|
حضرت الحاج محمد معصوم (موہری شریف)
عمر ہسپتال پہنچ کر طبیعت جب مزید خراب ہو گئی تو آپ کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں انتہائی نگہداشت کےیونٹ میں آپ کا علاج ہوا۔ پانی طلب کرنےپر آپ کو دو تین مرتبہ آب زم زم پیش کیا گیا۔ بالآخر 3 نومبر 1993ءصبح سات بجےآپ کی روح انور قفس عنصری سےپرواز کر گئی۔ ”اناللہ واناالیہ راجعون۔“ بےشک ہم سب اللہ کیلئےہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانےوالےہیں۔
زندگی کےدوران آپ کا ہمیشہ یہ معمول رہا کہ آپ جب بھی حج بیت اللہ یا عمرےکی سعادت حاصل کرنےکیلئےارض مقدس تشریف لےجاتےتو گلبرگ لاہور میں اپنےخلیفہ‘ حاجی صوفی محمد آصف کےآستانےپر ضرور قیام فرماتی۔قبلہ محمد آصف سےیہ آپ کی شفقت کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ واپسی پر بھی ان کےگھر پر قیام پذیر ہوتی۔ اس طرح جب آپ نےرحلت فرمائی تب بھی آپ کےجسدخاکی کو عمر ہسپتال لاہور سےسیدھےکھاریاں لےجانےکی بجائےحاجی صوفی محمد آصف کےاسی آستانےپر لےجایا گیا جس آستانےکو آپ ہمیشہ اپنےقیام کیلئےپسند فرماتی۔ اس حوالےسےجب حاجی محمد آصف صاحب سےبات ہوئی تو انہوں نےیہ کہہ کر مجھےمزید حیرت زدہ کر دیا کہ آپ کو جب کھاریاں سےعلاج کی غرض سےعمر ہسپتال لاہور بذریعہ ہیلی کاپٹر منتقل کیا جارہا تھا تو مزاج پرسی کیلئےآنےوالےہر ملنےوالےکو آپ اگلی صبح ساڑھےسات بجےعمر ہسپتال لاہور آنےکی تاکید فرماتی۔ اللہ کےنیک بندوں کی معراج دیکھئےکہ اگلی صبح سات بجےآپ اپنی جان خالق حقیقی کےسپرد فرماتےہیں تو ساڑھےسات بجےہسپتال کےباہر آپ کےمریدوں اور عقیدت مندوں کا جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا۔ اس موقع پر ہر شخص دوسرےکو یہ کہہ کر حیران کر رہا تھا کہ اسےتو خود آپ نےصبح ساڑھےسات بجےہسپتال آنےکیلئےکہا تھا۔ گویا خالق کائنات نےاپنےاس نیک بندےکو سفر آخرت کےوقت سےقبل ازوقت آگاہ کر دیا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اپنےعقیدت مندوں کو صبح ساڑھےسات بجےبلانےکا مقصد کیا تھا۔
آپ کی رحلت کی خبر اندرون او ربیرون ملک جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دور و نزدیک سےمریدین اور عقیدت مندوں کا تانتا بندھ گیا۔ لاکھوں عقیدت مندوں اور مریدوں کی موجودگی میں آپ کو 4 نومبر 1993ءکو سہ پہر 3بجےدربار عالیہ موہری شریف (جو کھاریاں سےڈنگہ روڈ پر 6 کلومیٹر کےفاصلےپر موجود ہی) میں والد گرامی الحاج حضرت خواجہ صوفی نواب الدین کےپہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔ یہ جگہ آپ نےاپنی زندگی میں ہی تدفین کیلئےپسند فرمائی تھی۔
آج بھی آپ کا مرقد مبارک مرجع خلائق ہی۔
|