|
حضرت الحاج محمد معصوم (موہری شریف)
حسن کردار کےساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نےآپ کو حسن صورت بھی عطاءفرمایا تھا آپ دراز قد اور مضبوط جسم کےمالک تھےریش مبارک گھنی اور پھیلی ہوئی تھی کشادہ پیشانی موٹی نیلگوں آنکھیں لمبےکھلی ہتھیلی والےریشمی ہاتھ‘ رنگت نہایت سفید اور چہرہ پرنور تھا جو بھی دیکھتا اثر قبول کئےبغیر نہ رہ سکتا جہاں تک کہ انگریز بھی آ پ کی آنکھوں کی نورانیت میں جاذبیت محسوس کرتےتھےآپ کی آنکھوں میں بلا کا اعتماد اور چمک تھی دوستوں کےساتھ آپ کا خلق اور محبت اس قدر تھی کہ ہر کوئی یہی سمجھتا تھا کہ جو محبت میرےساتھ ہےوہ کسی دوسرےکےساتھ نہیں۔
آپ خوش خوراک ہونےکےساتھ ساتھ سادہ خوراک بھی پسند کرتےتھی۔ آپ نےنہ صرف پاکستان کےدوردراز علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا بلکہ ہندوستان میں دہلی‘ اجمیرشریف‘ سرہند شریف اور دیگر شہروں کا طویل سفر بھی فرمایا اور سینکڑوں لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔ آپ نے1973ءسےمسلسل ہر سال حج مبارک کی سعادت حاصل کی۔ اپنی زندگی میں 35 عمرےکئی۔
آپ گھنٹوں مراقبےمیں رہتےسخت سردیوں میں بھی آپ کےپسینےچھوٹ جاتی۔ آپ نےاپنےمریدوں کی ایسےمنفرد انداز میں تربیت فرمائی کہ ہر ناواقف بھی دیکھ کر بےساختہ پکار اٹھتا ہےکہ کیا آپ کا موہری شریف سےتعلق ہےچہار کلی سفید ٹوپی ہر مرید کےسر کا تاج ہی۔
20 سال پہلےپیر سپاہی کےنام سےایک شخص لوگوں کےذہنوں دل پر وارد ہوا۔ جس کی ایک پھونک سےہزاروں لوگوں کی مرادیں اور بیماریاں دور ہو جاتی تھیں۔ ایک دن جب آپ ملتان تشریف لےگئےتو کسی عقیدت مند نےپیر سپاہی کی شہرت کےبارےمیں آپ کو آگاہ کیا۔ آپ نےعقیدت مند کی بات سن کر فرمایا کہ پیر سپاہی بھی آجائےگا۔ آپ کےارشاد کےکچھ دیر بعد پیر سپاہی قدم بوسی کیلئےحاضر ہوا۔ آپ نےاس کی قلبی کیفیت کےبارےمیں چند سوال کئےاور چند نصیحتیں فرمائیں جس سےمتاثر ہو کر پیر سپاہی آپ کےحلقہ ارادت میں شامل ہو گیا۔ بلکہ یہ کہا کہ اب میں پیر سپاہی نہیں ہوں مرید سپاہی ہوں۔
ایک برطانوی سکالر مسٹر پال نےآپ کےلندن قیام کےدوران آپ سےچند سوالات کئی۔ ٹھوس جواب ملنےکےبعد مسٹر پال آپ کےدست مبارک پر مسلمان ہو گیا اور اب اس کا نام صوفی محمد عمر ہی۔
ایک امریکی صحافی کرسٹینا بھی آپ کےدست مبارک پر مسلمان ہوئی جس کا اب نام عائشہ بی بی ہی۔ اس طرح بےشمار واقعات ایسےہیں جن میں یہودی اور عیسائی آپ کےدست مبارک پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتےرہی۔
آپ نےتبلیغ دین کےلئے1961ءمیں مشرقی پاکستان 1964ءمیں بھارت ‘ 1984, 1982, 1980, 1979, 1973 میں یورپ کا دورہ کیا اور ہزاروں غیر مسلم افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔
1985ءمیں متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ کویت‘ قطر‘ عراق۔ 1986ءمیں امریکہ اور یورپ کا دورہ کیا۔
1987ءمیں ایک بار پھر متحدہ عرب امارات‘ یورپ تبلیغی نقطہ نگاہ سےگئی۔
1993ءمیں برطانیہ‘ ہالینڈ‘ جرمنی‘ ناروی‘ ڈنمارک کا بھی تفصیلی دورہ کیا۔ عالمی مبلغ اسلام کی حیثیت سےالحاج خواجہ محمد معصوم کا بیرون ملک یہ آخری دورہ تھا۔
اکتوبر 1993ءکو جب آپ اپنےغیرملکی دورےسےواپس لاہور پہنچےتو طبیعت ناساز ہو
گئی۔ 20 اکتوبر کی صبح آپ موہری شریف جلوہ افروز ہوئی۔ تکلیف کم ہونےکی بجائےبڑھتی
ہی جارہی تھی۔ 23 اکتوبر کو سی ایم ایچ ہسپتال کھاریاں میں ماہر معالجین نےآپ کا
معائنہ کیا اور ہسپتال میں داخل کر لئےگئی۔ لیکن بیماری کی شدت کو دیکھتےہوئےآ پ
بذریعہ ہیلی کاپٹر عمر ہسپتال لاہور پہنچایا گیا۔
|