیا۔ آ پ نےصحرائوں‘ جنگلوں‘ پہاڑوں میدانوں اور ویرانوں کو اپنی راہ میں حائل نہ ہونےدیا۔ سفر میں ہر قسم کےذریعےکو استعمال میں لاتےہوئےآپ ہر جگہ پہنچی۔ آپ کی مقناطیسی شخصیت پنجاب کےلہلہاتےکھیتوں سرحد کےپہاڑوں اور سندھ کےصحرائوں کےمکینوں کیلئےقرار و اطمینان کا باعث بن گئی۔ آپ نےدین مصطفوی کو علم و عمل صدق و اخلاص صبرو رضا اور کمال ہمت و استقلال کےساتھ پیش کیا جو بھی حاضر ہوتا فیض یاب ہو کر جاتا۔
آپ انتہائی شفیق حلیم الطبع اور پیکر اخلاق تھی۔ چہرےسےجمال اور وقار جھلکتا تھا۔ طبیعت میں سادگی کا عنصر غالب تھا تکلفات کو پسند نہ فرماتےتھی۔
آپ 14 جون 1956ءکو حج بیت اللہ شریف و زیارت روضہ¿ رسول کیلئےتشریف لےگئی۔ آپ کےہمراہ 313 افراد تھےاور یہ قافلہ بذریعہ ٹرانسپورٹ روانہ ہوا۔ اس قافلہ میں آپ کےجلیل القدر صاحبزادےحضرت خواجہ محمد معصوم بھی آپ کےساتھ تھی۔
مدینہ منورہ میں قیام کےدوران حضرت نبی اکرم ا کی اجازت خاص سےآپ نےاپنےصاحبزادےحضرت خواجہ محمد معصوم صاحب کو خلافت کی اجازت عطا فرمائی اور ان کی دستاربندی کےبعد خصوصی دعائوں سےنوازا۔ علاوہ ازیں آپ نےحضرت خواجہ محمد معصوم کو اپنا نائب بھی مقرر فرمایا۔
آپ کو غوث زماں حضرت حافظ محمد عبدالکریم کی طرف سےظاہری اور باطنی نسبت اور فیض کےصدقہ امام ربانی خزینہ حضرت الشیخ احمد مجدد الف ثانی کےساتھ خصوصی روحانی نسبت بھی غالب تھی اور حضرت مجدد کی روحانیت سےآپ کےباطن پر متواتر فیوض و برکات ہوتےرہتےآپ حضرت مجدد پاک کی محبت و کمالات میں اس قدر مستغرق تھےکہ اخلاق محمدیہ و کمالات مجددیہ کےمظہر بن گئےتھی۔ آپ کو اپنےشیخ و مرشد قبلہ حافظ محمد عبدالکریم سےجو حسن عقیدت اور محبت و اخلاص تھا وہ بھی ایک مثالی حیثیت کا حامل تھا اور قبلہ حافظ جی صاحب کو جو خاص رابطہ قلبی اور الفت آپ سےتھی وہ بھی بےمثل تھی گویا پیرومرید ایک دوسرےپر شیدا تھی۔
|